Home / کالم / شب شہادت حضرت علی رضی اللہ تعالی

شب شہادت حضرت علی رضی اللہ تعالی

تحریر
سجاد حسین
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
آج شب کوفہ میں علی ع کے گھر میں ایک عجیب سی حساسیت ہے ، خاموشی ہے ۔ علی ع اس رمضان کے آغاز میں اشارے کنایوں میں بتا چکے ہیں کہ بہت جلد میری داڑھی ، سر کے خون سے رنگین کی جائیگی ۔ بچے جانتے ہیں کہ بابا حالتِ انتظار میں ہیں لیکن کوئی اس بارے میں بات نہیں کر رہا ۔ ہاں ، صبح سے کچھ پہلے ، امام حسن ع بابا کے مصلے کے پاس آئے ، مولا علی ع انہیں اپنے خواب کے بارے میں بتاتے ہیں جب انہوں نے کچھ دیر پہلے ہی رسول اکرم ص کو دیکھا تھا ، ان سے دردِ دل بیان کیا تھا ۔

علی ع ، ہمارے آپکے مولا علی ، شیرِ خدا اتنے مظلوم ہیں کہ بڑے بیٹے کو خواب سناتے آبدیدہ ہو جاتے ہیں ۔ خواب میں اپنے مونس و غم خوار رسول ص کو دیکھ کر گریہ کرتے ہیں ، فریاد کرتے ہیں ۔ علی ع کو آخر کیا غم تھا ؟ علی ع کا غم ، ناقدری تھی ۔ علی ع کا غم سلونی کے جواب میں لوگوں کا سر پر بالوں کی تعداد کے بارے میں پوچھنا تھا ، انکا تمسخر بھرا لہجہ تھا ۔ علی ع کا غم لوگوں کا رویہ تھا ۔ ایک تنہا علی ع کچھ ساتھیوں کیساتھ رسولِ خدا کو کفناتے رہے ۔ ایک تنہا علی ع اپنے کاندھوں پر پچیس سال کی خاموشی کا بوجھ اٹھائے رہے ۔ رسول اکرم ص کے واضح اعلانات کیبعد بھی علی ع منبرِ رسول ص کی بنامِ خلافت تقسیم ہوتی دیکھتے رہے اور چپ رہے ۔ علی ع نے ذوالفقار ہوتے ہوئے بھی ، زہرا ع کے پہلو پر دروازہ گرتا دیکھا ۔ علی چُپ رہے ۔ علی ع کو گلے میں رسی ڈال کر باہر نکالا گیا ، علی چُپ رہے اور علی ع کی چپ ، آجکی شب رسول اکرم ص کو خواب میں دیکھ کر ٹوٹی ۔ اپنے بڑے بیٹے سے بات کرتے ٹوٹی ۔۔ میں نے رسول خدا سے امت کی شکایت کی اور میں نے بد دعا کی کہ خدا مجھے انکے درمیان سے اٹھا لے ۔۔ اس جملے میں کتنی دل شکستگی ہے ، کتنی مظلومیت ہے ، کتنی تنہائی ہے ۔ جب انسان تھک کر خود اپنی ہی رخصت طلب کرنے لگے ۔

علی ع کی بیٹیوں نے ، زینب ع نے آج کی شب کیسے گزاری ہوگی ، کوئی طائرِفکر وہاں تک پرواز نہیں کر سکتا ۔ وہ جانتے تھے کہ بابا کے دشمن چاروں طرف ہیں ۔ باغی شام کی طرف سے علی ع کے سر کی قیمتیں لگ چکی ہیں ۔ خارجی گروہ علی ع کی تاک میں ہیں ۔ کوئی اندھی تلوار بابا کی جان لے سکتی ہے ۔ اور اس کیساتھ جب زینب ع علی ع کے خاموش رویے کو دیکھتی تھیں ، تو امِ کلثوم ع سے چہرہ چھپا کر روتی تھیں ۔ زینب ع و حسن ع ، عادات میں ایک سے تھے ۔ شاید مولا حسن ع نے امام علی ع کے خواب کا تذکر زینب ع سے کیا ہو گا ؟ شاید بڑا بھائی اور بڑی بہن ، حسین ع کلثوم ع کو دلاسے دیتے ہونگے ؟ پھر جب علی ع گھر سے رخصت کرتے ہیں ، سب اہلِخانہ بے چین ہو کر چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں ۔ پھر پرندے ، پالتو بطخوں کا بین فضا میں ایک عجیب سوگواری طاری کر دیتے ہیں ۔ شاید اس رات کوفہ کے یتیموں کو بھی نیند نہیں آئی ہوگی ۔ علی ع کے عاشق ، کروٹیں بدلتے ہونگے ۔

علی ع کی مظلومیت یہ بھی کہ آپکو ضرب لگانے والا ایک خارجی تھا ، جس نے یہ حرکت ایک بدنام قطام نامی عورت کے حق مہر کے مطالبے، تین ہزار درہم ایک غلام اور ایک کنیز کی لالچ میں کی ۔ کیا یہ لوگ انسان بھی تھے ؟ علی ع نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا ، لیکن ہاں ، علی کا عدل ، علی ع کا علم ، علی ع کی ولایت ۔۔ یہ مولا کے جرائم بنا دیئے گئے تھے ۔

آج شبِ شہادت ہے ، شبِ غربت ہے ، شبِ غریباں ہے ۔ یہ علی کی معجزاتی ہستی ہے جو علی کے مرید کائنات بھر میں رجب میں خوش تھے ، آج گریہ کناں ہیں ۔ یہ علی ع کی ہستی کی جازبیت ہے جو علی ع کے نام کو زبان سے الگ نہیں ہونے دیتی ۔ علی ع جن کا نام لینا گناہ بنا دیا گیا تھا ، وہ نام وردِ زباں ہے ۔ علی ع ، جنکے سلام کا کوئی جواب نہیں دیتا تھا آج شب دنیا بھر میں کروڑوں انسان السلام علیک یا امیر المومنین کہیں گے ۔ دن میں کروڑوں بار یا علی مدد کہتے ہیں ۔ یہ علی کا عشق ہے جو آج علی ع کے فضائل بیان کرنے والی زبانیں ، علی کی مظلومیت بیان کرینگی ۔ علی کے نام پر کھِل اٹھنے والے چہرے سوگوار رہینگے ۔

شبِ رخصت یا علی ع

ہم جیسے یتیم جو فخر سے کہتے ہیں ، ہمارا باپ علی ع ہے ، آج شب پھر یتیم ہونے جا رہے ہیں ۔ خدا جانے یہ کونسا مقام ہے کہ علی ع کے جانے کا سوچ کر جب دل ڈوبنے لگتا ہے تب بھی زبان سے یا علی ادرکنی ہی نکلتا ہے ۔ ایسے جیسے علی ، خود اپنی مدد کیلئے پہنچیں گے.

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے