Home / اسلام / قانُونِ تورات کی رَاہ اور روشنی !!🌹

قانُونِ تورات کی رَاہ اور روشنی !!🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( الماٸدہ ، اٰیات 44 ، 45 ))) 🌹
قانُونِ تورات کی رَاہ اور روشنی !!🌹
ازقلم 🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 اناانزلناالتورٰة
فیھا ھدی و نور یحکم بھا
النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا
والربٰنیون والاحبار بمااستحفظوامن کتٰب
اللہ وکانوا علیہ شھدا ٕ فلاتخشوالناس واخشون
ولاتشترواباٰیٰتی ثمنا قلیلا ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاو
لٰٸک ھم الکٰفرون 44 وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس والعین
بالعین والانف بالانف والاذن بالاذن بالاذن والسن بالسن والجروح قصاص
فمن تصدق بہ فھوکفارة لہ ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاولٰٸک ھم الظٰلمون 45
ھم نے بنی اسراٸیل کے لیۓ تورات کا جو قانون نازل کیا تھا اُس میں انسانی حیات کے لیۓ ایک راہ بھی مقرر کی گٸ تھی اور اُس راہ پر چلنے والوں کے لیۓ ایک روشنی بھی رکھی گٸ تھی ، جولوگ اُس قانون کو مانتے تھے اُن کو اُس زمانے کے کُل اَنبیا ٕ ، اُس عھد کے جُملہ اہلِ ھدایت ، اُس دور کے سارے برگزیدہ اَفراد اور اُس وقت کے تمام قباٸلی سردار اِسی فکری راہ اور اِسی رُوحانی روشنی کے تعلیم دینے کے پابند تھے کیونکہ اُن کو قانون کی اِس کتاب کا محافظ اورعاملین کتاب کا شہادت کار بنایا گیا تھا اور اللہ نے اُن کو یہ حکم بھی دیا ھوا تھا کہ تُم نے کبھی بھی کسی انسان کے رُعب میں نہیں آنا بلکہ ہمیشہ میرے اِس قانون کے رُعب میں رہنا ھے اور تُم نے میرے اِن قانونی اَحکام کی خرید و فروخت کر کے اِن کو اپنے روزگار کا ذریعہ بھی نہیں بنانا ، تُم میں سے جو حاکم یا جو قاضی اِس قانونِ نازلہ کے مطابق اپنے فیصلے صادر نہیں کرے گا وہ اِس قانون کا مُنکر قرار پاۓ گا اور ھم نے قانون کی اِس کتاب میں اُن پر جان کے بدلے میں جان ، آنکھ کے بدلے میں آنکھ ، ناک کے بدلے میں ناک ، کان کے بدلے میں کان ، دانت کے بدلے میں دانت اور زَخم کے بدلے میں زَخم کا قانون بھی لازم کردیا تھا لیکن اِس کے ساتھ ساتھ مُفسد لوگوں کے مُفسدانہ اِن اَعمال و اَفعال سے متأثر ھونے والے اَفراد کو یہ اختیار بھی دیا گیا تھا کہ وہ اَز خود کسی کو مُجرم اپنی جاٸز شراٸط کے تحت معاف کرنا چاہیں تو معاف بھی کر سکتے ہیں اور ھم نے اُس قوم کے صاحبِ علم لوگوں پر یہ بات بھی واضح کردی تھی کہ تُم میں سے جو بھی فیصلے کرنے والا انسان اللہ کے اِس قانونِ نازلہ کے مطابق فیصلے نہیں کرے گا وہ نااِنصافی کا مُرتکب اور نااِہلی کا مُجرم قرار دیا جاۓ گا !
🌹 قانُون کی راہ اور قانُون کی روشنی ! 🌹
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے قُدرت کا وہ عُجلت پسند شاہکار ھے جو اپنے مُشاھدے میں آنے والی ہر چیز کا انتہاٸ عُجلت کے ساتھ مُشاھدہ کرتا ھے اور پھر اپنے مشاھدے میں آنے والی ہر چیز کو اسی عُجلت کے ساتھ اپنے علم و تجربے کی چَھلنی سے گزار کر انتہاٸ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ جاتا ھے ، سُوۓ اتفاق یہ ھے کہ قُدرت کے اِس شاہکار کے پڑھنے اور سمجھنے کی بھی یہی صورتِ حال ھے کہ وہ حروف و اَلفاظ کو بھی اتنی تیزی کے ساتھ پڑھتا اور پڑھ کر آگے بڑھتا ھے کہ اَلفاظ کے مطالب نگاہ کے راستے سے گزر کر دِل میں اُترنے کے بجاۓ اِس طرح سے ھوا میں تحلیل ھو کر خلا میں گُم ھو جاتے ہیں ، جس طرح اٰیتِ بالا میں وارد ھونے والے اَلفاظِ ھدایت و نُور اِس کی نگاہ فراموشی کی نذر ھو کر اپنے مفہوم سے دُور ھو چکے ہیں ، اٰیتِ بالا میں وارد ھونے والے پہلے لفظِ ھُدٰی کا معنٰی کسی شٸ کو دیکھنا اور پرکھنا ھوتا ھے ، اسی لیۓ عربوں میں اِس خیال نے تقویت حاصل کی ھے کہ ہُد ہُد کی بصری قوت اتنی زیادہ ھوتی ھے کہ وہ زمین کی تہہ میں چُھپے ھوۓ پانی کو بھی دیکھ سکتا ھے اور اِسی خیال کے تحت عرب جب کسی تیز مُشاھدے والے والے شخص کے مشاھدے کی تعریف کرتے ہیں تو کہتے ہیں { ھوابصر من ھُد ھُد } یعنی اِس شخص کا مُشاھدہ ہُد ہُد کے مشاھدے سے بھی زیادہ قوی تَر مشاھدہ ھے ، اِن اہلِ زبان کا خیال ھے کہ کبُوتر کُو کُو کی جو مُتواتر آواز نکالتا ھے اُس کا مقصد بھی اپنے اِرد گرد کے جانداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ھوتا ھے اور دُلھن کو گھر لانے کے بعد دُلہا کو اُس کے کمرے میں بھیجنے کا مقصد بھی دُلھن کو اِس بات کی تسلی دینا ھوتا ھے کہ جُملہ شرکاۓ شادی اُس کے شریکِ حیات کے ہَمراہ خیر خیریت کے ساتھ گھر پُہنچ گۓ ہیں اور نۓ خاندان کے اِس روایتی عمل کی اَنجام دَہی سے دُلہا اور دُلھن کو بھی ایک دُوسرے کے موجود ھونے کا یقین بالشہُود ھو جاتا ھے ، اسی طرح جب ہَدیہ بھیجنے والا کوٸ انسان اپنے اَحباب کو کوٸ ہَدیہ بھیجتا ھے تو وہ بھی اپنے اِس عمل کے ذریعے اپنے اَحباب کو یہ پیغام دے رہا ھوتا ھے کہ میں خُدا کے فضل و کرم سے تندرست و توانا ھوں ، سیاحت کے لیۓ با جماعت جانے والے دوست جو اپنا اپنا آب و دانہ ساتھ لے کر جاتے ہیں تو اُن کا مقصد بھی اپنے اَحباب کو اِس اَمر کا یقین دلانا ھوتا ھے کہ اُن کا خاندان سلامت ھے اور اُس کی سلامتی کا علامتی اظہار کھانے پینے کا یہ اِہتمام ھے جو اُن کے ساتھ موجود ھے ، اہلِ علم اُس دلیل کو ھدایہ کہتے ہیں جو بولنے والے کے صاحبِ علم و فضل ھونے کی شہادت دیتی ھے ، اسی طرح ھدایہ کا ایک معنٰی بیان ھے جو صاحبِ بیان انسان کے تندرست و توانا ھونے کی شہادت ھوتا ھے ، ھدایہ کا ایک معنٰی وہ روشن دن بھی ھوتا ھے جس کی روشنی ہر ایک سیاہ و سفید شٸ کو الگ الگ کر کے ظاہر کرتی ھے اور ھدایہ کا لفظ اُس لاٹھی کے لیۓ بھی بولا جاتا ھے جس سے ایک نابینا انسان یہ جان سکتا ھے کہ اُس کے راستے میں کوٸ ایسی خطرناک رکاوٹ موجود نہیں ھے جس کی ٹھوکر سے وہ گر کر زَخمی ھو جاۓ گا اور ھدایہ کا یہی لفظ گاھے گاھے انسان کے اُس حُسنِ سیرت کے لیۓ بھی بولا جاتا ھے جو اہلِ بصارت کے لیۓ سُرمہِ بصیرت بَن جا تا ھے !
🌹 علم کی راہ اور علم کی روشنی !🌹
اٰیت ھٰذا میں دُوسرا لفظ نُور ھے جس کا معنٰی روشنی ھے اور روشنی سے مراد محض روشنی کا موجود ھونا نہیں ھوتا بلکہ اِس سے مراد فکر و نظر کی اُس خاص روشنی کا موجود ھونا ھوتا ھے جو شعور و لاشعور اور عدمِ شعور کے اَندھیروں میں بہکنے اور بہٹکنے والے انسانوں کو راستہ دکھاتی ھے اور منزلِ مقصود تک پُہنچاتی ھے ، ھدایت و روشنی کے یہ دو اَلفاظ جب قانون کی کسی کتاب کے لیۓ بولے جاتے ہیں تو اِن کا مقصد بھی قانون کی اِس کتاب کا حُجم ظاہر کرنا نہیں ھوتا بلکہ اس کا مَنشا اِس کتاب سے ملنے والی اُس فکری رہنماٸ کو متعارف کرانا ھوتا ھے جس فکری رہنماٸ کو انسان رہنماۓ راہ بناتا ھے اور وہ رہنما روشنی انسان کے فکر و عمل کی ہر تاریک راہ کو روشن سے روشن تَر بناتی چلی جاتی ھے ، قُرآنِ کریم جب قانونِ تورات کو ھدایت و نُور کہتا ھے تو اُس کا مقصد یہ ھوتا ھے کہ تورات ایسا ہی ایک قابلِ عمل قانونِ زمانہ تھا جیسا ہر زمانے میں ایک قابلِ عمل قانونِ زمانہ ھوتا ھے اور یہ وہی قابلِ عمل قانون تھا جو پہلے زمانے سے مُوسٰی علیہ السلام کے زمانے تک آیا اور پھر مُوسٰی علیہ السلام کے زمانے سے گزر کر سیدنا محمد علیہ السلام کے زمانے تک پُہنچ گیا ، یعنی یہ ایک اَزلی قانون ھے جو اَبد کی طرف بڑھنے والے انسان کے ساتھ ساتھ اَبد کی طرف بڑھ رہا ھے ، اگر ایسا نہ ھوتا تو قُرآن اِس کا حامل اور مُصدق نہ ھوتا ، نتیجہِ کلام یہ ھے کہ اللہ کا قانون زمان و مکان کے ہر لَمحے اور ہر مقام پر موجود ھوتا ھے اور زمان و مکان کے ہر ایک ثانیۓ اور ہر ایک دَورانیۓ میں اِس قانون پر عمل ھوتا ھے اور ھونا چاہیۓ ، قانون کا یہ تسلسل اِس بات کی دلیل ھے کہ قُرآن جو قانون لایا ھے یہ وہی قانون ھے جو ماضی سے اُبھر کر حال میں آیا ھے اور حال سے گزر کر مُستقبل کی طرف جا رہا ھے ، قُرآنِ کریم نے اِس سلسلہِ کلام کی دُوسری اٰیتِ بالا میں بَدلے کا جو قانونِ ماضی اہلِ حال کے سامنے پیش کیا ھے اُس کا مقصد مُستقبل کے انسان کے لیۓ قانون سازی کی ایک بُنیاد فراہم کرنا ھے ، تاکہ مُستقبل کا انسان جب کبھی بھی کوٸ قانون بناۓ اور جو بھی قانون بناٸے وہ قانون ، قانون کی میزان پر ترازُو کے تول کی طرح برابر آٸے اور اُس میں کوٸ ایسا ” لکونا “ نہ رہ جاۓ جو مُستقبل کے کسی لَمحے میں کسی اُلجھن یا اُلجھاٶ کا باعث بَن جاۓ !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے