Home / کالم / اعتکاف

اعتکاف

.
تحریر و تحقیق:
سجاد حسین)

اعتکاف کی تعریف:
اللہ تعالی کی رضا کے باعث کسی ایسی مسجد میں اعتکاف کی نیت سے ٹہرنا جس میں باقاعدہ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو۔

شرائط اعتکاف:
(1) جس مسجد میں اعتکاف کیا جائے اس میں پانچ وقتی نماز باجماعت ہوتی ہو۔
(2) اعتکاف کی نیت سے ٹہرنا۔
(3) حیض، نفاس اور جنابت سے پاک ہونا۔
(4) روزہ سے ہونا۔
(5) مسلمان ہونا۔
(6) عاقل و بالغ ہونا، نابالغ مگر سمجھدار اور عورت کا اعتکاف درست ہے۔ (علم الفقہ، حصہ سوم، صفحہ 64)

اعتکاف کی اقسام:
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔

(1) واجب اعتکاف:
یہ وہ اعتکاف ہوتا ہے جس میں بندے نے نذر مانی ہو کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اتنے اتنے دن اعتکاف کروں گا۔ جتنے دن اعتکاف کی نذر مانی ہو اتنے دن کا اعتکاف کرے گا مگر ہاں اعتکاف کے ساتھ روزہ بھی ضرور رکھے گا کیونکہ روزہ صحت اعتکاف کی شرائط میں سے ہے۔

(2) سنت اعتکاف:
یہ وہ اعتکاف ہے کہ جو عام طور پر رمضان کریم کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے ہر رمضان میں یہ اعتکاف کیا ہے تو اس وجہ سے یہ سنت مؤکدہ کفائی ہے۔ اگر پورے محلہ میں سے ایک یا چند نے بھی اعتکاف کر لیا تو سب کا ذمہ ساقط ہو جائے گا ورنہ سب پر اس کا وبال (گناہ) ہوگا۔

(3) مستحب اعتکاف:
یہ وہ اعتکاف ہے کہ جس کے لیے کوئی وقت اور اندازہ مقرر نہیں ہے بلکہ جتنا وقت بھی مسجد میں ٹہرے تو اعتکاف ہوگا اگر چہ تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ افضل تو یہ ہے کہ آدمی مسجد میں داخل ہوتے ہی اعتکاف کی نیت کر لے تو نماز اور نفل وغیرہ کے ثواب کے ساتھ ساتھ اعتکاف کا ثواب پاتا رہے گا۔ (بہشتی زیور بحوالہ شامی، ج
مسنون اعتکاف کا وقت:
مسنون اعتکاف کا وقت 20 رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے قبل اعتکاف کی نیت سے شرعی مسجد میں بیٹھنے سے شروع ہوتا ہے اور شوال کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔ 29 رمضان کو عید کا چاند نظر آئے یا 30 رمضان کو آفتاب غروب ہو جائے تو مسنون اعتکاف ختم ہو جاتا ہے پھر معتکف مسجد سے نکل سکتا ہے۔ (ماہنامہ العصر)

اعتکاف کی سب سے افضل جگہ:
سب سے افضل وہ اعتکاف ہے جو مسجد حرام میں کیا جائے، پھر مسجد نبویﷺ کا مقام ہے، پھر بیت المقدس کا اور اس کے بعد اس جامع مسجد کا درجہ ہے جس میں جمعہ کی جماعت کا انتظام ہو۔ اگر جامع مسجد میں جماعت کا انتظام نہ ہو تو پھر محلے کی مسجد بہتر ہے جس میں پانچ وقت نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو۔

عورتوں کو اپنے گھر کی مسجد (یعنی جس جگہ نماز پڑھتی ہو) اعتکاف کرنا بہتر ہے ورنہ کسی کمرے میں اپنے لیے جگہ مختص کر دیں۔ (علم الفقہ، حصہ سوم، صفحہ 46)

اعتکاف کی حکمت اور فائدے:
اعتکاف میں حکم شرعی ہونے کی وجہ سے جس قدر فائدے اور حکمتیں ہو کم ہیں مگر یہاں مختصراً چند فائدے اور حکمتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔

(1) شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے لیکن جب انسان خدا کے گھر میں ہے تو گویا مضبوط قلعے میں ہے۔ اب شیطان اس کا کچھ بگاڑ نہ سکے گا۔
(2) لوگوں کے ملنے جلنے اور کاروبار کی مشغولیتوں میں جو انسان سے چھوٹے موٹے بہت سے گناہ ہو جاتے ہیں، بندہ اعتکاف میں ان سے محفوظ رہتا ہے۔
(3) جب تک آدمی اعتکاف میں رہتا ہے، اسے عبادت کا ثواب ملتا رہتا ہے خواہ وہ خاموش بیٹھا رہے، یا سوتا رہے، یا اپنے کسی کام میں مشغول رہے۔
(4) اعتکاف کرنے والا ہر ہر منٹ عبادت میں ہوتا ہے تو شب قدر حاصل کرنے کا بھی اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کیونکہ جب بھی شب قدر آئے گی تو معتکف بہر حال عبادت میں ہوگا۔ (بحولہ مشکوٰۃ شریف، جلد1، صفحہ186)

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک اور قرآن مجید (4) – یوسف ثانی
فضائل اعتکاف:
اعتکاف کی فضیلت و اہمیت کے لیے صرف یہ بھی کافی ہے کہ حضور ﷺ نے ہجرت کے بعد پوری عمر مداومت اور اہتمام کے ساتھ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ پھر آپ ﷺ کی ازواج مطہراتؓ اعتکاف کا اہتمام کرتی تھیں۔ (متفق علیہ)
مسنون اعتکاف کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ معتکف لیلۃ القدر کی فضیلت بآسانی پالیتا ہے کیونکہ اکثر روایات کے مطابق لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ رمضان کے آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو (الصحیح البخاری)

مقصد اعتکاف:
اعتکاف کا مقصد یہ ہے کہ آدمی بارگاہ ایزدی کی چوکھٹ پر اپنا سر رکھ کر سرور اور خوشی کا مینار دیکھتا رہتا ہے۔ زبان کو اسی کے ذکر سے تر رکھتا ہے، کہ بندہ سب کو چھوڑ کر بارگاہ عالی میں حاضر ہوا ہے۔ اے رحیم مولا! ہمیں معاف فرما کہ جب تک تو معاف نہیں کرے گا، تیرے در سے کہیں نہ جاؤں گا۔ تو اس سے سخت سے سخت دل بھی نرم ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو ہماری مغفرت کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں بلکہ

تو وہ داتا ہے کہ دینے کے لیے
در تیری رحمت کے ہیں ہر دم کھلے
خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھے احوال
کہ آگ لینے کو جائے پیمبری مل جائے
اس لیے جب کوئی شخص اللہ کے دروازے پر دنیا سے منقطع ہو کر جا پڑے تو اس کے نوازے جانے میں کیا تامل ہوسکتا ہے۔ اے اللہ ہماری مغفرت فرما اور ہمیں صحیح عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ (آمین)

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے