Home / اسلام / عھدِ رسالت کے جاسوسی اِدارے !

عھدِ رسالت کے جاسوسی اِدارے !

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
الماٸدہ ، اٰیات 41 تا 43 🌹
عھدِ رسالت کے جاسوسی اِدارے !! 🌹
ازقلم📕 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 یٰایھاالرسول
لا یحزنک الذین یسارعون فی
الکفر من الذین قالوااٰمنا بافواھھم ولم تٶمن
قلوبھم و من الذین ھادوا سمٰعون للکذب سمٰعون لقوم
اٰخرین لم یاتوک یحرفون الکلم من بعد مواضعہ یقولون ان اوتیتم
فخذوہ وان لم تٶتوہ فاحذروا ومن یرداللہ فتنہ فلن تملک لہ من اللہ شیٸا اولٰٸک
الذین لم یرداللہ ان یطھر قلوبھم لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الاٰخرة عذاب عظیم 41 سمٰعون
للکذب اکٰلون للسحت فان جاٸوک فاحکم بینھم او اعرض عنھم وان تعرض عنھم فلن یضروک شیٸا وان حکمت
بینھم بالقسط ان اللہ یحب المقسطین 42 وکیف یحکمونک وعندھم التورٰة فیھا حکم اللہ ثم یتولون من بعد ذٰلک ومااولٰٸک
بالمٶمنین 143
اے ھمارے سفارت کارِ جہان ! کُفر میں تیز رَفتاری دکھانے والوں کی تیز رَفتاری سے آزردہ دِل نہ ھو ، چاھے یہ تیز رَفتاری دکھانے والے وہ لوگ ھوں جو اِس اَمر کا اَز خود اقرار کر چکے ہیں کہ وہ زبان کے مومن اور دِل کے کافر ہیں یا پھر وہ نام نہاد اہلِ ھدایت ھوں جو ایک دُوسری قوم کے مُخبر بن کر آپ کی مجالس میں کن سوٸیاں لینے کے لیۓ آتے ہیں ، اِن کی وہ جاسوس جماعت بھی آپ کے پاس پُہنچنے والی ھے جس میں شامل ھوکر آنے والے جُھوٹے افراد اَلفاظ کا سیاق و سباق بدلنے میں مہارت رکھتے ہیں اور وہ اپنے جاسوسی اسکرپٹ Script کے مطابق اپنے ساتھیوں کو یہ تربیت دیتے ہیں کہ تُم نے ھماری تعلیم و تربیت کے مطابق کہاں پر کون سی بات کہنی ھے اور کس طرح سے کہنی ھے ، یہ فتنہ پرور جماعت فتنہ پروری کا یہ کام اِس دِل جمعی کے ساتھ کرتی ھے کہ گویا خود اللہ نے اِن کو اِس کارِ فتنہ کاری پر مامُور کیا ھوا ھے اور آپ کے پاس اِن کے زہر کا کوٸ تریاق نہیں ھے ، چونکہ اللہ کا اِن بَد بختوں کو حق کی طرف لانے کا ارادہ نہیں ھے ، اِس لیۓ دُنیا میں بھی اِن کے لیۓ خسارہ ہی خسارہ ھے اور آخرت میں بھی اِن کے لیۓ خرابی ہی خرابی ھے ، اگر یہ جُھوٹ سُننے اور حرام کھانے والے لوگ اپنے مقدمات لے کر آپ کے پاس آٸیں تو آپ کو اِختیار ھے کہ اِن کے مقدمات سنیں یا نہ سُنیں ، اگر آپ اِن کے مقدمات نہیں سنیں گے تو یہ آپ کا کُچھ نہیں بگاڑ سکیں گے لیکن اگر آپ اِن کے مقدمات سُننے کا فیصلہ کرلیں تو پھر اپنی عدالتِ انصاف سے اِن کو ایک بے لاگ اور مثالی انصاف دیں کیونکہ ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ کو عدل بھی محبوب ھے اور اِہلِ عدل بھی محبوب ہیں ، ہر چند کہ اِن لوگوں کے پاس تورات کا قانون موجود ھے لیکن یہ اپنے مقدمات اِس لیۓ آپ کے پاس لاتے ہیں تاکہ آپ پہلے فیصلہ کریں اور یہ آپ کے فیصلے کے بعد آپ کے فیصلے سے اعراض کرکے اللہ کے سامنے اپنے اِس جُرم کا اقرار کر لیں کہ اللہ پر اِن کا ایک راٸ بَھر ایمان اور اللہ کے قانون پر اِن کا ایک سرساٸ بَھر بھی اعتماد نہیں ھے !
🌹 دعوتِ حق اور دعوتِ حق کی شراٸط ! 🌹
اللہ کی اَزلی سُنت یہ رہی ھے کہ اُس نے زمین پر اپنے جس نبی کو بھیجا ھے اُس کو اِس وعدے اور معاھدے کا پابند بنا کر بھیجا ھے کہ تُمہارے کارِ نبوت کا جو اَجر ھے وہ تُم کو صرف اللہ نے دینا ھے اور تُم نے وہ اَجر صرف اللہ سے لینا ھے ، اللہ اور اُس کے انبیا ٕ کے درمیان ھونے والے اِس قول و قرار کا باعث یہ تھا کہ زمین پر جب بھی حق کا کوٸ داعی ، حق کی دعوت دینے آتا ھے تو انسان ایک فطری و جبلی احساس کے تحت سب سے پہلے اُس دعوتِ حق کے حوالے سے اُس داعیِ حق کے ذاتی مفادات کا جاٸزہ لیتا ھے ، اگر حق کا وہ داعی اپنی کسی دیدہ و نادیدہ غرض کے لیۓ حق کی دعوت دیتا ھے تو ہر انسان جان جاتا ھے کہ جو شخص اُس کو اللہ کے پیغام بَر کے طور پر اللہ کی طرف سے لاۓ ھوۓ پیغامِ حق کی دعوت دے رہا ھے وہ ایک دوکان دار ھے اور وہ دوکان دار اِس پیغامِ حق کو اپنے اشتہار کے طور پر استعمال کر رہاھے اور جو شخص قوم سے کسی ہدیۓ یا نذرانے کا رَوادار نہیں ھوتا وہی پیغامِ حق کا سَچا علَم بردار ھوتا ھے ، یہی وجہ ھے کہ سُورةُ الشعرا ٕ کی اٰیت 109 کے مطابق سیدنا نُوح علیہ السلام نے اللہ کے ساتھ ھونے والے اپنے اِس قول و قرار کے مطابق اپنی قوم کے سامنے یہ اعلان کیا کہ { مااسٸلکم علیہ من اجران اجری الا علٰی رب العٰلمین } میں تُم سے اپنے لیۓ کسی اجر کا طلب گار نہیں ھوں ، مُجھے میرے کام کا اجر ، اللہ رب العالمین دیتا ھے اور میں اپنے کام کا اَجر اللہ رب العالمین کے سوا کسی سے بھی نہیں لیتا ، اِن کے بعد سُورةالشعرا ٕ کی اٰیت 127 کے مطابق عاد علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی اعلان کیا ، سورةالشعرا ٕ کی اٰیت 145 کے مطابق ثمُود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی اعلان کیا ، سورةالشعرا ٕ کی اٰیت 164 کے مطابق لُوط علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی اعلان کیا اور سورةالشعرا ٕ کی اٰیت 180 کے مطابق شعیب علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی اعلان کیا ، یہاں تک کہ سیدنا محمد علیہ السلام دُنیا میں تشریف لاۓ تو سورةالفرقان کی اٰیت 57 کے مطابق اللہ نے آپ کو بھی اسی اعلان کا اعادہ کرنے کا حکم دیا اور آپ نے بھی اللہ کے حکم کے مطابق یہی اعلان کیا اور اِس اعلان سے یہ بات ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ طے ھوگٸ کہ حق کی دعوت دینے والا ہر نبی اور ہر رسول اللہ کا پیغامِ حق سُنانے کے لیۓ اہلِ زمین کی طرف سے ملنے والے کسی معاوضے کا طلب گار نہیں ھوتا اور اِسی پہلے اُصول سے یہ دُوسرا اُصول بھی خود بخود طے ھو گیا کہ انبیا و رُسل کے بعد اَفرادِ اُمت میں سے جو شخص بھی دینِ حق کی دعوت دے گا اُس کو اسی اُصول اور اسی معاھدے پر عمل کرنا ھوگا ، اگر وہ انسانوں سے کوٸ اجر لیۓ بغیر دینِ حق کی دعوت دے گا تو اِس کی دعوت کی ایک حسیں تعبیر ظاہر ھوگی اور جو شخص قوم سے کوٸ معاوضہ و اجر لے کر حق کی دعوت دے گا تو اُس کی دعوت بے تاثیر ھو گی اور یہی بات اُس کے بے تاثیر ھونے کی دلیل ھو گی اُس کی دعوت قوم میں اتحاد کے بجاۓ اختلاف کا باعث بنے گی اور وہ ایک فرقہ پرست جماعت کا فرقہ پرست رہنما بَن کر رہ جاۓ گا ، انسانی تاریخ گواہ ھے کہ جب سے اللہ کی زمین پر دین کی دعوت ایک لین دین کی دعوت بنی ھے تَب سے لین دین بڑھ گیا ھے اور دین کی دعوت گَھٹ کر اور گُھٹ کر رہ گٸ ھے !
🌹 داعیِ حق اور دعوتِ حق کی عملی مُشکلات ! 🌹
اِس بات میں کوٸ شُبہ نہیں ھے کہ اللہ تعالٰی نے انبیا علیھم السلام میں سے جس نبی کو جتنا بڑا کام دیا تھا اُس کو اتنا ہی بڑا ظرف اور حوصلہ بھی عطا فرمایا تھا لیکن اِن سب عظمتوں اور رفعتوں کے باوصف وہ تمام اَنبیا و رُسل گوشت پوست سے بنے ھوۓ انسان تھے اور انسان کے طور پر جب اُن کو انسانوں کے درمیان حق کا پیغام زیادہ تیزی کے ساتھ پنپتا نظر نہیں آتا تھا تو وہ آزردہ و افسردہ ھو جاتے تھے اور جب کبھی وہ حق کے مقابلے میں باطل کو بَڑھتے دیکھتے تھے تو اُن کی پریشانی اور بھی سوا ھو جاتی تھی ، اٰیاتِ بالا میں کسی ایسے ہی موقعے کا بیان ھوا ھے کہ جب سیدنا محمد علیہ السلام دیکھ ر ھے تھے کہ اسلام کی طرف آنے والے لوگ تو کم کم آ رھے ہیں مگر کفر کی طرف کی طرف بڑھنے والے لوگ موج دَر موج ھو کر اور فوج دَر فوج بن کر کفر کی لَپک رھے ہیں جس سے آپ آزردہ و دِل افسردہ ھو رھے تھے اور اللہ تعالٰ نے آپ کو یہ تسلی دی تھی کہ آپ اپنے اِرد گرد کے بسنے والے مُشرکوں اور منافقوں کی اُن وقتی تُرک تازیوں سے پریشان نہ ھوں جو آپ کو نظر آرہی ہیں بلکہ آپ اُس جاسوس جماعت سے نمٹنے کی تیاری کریں جو کذب و ریا کی سیاست اور دروغِ بے فروغ کی سفارت کے ساتھ آپ کے پاس آرہی ھے ، وہ جماعت آپ کے پاس آنے کے بعد جن دینی و سیاسی یا معاشی و معاشرتی مساٸل پر آپ کی راۓ لینا چاھے ، آپ چاہیں تو اُس کی بات سنیں اور نہ چاہیں تو ہر گز نہ سنیں لیکن اگر حالات کے مطابق آپ اُس کی بات سنیں اور پھر اُس کی کسی بات پر کوٸ فیصلہ دینا چاہیں تو ایک بے لاگ فیصلہ دیں تاکہ اُس کو نبوت کا فکری معیار اور ڈپلومیسی کا عقلی اضطرار صاف صاف نظر آجاۓ ، قُرآنِ کریم کے اِس سلسلہِ کلام کا کلیدی پیراۓ اظہار اِس کے اَلفاظ ” سمٰعون للکذب اکٰلون للسحت “ میں ھے اور اِس پر مفسرینِ عجم نے جہالت کی عجیب و غریب گوہر افشانیاں فرماٸ ہیں لیکن اُن کی یہ سیدھی سی بات سمجھ نہیں آٸ کہ ہر زمین اور ہر زمانے کے سفارت کار اِس خیال سے جُھوٹ کے اَنبار اُٹھاۓ پھرتے ہیں کہ اُن کے ساتھ جو شخص جو بات کرتا ھے وہ ایک جُھوٹی بات کرتا ھے اور اُنہوں نے بھی جس شخص سے جو بات کرنی ھے وہ بھی ایک جُھوٹی بات ہی کرنی ھے لیکن اُن کو کیا معلوم تھا کہ وہ جس محمد بن عبداللہ کی مجلس میں آۓ ہیں وہ محمدالرسول اللہ ھے اور اُس کے دربار میں صرف سچ کا گزر ھوتا ھے جُھوٹ کا گزر نہیں ھوتا ، چناچہ اُن کے اِرادے خاک میں ملانے کے لیۓ اللہ تعالٰی اپنے رسول کو اُس جماعت کی آمد کی پیشگی اطلاع دینے کے علاوہ یہ بات بھی بتادی کہ آپ کے پاس آنے والے یہ سیاست کار حرام کھانے والے وہ پُرانے عادی حرام خور ہیں جُھوٹ جن کے خُون میں خُون بَن کر شامل ھوچکا ھے لیکن وہ تربیت یافتہ جُھوٹے جب آپ کی نبوت کے نُور میں آٸیں گے تو اُن کے جُھوٹ کے سارے چراغ گُل ھو جاٸیں گے ، قُرآن کی اِسی تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ھوجاتی ھے کہ اللہ تعالٰی وقتا فوقتا اپنے رسول کو حالاتِ حاضرہ کے بارے میں جو آگاہی دیتا تھا ، اُس آگاہی کا واحد ذریعہ بھی صرف قُرآن تھا ، کوٸ وحی غیر متلو اُس کا ذریعہ ہرگز نہیں تھی !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے