Home / اسلام / قُرآن اور چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا !

قُرآن اور چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا !

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
الماٸدہ ، اٰیات 38 تا 40 🌹
قُرآن اور چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا !! 🌹
ازقلم 🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 والسارق
والسارقة فاقطعوا
ایدیھما جزا ٕ بماکسبا نکالا
من اللہ واللہ عزیز حکیم 38 فمن
تاب من بعد ظلمہ واصلح فان اللہ یتوب
علیہ ان اللہ غفور رحیم 39 الم تعلم ان اللہ لہ
ملک السمٰوٰت والارض یعذب من یشا ٕ ویغفر لمن یشا ٕ
واللہ علٰی کل شٸ قدیر 40
جو مرد و زَن چوری کرنے والے ھو ں ، اُن دو نوں سے اپنا مال اپنی عقلی تدبیر کے ذریعے دُور رکھنا اور اُن دونوں کو اپنے مال سے اپنی عملی تدبیر کے ذریعے دُور روکنا ، اُن کے غیر مناسب کام کی ایک مناسب سزا ھے ، اگر یہ چور مرد و زَن چوری سے باز آجاٸیں اور اپنی اصلاحِ اَحوال بھی کر لیں تو یہ تُمہاری معاشرتی اور اَخلاقی فتح ھے اور ہر تحقیق سے اِس اَمر کی بھی تصدیق ھوچکی ھے کہ اللہ اپنے بندوں کے لیۓ ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیۓ بیحد خطا پوش اور بیحد رحم پرور ھے ، کیا تُم نے اِس بات پر کبھی غور نہیں کیا کہ زمین و آسمان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنا بھی مال و اَسباب موجود ھے ، وہ سب کا سب اللہ تعالٰی ہی کی ملکیت ھے اور اللہ تعالٰی اپنے مال میں خیانت کرنے والے ہر مُجرم کو سزا دینے اور معاف کر دینے کی پُوری پُوری قُوت و قُدرت رکھتا ھے !
🌹 سرقہ و چوری کا لُغوی و اصطلاحی معنٰی ! 🌹
سرقہ یا چوری اُس پوشیدہ عمل کا نام ھے جس میں اُجرت پر کام کرنے والا کوٸ انسان آجر سے نظر بچا کر اُس کا وقت چوری کرتا ھے یا کوٸ انسان پوشیدہ چشمی سے کسی کے خط و خال سے لَذت کشید کرتا ھے ، اسی لیۓ اِہلِ عرب دُزدیدہ نگاہی کو بھی سرقہ کہتے ہیں ، قانون کی زبان میں عربی کی اصطلاحِ سرقہ اور اُردو کی اصطلاحِ چوری کا مُتعارف معنٰی کسی انسان کا کسی انسان کی کسی مَملوکہ چیز کو نظر بچا کر اپنے قبضے میں لے لینا ھوتا ھے ، اِس لیۓ اِس چوری کی تعریف کی رُو سے جس لَمحے سرقہ کی گٸ چیز سارق کے قبضے میں آتی ھے اُسی لَمحے وہ چیز مالِ مسروقہ اور اُس کا چوری کرنے والا سارق قرار پاتا ھے ، اِس سے قطع نظر کہ وہ چیز اُس سارق کے استعمال میں آٸ ھے یا نہیں لیکن جب تک کوٸ آدمی کسی دُوسرے آدمی کی کسی چیز کو عملی طور پر اپنے قبضے میں نہیں لے لیتا تَب تک قانون کی زبان میں اُس چیز پر چوری ھونے کا اور اُس انسان پر چور ھونے کا اطلاق نہیں ھوتا !
🌹 لَفظِ قطع کے لُغوی معنی ! 🌹
سُورةُالماٸدہ کی اٰیت کی 33 کے ضمن میں آنے والی بحث میں ھم نے لَفظِ ” قطع “ کی لُغوی بَحث سے اِس لیۓ قطع تعلق کر لیا تھا تاکہ موجودہ اٰیت میں آنے والی اور گزشتہ اٰیت میں گزرجانے والی ایک ہی اصطلاحِ ” قطع “ پر ایک ہی مقام پر بات پُوری کر لی جاۓ ، عربی لُغت میں لفظِ قطع کا بُنیادی معنٰی کسی مُشکل کو عبور کرنا ھے اور اِس حوالے سے لَفظِ قطع کا ایک معنٰی دریا عبور کرنا ھے ، دُوسرا معنٰی کسی دلیل کے ساتھ کسی مُشکل علمی مرحلے سے آسانی کے ساتھ گزرجانا ھے ، تیسرا معنٰی کسی مُشکل وقت میں کسی پر کوٸ اِحسان کر کے اُس کو اُس کے مُشکل وقت سے گزار دینا ھے ، چوتھا معنٰی کسی چھڑی یا کسی کوڑے سے کسی کو سزا دے کر اُس کو غلطی کا احساس دلانا ھے ، پانچواں معنٰی کسی سے دوستی کو ختم کرنا ھے ، چھٹا معنٰی حوض کو آدھا بھرنا اور آدھا خالی چھوڑ دینا ھے ، ساتواں معنٰی مالِ تقسیم کے حصے الگ الگ کرنا ھے ، آٹھواں معنٰی مالک کا اپنے ملازموں پر ٹیکس عاٸد کرنا ھے ، نواں معنٰی کسی کا قوتِ گویاٸ سے محروم ھونا ھے ، دسواں معنٰی کسی گہرے زخم یا مُہلک بیماری کے باعث ہاتھ کا جسم سے کٹ کر الگ ھوجا نا ھے ، گیارھواں معنٰی کسی بیماری کے باعث سانس کا رُک رُک کر آنا اور جانا ھے ، بارھواں معنٰی کسی انسان کا کسی خاص وقت پر کسی غیر معمولی صورتِ حال کے باعث مایوس و نا اُمید ھوجا نا ھے ، تیرھواں معنٰی کسی چیز کا دو چیزوں کے درمیان حاٸل ھو کر رکاوٹ پیدا کر دینا ھے ، جبکہ چودھواں معٰنی کسی چیز کا ٹکڑے ٹکڑے ھو جانا ھے ، پندرھواں معنٰی سردی و گرمی کے موسم کا آکر گزر جانا ھے اور یا پھر کسی کا کسی کے ساتھ سلسلہِ جنبانی منقطع ھوجانا ھے ، ظاہر ھے کہ اِس مقام پر یہ سارے معنی مراد نہیں ہیں لیکن ان کے بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ھے کہ قطع کا معنٰی ہاتھ ہی قطع کرنا نہیں ھے بلکہ اِس کے اور بھی متعدد معنی موجود ہیں اور اِس کا جو ہاتھ کاٹنے کا معنٰی ھے وہ بھی ایک ایسا دُور اَز کار معنٰی ھے کہ جس کا نفسِ مضمون سے کوٸ فطری اور فکری تعلق ہی موجود نہیں ھے !
🌹 قُرآنِ کریم میں لفظِ قطع کا 37 بار استعمال ! 🌹
قُرآنِ کریم نے اِس اصطلاح کو مُحولہ بالا دو مقامات کے علاوہ سُورةُالبقرہ کی اٰیت 27 ، 166 ، سُورہِ اٰلِ عمران کی اٰیت 127 ، سُورةُالاَنعام کی اٰیت 45 ، 95 ، سُورةُالاَعراف کی اٰیت 72 ، 124 ، 160 ، 168 ، سُورةُالاَنفال کی اٰیت 7 ، سُورةُالتوبة کی اٰیت 110 ، 121 ، سُورہِ یُونس کی اٰیت 27 ، سُورہِ ھُود کی اٰیت 81 ، سورہِ یُوسف کی اٰیت 31 ، 50 ، سُورةُالرعد کی اٰیت 4 ، 25 ، 31 ، سُورةالحجر کی آیت 65 ، 66 ، سُورہِ طٰہٰ کی اٰیت 71 ، سُورة الحج کی اٰیت 15 ، 19 ، سُورةالمٶمنون کی اٰیت 53 ، سُورةالشعرا ٕ کی اٰیت 49 ، سورہِ نَمل کی اٰیت 32 ، سورةالعنکبوت کی اٰیت 29 ، سورہِ محمد کی اٰیت 15 ، 22 ، سورةالواقعہ کی اٰیت 33 ، سورةالحشر کی اٰیت 5 اور سُورةُالحاقة کی اٰیت 46 میں بھی اِس اصطلاح کا مُختلف صیغ و ضماٸر کے ساتھ استعمال کیا ھے ، قُرآنِ کریم کی اِن تمام اٰیات پر اِس مُختصر بیانیۓ میں الگ الگ بحث کرنا مُمکن بھی نہیں ھے اور مطلوب بھی نہیں ھے لیکن ھم اِن اٰیات کو تین بڑی اقسام میں تقسیم کر کے شاید اپنی بات کو مزید بہتر کر سکتے ہیں ، مثال کے طور پر قُرآنِ کریم نے سورةالبقرہ کی اٰیت 27 ، سورةالاَنعام کی اٰیت 95 اور سورہِ محمد کی اٰیت 22 میں لفظِ قطع کو قطعِ تعلق کے لیۓ استعمال کیا ھے اور ہر عقلمند انسان جانتا ھے کہ تعلقِ خاطر تلوار کے وار ، کُلہاڑے کی ضرب یا چُھری کی دھار سے قطع نہیں کیا جاتا ، اِس قطعِ تعلق کے لیۓ سکوتِ لَب اور ترکِ ملاقات کر لینا ہی کافی ھوتا ھے ، اسی طرح قُرآنِ کریم نے سُورةالاَعراف کی اٰیت 72 ، سورةالاَنفال کی اٰیت 7 اور سورةالحجر کی اٰیت 66 میں لفظِ ” قطع “ کو کسی فتنے کی جَڑ کاٹنے کے معنوں میں استعمال کیا ھے اور یہ بات بھی ہر شخص سمجھ سکتا ھے کہ فتنے کی جڑ کاٹنے کے لیۓ علمی و سیاسی بصیرت ہی سب سے اعلٰی ہتھیار ھے ، فتنے کی جڑ درخت کی جَڑ کی طرح کسی بیلچے یا کُہاڑے کے ساتھ نہیں کاٹی جاتی اور اسی طرح پر سُورةالماٸدہ کی اٰیت 33 ، سورةالاَعراف کی اٰیت 124 ، سورہِ طٰہٰ کی اٰیت 71 اور سورةالشعرا ٕ کی اٰیت 49 میں اہلِ فساد کے مخالف سمتوں سے ہاتھ پیر کاٹنے کا ذکر عربوں کے ایک اُسلوبِ کلام کا ذکر ھے اور اِس سورت کی اٰیت 33 کے سوا باقی تینوں مقامات پر ہاتھ پیر کاٹنے کے اِس قول کو قُرآن نے فرعون کے قول کے طور پر نقل کیا ھے جو اُس زمانے کا ایساہی ایک معروف اُسلوبِ کلام تھا جیسا کہ اِہلِ اُردو کا گُدی سے زبان کھینچ لینا اور بتیسی نکال کر ہاتھ میں دے دینا ایک معروف اُسلوبِ کلام ھے اور جس طرح آج تک کسی نے کسی کو گُدی سے کھینچ کر زبان نکالتے یا بتیسی نکال ہاتھ میں دیتے ھوۓ نہیں دیکھا ، اسی طرح فرعون کی ہاتھ پیر کاٹنے کی دھمکی کو بھی کسی نے عملی طور پر کبھی نہیں دیکھا ، اگر فرعون کے زمانے میں کسی کا سیدھا اور اُلٹا پاٶں یا اُلٹا پاٶں اور سیدھا ہاتھ کاٹا گیا ھوتا تو قُرآن اُس کا ضرور ذکر کرتا اور ایک مناسب و قابلِ فہم تفصیل کے ساتھ ذکر کرتا لیکن قُرآن نے اِس کوٸ ذکر نہیں کیا ھے اور کہیں پر بھی ذکر نہیں کیا ھے !
🌹 قُرآن اور سزاۓ جراٸم ! 🌹
قُرآنِ کریم کا مجموعی مزاج ایک اُصولِ مُطلق کے طور پر جراٸم کے بارے میں مُصلحانہ اور مُجرموں کے بارے میں ہَمدرانہ ھے اور قُرآنِ کریم عادی مجرموں کے سوا کسی کو سزا دینے کی سفارش نہیں کرتا اور جہاں تک موجودہ اٰیت سے ہاتھ کاٹنے کی سزا کشید کرنے کا تعلق ھے تو قُرآنِ کریم نے اِس اٰیت میں مذکورہ مرد کے لیۓ سارق اور متذکرہ عورت کے لیۓ سارقہ کا لفظ استعمال کیا ھے جو اسمِ فاعل ھے اور یہ اسمِ فاعل ایک ایسا اسمِ فاعل ھے جس فاعل فعل اَنجام دینے سے پہلے بھی فاعل ھوتا ھے اور فعل اَنجام دینے کے بعد بھی فاعل ہی ھوتا ھے اور زیرِ نظر اٰیت میں یہ اَمر بہر حال مذکور نہیں ھے کہ جس سارق یا سارقہ کا ذکر ھوا ھے اُنہوں نے یہ فعل اَنجام دیا ھے یا اُن کے بارے میں کسی کو اِس فعل کی اَنجام دَہی کا کوٸ خیال آیا ھے یا کوٸ گمان ھوا ھے ، اِس کا مطلب یہ ھے کہ اِس فعل کا جو فاعل ھے یا اِس فعل کی جو فاعلہ ھے وہ مالِ مسروقہ کی عدم موجود گی وجہ سے تاحال زیادہ سے زیادہ مُشکوک ھے لیکن ایک طے شُدہ مُجرم نہیں ھے ، سلسلہِ کلام سے ظاہر ھوتا ھے کہ یہ ایک تَمثیل ھے جو کسی ادارے میں کام کرنے والے اُس مرد اور اُس عورت کے بار میں ھے جسسے یہ فعل تو سرزد نہیں ھوا ھے بلکہ کسی کے دل میں اُن سے اِس فعل کے سرزد ھونے کا خدشہ پیدا ھوچکا ھے یا کسی کے دل میں اُن کے عادی مجرم ھونے کا ایک گمان جگہ بنا چکا ھے اور قُرآن نے یہ گمان یا بدگمانی دُور کرنے کا یہ مُحتاط طریقہ بتایا ھے کہ مال کو مشکوک افراد کی پُہنچ سے دُور رکھا جاۓ کہ کسی کا ہاتھ اِس تک نہ پُہنچ سکے اور مشکوک اَفراد کو بھی مال سے اِتنا دُور دُور رکھا جاۓ کہ متعلقہ مال اُن کی دست رس میں نہ آسکے ، اگر اِس آیت کے اِن اَلفاظ سے قُرآن کا مَنشا کسی کا ہاتھ کاٹنا ھوتا تو قُرآن جہاں مال چوری کرنے والے کا ایک ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا تو وہیں پر قُرآن اپنے مال کی آپ حفاظت نہ کرنے والے اُس زَر دار کی دو چار اُنگلیاں کاٹنے کا حکم بھی ضرور دیتا اور سب سے اَھم بات یہ ھے کہ کسی اسلامی مَملکت میں کسی انسان کے چوری کے جُرم میں ہاتھ کٹنے کا سوال ہی خلافِ عقل ھے کیونکہ اسلامی مملکت اپنے شہریوں کو ریاست کے بیت المال سے خوراک مہیا کرنے کی پابند ھوتی ھے ، اِس کا حاکم تو اِس بات کا یقین رکھتا ھے کہ اگر اِس کی مملکت میں ایک گرے ھوۓ پُل کے ملبے میں پیر اَٹکنے کے باعث بکری کا ایک بچہ بھی مجروح ھو کر مر جاتا ھے تو اسلامی مملکت کا حاکم اُس کی موت کا ذمہ دار قرار پاتا ھے ، حقیقت یہ ھے کہ ہاتھ کاٹنے کی یہ سزا بھی روایت پرستوں کی اُن روایتی سزاٶں میں سے ایک سزا ھے جس کے خلاف سیوطی کی ” الاتقان فی علوم القُرآن “ کے مطابق متقدمین میں سے بھی بعض اصحاب نے ایک دھیمی دھیمی سی آواز اٹھاٸ تھی جو شاید روایتوں کے اُسی روایتی دور میں دَب گٸ تھی یا دُبا دی گٸ تھی !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے