Home / کالم / آہ! ڈاکٹر علامہ خالد محمود رحمہ اللہ

آہ! ڈاکٹر علامہ خالد محمود رحمہ اللہ

تحریر:
حافظ عمیرحنفی

بیس رمضان المبارک 1441 بمطابق 14 مئی بروز جمعرات دن تین بجے کے قریب عالم اسلام کی عظیم علمی روحانی عبقری شخصیت دارالعلوم دیوبند کے چشم و چراغ علم و عمل کی جیتی جاگتی ہستی حضرت الشیخ ڈاکٹر مولانا علامہ خالد محمود پی ایچ ڈی لندن کا انتقال پر ملال ہوگیا انا للہ وانا الیہ راجعون

ان جیسی عبقری شخصیت کے متعلق وہی کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے جو اسی صدی کے محدث کے بارے میں کہا گیا آج کا دن پاکستان کی علمی و دینی تاریخ میں ایک المناک سانحہ اور جانگداز المیہ کی حیثیت رکھتا ہے آج اقلیم علم کے تاجدار سند ولایت کے صدر نشین گلشن دین کے باغبان حریم نبوت کے پاسبان ولی اللہی سلسلہ کے امین قاسمی حکمت کے رازدان انوری علم و معارف کے وارث علم و معرفت کا بحر مواج اسرار شریعت کا نکتہ رس دیوبند کی آنکھ کا تارا دودمان نبوت کا چاند قیادت عالم کا آفتاب دنیا کے افق سے غائب ہوگیا علامہ صاحب علم کا خزانہ تھے عمل کا نمونہ تھے عاقل و فہیم تھے ذکی و لبیب تھے عابد و زاہد تھے متقی و پرہیز گار تھے جری وبہادر تھے نڈر و حق گو تھے فیاض و سخی تھے انہیں جو کچھ ملا موہبت خداوندی سے ملا ان کے تنہاء وجود میں اس قدر فوق العادات اوصاف و کمالات قدرت نے جمع جمع کر دیے تھے کہ یہ تنہاء علامہ صاحب کی وفات نہیں بلکہ چمنستان علم سے فصل بہار کی رخصت ہے کمال علم کے پھولوں سے شادابی کا خاتمہ ہے حدیث و تفسیر فقہ و ادب معانی و بیان منطق و فلسفہ اور تمام علوم کا زوال ہے

حضرت علامہ صاحب رحمہ اللہ کی پیدائش آپ رحمتہ اللہ کے بقول 1925 میں قصور میں ہوئی جبکہ ہم عصر ہم عمراور پرانے ساتھیوں کے بقول 1923 میں ولادت ہوئی یوں آپ نے کل عمر 98 سال اور بعض کے مطابق 95 سال پائی آپ کے والد غنی محمد صاحب محکمہ تعلیم میں آفیسر تھے قصور تبادلہ ہوگیا تھا آبائی علاقہ امرتسر تھا تمام خاندان وہیں آباد تھا حضرت علامہ صاحب رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم دارالعلوم حنفیہ قصور میں حاصل کی اس کے بعد امرتسر میں مفتی محمد حسن صاحب رحمہ اللہ پڑھا دورہ حدیث کے لیے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے! اس وقت کے شیخ الحدیث سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ تھے انکے علاوہ دیگر بڑے شیوخ اساتذہ بھی دورہ حدیث میں پڑھاتے تھے ان سے آغاز کیا لیکن اختتام سے قبل ہی حضرت مدنی رحمتہ اللہ علیہ گرفتار ہوگئے دورہ حدیث مکمل نہ ہوسکا تو پھر ڈاھبیل جا کر شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ سے دورہ حدیث مکمل کیا اس کے بعد عصری علوم میں ایم اے بھی کیا اور مرے کالج سیالکوٹ میں پروفیسر ہوگئے ایم او کالج لاھور اور ڈگری کالج خانیوال میں بھی کچھ عرصہ پڑھایا شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمتہ اللہ علیہ سے اجازت حدیث حاصل کی اور مؤطا امام مالک بھی ان سے پڑھی آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی شیخ الحدیث مولانا زکریا امام الادب مولانا اعزاز علی مولانا رسول خان ہزاروی مولانا شمس الحق افغانی مولانا ادریس کاندھلوی مولانا ابراہیم بلیاوی مولانا مفتی حسن اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ علیہم ہیں

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے مختلف مدارس میں مناظرہ ودیگر فنون پڑھانے شروع کیے مشہور شیخ الحدیث مولانا صوفی سرور صاحب رحمہ اللہ نے بھی آپ سے مناظرہ پڑھا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے 1953 میں امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے حکم پر رد قادیانیت پر پہلی کتاب لکھی آپ کے علمی مرتبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے شیخ الاسلام قاری طیب رحمتہ اللہ علیہ جو پچاس سال سے زیادہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم رہے فرمایا کرتے تھے جس کتاب پر علامہ خالد محمود کا نام آجائے اس کی حقانیت کے لیے اتنا ہی کافی ہے علامہ سید انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ کے ہم عصر مولانا رسول خان ہزاروی رحمتہ اللہ آپ کے علم کا اعتراف کرتے تھے اور آپ کی باتیں مجمع کو سناتے تھے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ اگر عصر کی نماز کے بعد کوئی فتنہ اٹھے تو مغرب کی نماز کے بعد علامہ خالد محمود صاحب رحمہ اللہ سے مناظرہ کروا لینا فتنہ ختم ہوجائے گا.

آپ کے رفقاء میں حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب امام الاولیاء حضرت احمد علی لاھوری امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری مولانا خیر محمد جالندھری مولانا غلام غوث ھزاروی رحمتہ اللہ علیہم وغیرہ جیسے جید علماء کرام تھے آپ کی رد قادیانیت پر لکھی گئی تصنیفات میں “عقیدۃ الامت فی معنی ختم نبوت” عقیدۃ الامم فی مقامات عیسی ابن مریم”” عقیدۃ السلام فی الفرق بین الکفر والاسلام” مرزا قادیانی شخصیت وکردار” سرفہرست ہیں رد روافض میں آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں تنظیم اہلسنت کے ترجمان ہفت روزہ دعوت کے مدیر رہے اور اس سلسلہ میں آپ کی لکھی گئی تصنیفات میں سے عبقات دو جلدوں میں تجلیات آفتاب دو جلدوں میں ، خلفائے راشدین دو جلدوں میں معیار صحابیات محرم کی پہلی دس راتیں ودیگر کئ کتب سرفہرست ہیں دس جلدوں میں موجود آپ کا مطالعہ بریلویت ایک عظیم شاہکار ہے اس کے علاوہ عصری نوجوانوں کے لیے آپ کا تیار کردہ دینی تعلیم کا جاندار نصاب آٹھ کتب پہ مشتمل ہے آثارالتنزیل دو جلدوں میں آثارالحدیث دو جلدوں میں آثارالتشریع دو جلدوں میں اور آثارالاحسان بھی دو جلدوں میں ہے..

گردش زمانہ کو روکیے! یوں لگتا ہے کہ جیسے امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری کی رحلت حافظ ابن تیمیہ رحمہ کی موت ابن حجر عسقلانی کا ارتحال امام غزالی کا سانحہ محی الدین ابن عربی کی وفات رازی کا دنیا سے پردہ ابن رشد و جاحظ کا آب و گل سے سفر ابھی ہوا ہے ان کی وفات کے جھٹکے نے ہمیں یتیم و لاوارث کردیا ہمارے پاس فقط اب افسوس کے کچھ نہیں ہے ساری دنیا ان کی رحلت کا بتا رہی ہے مگر ان مرگ ناگہاں کا مجھے اب بھی یقین نہیں ہے

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے