Home / اسلام / قُرآن کا قانونِ قانون سازی !

قُرآن کا قانونِ قانون سازی !

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( الماٸدہ ، اٰیات 33 ، 34 )))) 🌹
قُرآن کا قانونِ قانون سازی !! 🌹
ازقلم 🌷🌷اخترکاشمیری
🌹علم الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !!🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !!🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 انما
جزاٶ الذین
یحاربون اللہ و
رسولہ ویسعون فی
الارض فسادا ان یقتلوا
او یصلبوا او تقطع ایدیھم
وارجلھم من خلاف او ینفوا
من الارض ذٰلک لھم خزی فی الدنیا
ولھم فی الاٰخرة عذاب عظیم 33 الا الذین
تابوا من قبل ان تقدرواعلیھم فاعلموا ان اللہ
غفوررحیم 34
جو لوگ اللہ و رسول کے ساتھ جنگ آزما ھو کر زمین میں اُودھم مچاۓ ھوۓ ہیں اُن کی یہی سزا ھے کہ اُن کو موت سے ہَمکنار کیا جاۓ یا سُولی پر چڑھا دیا جاۓ یا اُن کی پیش دستی روک دی جاۓ یا اُن کی پیش قدمی مخالف سَمت کی طرف موڑ دی جاۓ اور یا پھر اُن کو جلا وطن کردیا جاۓ ، اِس دُنیا میں تو اُن کی سزا کی یہی انتہا ھے مگر آخرت میں اِن کو ملنے والی سزا بے انتہا ھے لیکن یہ غارت گر لوگ اگر تُمہاری دسترس میں آنے سے پہلے راہِ راست پر آجاٸیں تو پھر یہ کوٸ تحقیق طلب بات نہیں بلکہ ایک تصدیق شُدہ بات ھے کہ اللہ خطا پوش و رحم پرور ھے !
🌹 قتل اور تاریخِ قتل ! 🌹
انسانی معاشرے میں انسان کے ہاتھوں انسان کا قتل ہر زمانے میں اور ہر زمین پر ایک بَدترین معاشرتی جُرم سمجھا جاتا رہا ھے اور اکثر و بیشتر اقوام نے اِس جُرم کی سزا بھی سزاۓ موت مقرر کی ھے لیکن انسان کے ہاتھوں انسان کے قتل کا یہ سلسلہ کبھی بھی نہیں رُک سکا ، معلوم تاریخ کے معلوم حوالے سے پیرس کے عجاٸب گھر ” لودرے “ میں محفوظ کی گٸ حمُو ربی کی اُس قانونی دستاویز کو قتل و سزاۓ قتل کی سب سے قدیم قانونی دستاویز سمجھا جاتا ھے جس میں جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ کا قانون درج ھے اور ھم اِس کی تفصیلات سُورةُالبقرہ کی اٰیت 178 اور 179 میں درج کر چکے ہیں ، حمُو ربی کی اِس قانونی دستا ویز سے بھی چار سو سال قبل ایک دُوسرے حکمران اَرنمو کے مُسودہِ قانون میں تو قتل کے بدلے میں تاوان کی سزا بھی موجود رہی ھے ، اِن حوالہ جات کا مقصد اِس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ھے کہ قتل کا جو قانون نزُولِ قُرآن کے عھد تک آیا ھے وہ ایک دم نہیں آیا بلکہ ایک تاریخی تدریج کے ساتھ آتے آتے آیا ھے ، قُرآنِ کریم نازل ھوا تو انسانی تجربات اور قانونی دستاویزات کی یہ پُوری کی پُوری تاریخ اِس کے سامنے تھی اِس لیۓ قُرآنِ کریم نے قتل کی جو حتمی سزا مقرر کی ھے اُس میں کہا گیا ھے کہ ثبوتِ جُرم کے بعد ، آزاد کا آزاد ، پابند کا پابند اور عورت کا عورت سے بَدلہ لیا جاۓ گا اور قاتل کے سوا دُوسرے آزاد و پابند مرد و زَن میں سے کسی کو بھی کوٸ نُقصان نہیں پُہنچایا جاۓ گا ، اِس قانون کے نفاذ کے بعد اگر مقتول کا کوٸ وارث قاتل کے ساتھ انسانی برادری کے فرد کے طور پر کوٸ نرمی کرنا چاھے گا تو قاتل کے ساتھ قانون کا قانونی ادارہ قانونِ راٸج الوقت کے مطابق نمٹنے کا پابند ھو گا ، جہاں تک اٰیاتِ بالا میں ذکر کیۓ گۓ قتل اور سزاۓ قتل کے اَحکام کا تعلق ھے تو قُرآنِ کریم نے یہ اَحکام ماضی کے صیغے کے ساتھ قتل کی اِس قانونی تاریخ کے حوالہ جات کے طور پر نقل کیۓ ہیں ، اِن حوالہ جات میں ایک حوالہ تو وہ ھے جو سورة الماٸدہ کی اٰیت 45 میں آۓ گا اور ایک حوالہ یہ ھے جس کی تفصیلات اٰیت 27 سے شروع ھوکر موجودہ آیات تک پھیلی ھوٸ ہیں ، قُرآنِ کریم نے اِس تاریخی منظر و پَس منظر کے بعد قتل کے بارے میں جو حتمی قانون دیا ھے اُس کی تفصیلات ھم سُورةالبقرہ کی آیت 178 اور آیت 179 میں درج کر چکے ہیں ، آیاتِ بالا میں قُرآنِ کریم ، تاریخِ بنی اسراٸیل کے جس تاریخی قانون کو زیرِ بحث لایا ھے وہ تاریخِ قانونِ بنی اسراٸیل کے حوالے سے ایک تاریخی نظیر کے طور پر لایا گیا ھے کسی عملی و قانونی تعذیر کے طور پر نہیں لایا گیا ، اِس لیۓ اِس قانونی نظیر کو اسی قانونی نظیر کے طور پر دیکھنا چاہیۓ ، کسی قانونی تعذیر کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیۓ جیسا کہ اللہ تعالٰی نے سُورةالبقرہ کی اٰیت 141 میں بتادیا ھے کہ وہ ایک اُمت تھی جو گزر چکی ھے اور اُس کے اعمال بھی اُس کے ساتھ رفت گزشت ھوچکے ہیں ، اِس لیۓ یومِ حساب کے موقعے پر اُس سے اُس کے اعمال کے بارے پُچھا جاۓ گا اور تُم سے صرف تُمہارے اعمال کے بارے میں پُوچھا جاۓ گا !
🌹 رَبطِ اٰیات و رَبطِ کلمات ! 🌹
اٰیاتِ بالا کے سلسلہِ کلام کی پہلی اٰیت ، سلسلہِ کلام سے پہلی اٰیت سے جُڑی ھوٸ ھے اور سلسلہِ کلام سے پہلی کی تمام اٰیات بنی اسراٸیل کے قاتل و مقتُول کے اُس قصے کے ساتھ جُڑی ھوٸ ہیں جس کا اٰیت 27 سے 31 میں بیان ھوا ھے ، اِس کا مطلب یہ ھے کہ یہ ایک ایسا مُتواتر موضوعِ کلام اور متواتر مضمونِ وحی ھے جس کا کُچھ حصہ بیان ھو چکا ھے ، کُچھ حصہ بیان ھو رہا ھے اور کُچھ حصہ ابھی بیان ھونا باقی ھے ، بنی اسراٸیل کے ایک نوجوان کے ہاتھوں سے دُوسرے نوجوان کے قتل کے بعد گزشتہ اٰیت میں بنی اسراٸیل کے لیۓ اللہ تعالٰی نے جو قانونِ بَدلہ و جزا جاری کیا تھا ، موجودہ دو آیات میں سے پہلی اٰیت میں اُس قانون کے تحت ریاست کی طرف سے دی جانے والی امکانی سزاٶں کا ذکر کیا گیا ھے اور دُوسری اٰیت میں اللہ کے رحم و کرم کو اُجاگر کیا گیا ھے تاکہ اِن سزاٶں کے بارے میں جب ماہرینِ قانون قوانین بناٸیں ، اہلِ قضا و عدل جب فیصلے سناٸیں اور اہلِ انتظام جب اِن فیصلوں پر عمل دَر آمد کراٸیں تو یہ تینوں ادارے یا اِن کا کوٸ فرد اِن تینوں تاریخی مراحل کے دوران نہ تو کسی مُلزم پر لگاۓ گۓ الزام میں کوٸ کمی یا اضافہ کر سکے اور نہ ہی مُلزم کو دی جانے والی سزا میں کوٸ کمی یا بیشی کر سکے اور آخر میں اللہ تعالٰی نے اپنے بیکراں رحم و کرم کا ذکر کر کے انسانی رُوح و ضمیر کو یہ خاموش پیغامِ رحم و کرم دیا ھے کہ قضا و سزا کے اِس قانون کے باوصف بھی اللہ کو سزا دینے کے بجاۓ رحم و کرم کرنا ہی زیادہ پسند ھے اور یہ اَمر بھی اللہ تعالٰی نے سورةالنسا ٕ کی اٰیت 147 میں انتہاٸ واضح الفاظ میں بتادیا ھے کہ اللہ تعالٰی کو تمہیں سزا دینے میں کوٸ دل چسپی نہیں ھے بشر طیکہ تُم زمین پر اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہو !
🌹 اٰیات اور اصطلاحاتِ اٰیات ! 🌹
اٰیاتِ بالا میں پہلی اصطلاح جزا ھے جس کا معنٰی بَدلا ھے اور یہ بدلا اِس شرط کے ساتھ مشروط ھے کہ جو شخص قتل کرے گا وہ بَدلے میں قتل کیا جاۓ گا ، دُوسری اِصطلاح محاربہ ھے جس کا معنٰی کسی کا کسی کے ساتھ جنگ آزما ھونا ھے ، یہ دُوسری اصطلاح بھی اِس شرط کے ساتھ مشروط ھے کہ جو شخص جنگ کی آگ جلاۓ گا وہی جنگ کی بَھٹی میں ڈالا جاۓ گا ، تیسری اصطلاح سعی ھے جس کا معنٰی اَقدامِ جنگ ھے اور اِس مقام پر اِس کا مفہوم یہ ھے کہ جو شخص اللہ کے اَحکام کے خلاف کوٸ اَقدام کرے گا اُس کے خلاف ہر مناسب تعزیری اَقدام کیا جاۓ گا ، چوتھی اصطلاح فساد ھے جس کا معنٰی زمین میں فتنہ اُٹھانا اور اُودھم مچانا ھے اور یہ فتنہ و فساد فساد چونکہ اپنی ہر شکل ، اپنی ہر صورت اور اپنے ہر رَنگ میں ایک بدترین عمل ھے ، اِس لیۓ فساد کے جواب میں فساد تو نہیں پھیلایا جاۓ گا لیکن فساد پھیلانے والے فسادی کو زمین سے ضرور اُٹھا دیا جاۓ گا ، اِس سلسلہِ کلام کی پانچویں فکر انگیز اصطلاح ” قطع “ ھے جس کا معنٰی کسی شٸ کو کسی شٸ سے جُدا کرنا ھوتا ھے اور یہ آخری اصطلاح چونکہ آنے والے سلسلہِ کلام کی اٰیت 38 میں ایک اَہم مسٸلے کے ضمن میں ایک خاص اہمیت کے ساتھ آرہی ھے ، اِس لیۓ اِس اصطلاح کو ھم اُس وقت کے لیۓ مٶخر کیۓ دیتے ہیں !
🌹 شرک اور قتل میں معنوی مُماثلت ! 🌹
انسان کو اللہ تعالٰی نے جو جان دی ھے وہ انسان کے پاس اللہ تعالٰی کی اَمانت ھے اور یہ فیصلہ بھی اللہ تعالٰی نے خود کرنا ھے کہ اُس نے کس انسان کے پاس جان کی یہ امانت کب تک رہنے دینی ھے اور کس انسان سے جان کی یہ امانت کس وقت واپس لینی ھے اور جہاں تک قتل اور شرک کے باہمی تعلق کی بات ھے تو قتل کے سوا شرک کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب انسان کی اِس بَد اعتقادی سے پیدا ھوتی ہیں کہ فلاں ہستی اپنی ذات ، اپنی عظمت اور اپنی شان کی وجہ سے اللہ کے قریب ھے اور اللہ کے اقتدار و اختیار میں کسی حد تک حصے دار ھے لیکن اعتقادی طور پر یہ مشرک اِنسان اپنے اِس مُشرکانہ اعتقاد کے باوجود بھی غیر اللہ کو اللہ کے جُملہ اختیارات کا مالک نہیں سمجھتا بلکہ صرف اُس خاص اختیار کا مالک سمجھتا ھے جس کے بارے میں وہ اللہ کے پاس اُس کی سفارش کر سکتا ھے لیکن ایک قاتل جب انسان کی جان لیتا ھے تو وہ خُدا کے اِس خُداٸ اختیار کا استعمال کر کے خُدا کی مُکمل خُداٸ کے مقابلے میں اپنی مُکمل خداٸ کا اعلان کردیتا ھے ، اِس عملی مُشرک کا یہ شرک اُس اعتقادی مُشرک کے شرک سے کہیں زیادہ شدید ھوتا ھے جو مخلوق کے کسی فرد کو کسی خاص خداٸ اختیار میں شریکِ اختیار بناتا ھے ، یہی وجہ ھے کہ اللہ تعالٰی نے قتل اور فساد فی الارض کو اپنے خلاف ایک اعلانِ جنگ اور اَقدامِ جنگ قرار دے کر بنی اسراٸیل کو قتل اور فساد فی الارض کے مُجرموں کی جان لینے کی اجازت دی تھی ، مزید براں یہ کہ اٰیاتِ بالا میں جتنی بھی سزاٸیں بیان کی گٸ ہیں وہ ساری کی ساری سزاٸیں انتہاٸ سزاٸیں ہیں اور اِن انتہاٸ سزاٶں کے درمیان تحقیق و ثبوت اور عدمِ ثبوت کے کٸ ایک قانونی مراحل موجود ھوتے ہیں یا ھو سکتے ہیں ، اِس لیۓ اِن سخت تر قوانین کے حوالے سے بھی ایسی اندھیر نگری ہر گز نہیں ھے کہ سب سے پہلے تو قاضیِ وقت اٰیات کی ترتیبِ کلام کے مطابق مُلزم کو قتل کراۓ ، پھر اُس کے مُردہ جسم کو سُولی پر چڑھاۓ ، پھر اُس کے ہاتھ پیر کاٹ کر اُس کو توبہ کی ایک ایسی بے مقصد مُہلت دیدے جس کی عملی طور پر کوٸ سبیل ہی موجود نہ ھو اور سب سے اھم تر بات یہ ھے کہ متذکرہ بالا تمام سزاٶں میں سے ہر ایک سزا کا موقع و محل الگ الگ ھے اور اِس پر مُستزاد یہ ھے کہ جن سزاٶں کا نام بہ بنام ذکر کیا گیا ھے اُن میں سے سزا کے لیۓ مقرر کی گٸ ہر ایک اصطلاح کے ایک سے زیادہ مطالب و مفاہیم مو جود ہیں جن کا ھم نے خوفِ طوالت کے باعث ذکر نہیں کیا ھے اور جن مطالب و مفاہیم کا ھم نے ذکر نہیں کیا ھے اُن کا مقصد یہ ھے کہ قاضیِ عدالت عدل گستری سے پہلے اِن ساری اصطلاحات کے اِن سارے معانی و مفاہیم کو سامنے رکھے تاکہ سزا پانے والے کے لیۓ زندگی کے آخری لَمحے تک شک کا فاٸدہ اور جاں بخشی کا راستہ موجود رھے کیونکہ اللہ رحیم و کریم سزا دینے کے عمل سے زیادہ معاف کرنے کے عمل کو پسند کرتا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے