Home / اسلام / کفر اور اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ”

کفر اور اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ”

“تحریر
محمد حذیفہ معاویہ
📕📕📕📕📕📕
جب عرب کی سرزمین ظلم و ستم سے لرزنے لگی۔ جہاں پر جہالت اور بربریت کی سیاہی چھانے۔ طاقتور کمزروں اور ضیعفوں کو بھیڑیے بن کر چیرنے لگے۔ خانہ خدا کو پتھراور مٹی سے بنائے گئے سینکڑوں بتوں سے بھر دیا گیا۔ دنیا کی حق پرست اور ظلم کی چکی میں پستی انسانیت کسی نجاعت دہندہ کی منتظر نظر آنے لگی، تو ایسے وقت میں مکہ کی سر زمین سے آفتاب نبوت طلوع ہوا،جس کی کرنیں اطراف عالم میں پھیلنے لگیں۔ جس کی صدا فاران کی چوٹی سے بلند ہوئی اور قیصر وکسری کے محلات کو ہلا کر رکھ دیا ۔

مشرکین مکہ کہاں یہ بات برداشت کر سکتے تھے؟وہ اپنی پوری قوت سے نام نہاد خداءوں کے پہردار بن کر سامنے آئے اور رسول خدا اور ان کے صحابہ رض پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑنے لگے۔ دنیا کہ ہر اذیت سے انہیں تڑپایا گیا۔ کبھی رسول خدا کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے۔ کبھی گوبر سے بھری اوجھری حالت سجدہ میں کمر مبارک پر رکھ دی جاتی۔اور کبھی اتنے پتھر مارے جاتے کہ پاءوں مبارک خون سے تر ہو جاتے تھے۔
کبھی آپ کے جانثاروں کو سلگتے انگاروں پر گھسیٹا جاتا، تو کبھی گرم ریت پر لٹا کر سینہ پر پتھر رکھ دیا جاتا تھا۔ کبھی سولی پر لٹکا کر نیزوں اور تلواروں کی جھنکار میں ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا،تو کبھی دو جانوروں کے درمیان باندھ کر ان کے جسموں کو چیر دیا جاتا۔ دنیا جہاں کا وہ کون ساظلم تھا جو ان حق پرستوں اور ان مقدس ترین ہستیوں پرنہیں آزمایا گیا؟ جب ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا،توپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رض کو رضائے خداوندی سے یثرب کی طرف ہجرت کرنے کا حکم فرمایا اور پھر کچھ دن بعد خود بھی حضرت ابو بکر صدیق رض کے ساتھ یثرب کی طرف ہجرت فرمائی۔

مہاجر مسلمان، اپنے کنبے،قبیلے، مال و متاع،ساز و سامان ،غرض ہر چیز دین اسلام کی خاطر مکہ مکرمہ میں چھوڑ کر بے سرو سامانی کے عالم میں یثرب پہنچے تھے۔ اللہ تعالی نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے یثرب کو مدینہ منورہ بنا دیا۔ اسی مدینہ منورہ کو رحمت کائنات نے عالم دنیا میں دین اسلام کی اشاعت و ترویج کا مرکز بنایا، جہاں سے ایک بار پھر نور ایمانی کی روشنی کفر کے اندھیروں پر چھانے لگی۔

مکہ مکرمہ میں اللہ تعالی کی طرف سے جہاد فی سبیل اللہ کاحکم نازل ہوا تو مسلمانوں حکم خدا وندی پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں اترے۔ ہجرت کے بعد کئی مقامات پر کفار اور مشرکین سے معمولی جھڑپیں اور معرکے ہوتے رہے،لیکن کوئی خاص لڑائی نہ ہوئی۔ جب اللہ رب العزت حق کو ظاہر کرنے کا فیصلہ کر چکے ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت اسے ظاہر ہونے سے نہیں روک سکتی یہاں بھی یہی کچھ ہوا ، مشرکین مکہ کا ایک تجارتی قافلہ اس غزوہ کا سبب بنا، جس کے ذریعے اللہ رب العزت نے دونوں لشکروں کو اپنی قدرت کاملہ سے آمنے سامنے لا کھڑا ۔ کیونکہ اللہ رب العزت حق سے باطل کو جدا کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے،بس پھر وہ دن بھی آپہنجا جب دونوان لشکر منشائے خداوندی سے آمنے سامنے ہوئے۔یہ17 رمضان المبارک 2ء کا زمانہ تھا۔

میدان بدر میں لشکر اسلام کے جانثار ،لشکر کفار سے پہلے پہنچ چکے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حباب بن مندر رض کی رائے سے دشمن کے سب سے قریبی چشمے پر قبضہ کر کے حوض بنانے کا حکم دیا۔ باقی چشموں کو بند کر دیا گیا۔

صبح کو دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے ۔ چشم فلک آج ایک عجیب و غریب منظر دیکھ رہی تھی۔ جہاں ایک طرف
صرف 313 مجاہد بے سر سامانی کے عالم میں کھڑے تھے، تو دوسرے طرف ایک ہزار کے قریب تکبر و غرور کے پیکر اپنی انا میں اکٹر رہے تھے۔
ایک طرف صرف دو گھوڑے تھے، دوسری طرف جدید اسلحے سے مسلحہ سو گھڑسوار دندناتے پھر رہے تھے۔ ایک طرف صرف ستر اونٹ تھے، جن پر آتے ہوئے تین تین یا دو دو افراد نے باری باری سواری کی تھی،جبکہ دوسری طرف عالم یہ تھا کہ ایک دن 9 اور ایک دن 10اونٹ طعام کے لیے ذبح ہو رہے تھے۔ ایک طرف شراب و کباب کی محفلیں اور طاءوس ورباب کی تانیں بج رہیں تھیں، تو دوسری طرف خدائے واحد کی حمد وثناء اور نعرہ تکبر کی صدائیں بلند ہو رہیں تھی۔

جب صفیں بن چلیں تو مشرکین مکہ کی طرف سے “اسودبن عبدالاسد مخرومی” میدان میں اترا۔یہ شخص بڑا اڑیل اور بدخلق تھا۔ اس نے آتے ہوئے کہا کہ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ ان کےحوض کا پانی پی کر رہوں گا۔ ورنہ اسے ڈھادوں گا یا اس کے لیےجان دے دوں گا۔ اس کے مقابلے میں حضرت حمزہ رض اس کے سامنے آئے، مقابلہ ہوا،حضرت حمزہ رض نے ایسی تلوار ماری کی اس کا پاءوں نصف پنڈلی تک کٹ کر اڑ گیا۔ وہ پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاءوں سے خون کا فورا ابل پڑا ۔ وہ رینگتے ہوئے چشمے کی طرف بھاگنے لگا،تاکہ اپنی قسم پوری کر سکے۔حضرت حمزہ رض نے دوسری ضرب لگائی اور وہ چشمے کے اندر گر کر ڈھیر ہو گا۔

یہ اس معرکے کا پہلا قتل تھا۔اس سے جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ اس کے بعد کفار کے تین شہسوار عتبہ،اس کا بھائی شیبہ اور تیسرا عتبہ کا بیٹا ولید میدان میں آئے۔ ان کے مقابلے میں اسلامی لشکر سے عتبہ کے مقابلے میں عبیدہ بن حارث رض،شیبہ کے مقابلے میں حضرت حمزہ رض اور ولید کے مقابلے میں حضرت علی رض میدان جنگ میں اترے۔ زبردست معرکہ آرائی ہوئی۔ حضرت علی اور حضرت حمزہ نے چند لمحے میں اپنے اپنے مقابل کو خاک میں ملا دیا،لیکن حضرت عبید رض اور اس کے مقابل کے درمیان ایک ایک وار کا مقابلہ ہوا۔ دونوں کو گہرے زخم پہنچے۔ اتنی دیر میں حضرت علی رض اور حضرت حمزہ رض فارغ ہو چکے تھے۔وہ دونوں عتبہ پر ٹوٹ پڑے اور اسے چند لمحوں میں جہنم رسید کر دیا۔

مشرکین مکہ حواص باختہ ہو چکے تھے۔ ایک ہی چست میں ان کے تین بہترین شہسوار اور کمانڈر ٹکڑے ہو چکے تھے۔ وہ غیظ وغضب سے بے قابو ہو کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ مسلمان اپنے رب سے مدد نصرت کی دعا کرتے ہوئے مشرکین کے تابڑ توڑ حملوں کو روک رہے تھے۔ ان کی زبانوں پر احد احد کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔اب ہر طرف گمھسان کی جنگ شروع ہو چکی تھی۔

ادھر صفیں درست کرنے کے بعد رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الہی میں ہاتھ پھیلائے دین اسلام کی سر بلندی کے لیے دعا کر نے لگے۔
“اے اللہ!تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ!میں تجھ سے تیرے عہد اور تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں”
جب جنگ اپنے شباب کو پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اطہر سے یہ دعا نکل رہی تھی:
“اے اللہ !اگر آج یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ!اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائےگی” آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے جوش سے دعا کر رہے تھے، یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر پڑی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر درست کی اور فرمان لگے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بس فرمائیں آپ نے اپنے رب سے بڑے الحاج سے دعا فرمائی ہے۔
اچانک رحمت خداکو جوش آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر و حی نازل ہوئی:
“میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے”
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےسر اٹھایا اورفریایا:
“ابوبکر خوش ہو جاءو،تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل علیہ السلام ہیں،اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور ان کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گردو غبار سے آٹے ہوئے ہیں ”

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرجوش ہو کر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے:
” عنقریب یہ جھتہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا”
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ میں کنکریلی مٹی اٹھائی اور قریش کی طرف رخ کر کے فرمایا:
“شاھت الوجوہ” چہرے بگڑ جائیں۔ اور مٹی کفار کی طرف پھینک دی۔ بس کفار میں کوئی ایسا نہیں تھاجس کی آنکھوں،نتھنے اور منہ کے اندر اس مٹی میں سے کچھ نہ گیا ہو۔ اس کا نقشہ قرآن نے یوں کھینچاہے:
“جب آپ نے پھینکا تو درحقیقت آپ نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا”
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی حملے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
“شدوا” چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے،اس سے جو آدمی بھی ڈٹ کر ،ثواب سمجھ کر،آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر، لڑے گا اور مارا جائے گا،اللہ اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا”
اور فرمایا:
“اس جنت کی طرف اٹھو جس کی پہنائیاں آسمانوں اور زمین کے برابر ہیں”

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مبارک ارشادات کے بعد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پورے جوش اور جذبے سے میدان میں اترے۔ وہ دشمنوں کی صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے اور کفار کی گردنیں اڑاتے، آگے بڑھنے لگے۔ اللہ تعالی کے حکم سےاس جنگ میں ملائکہ بھی مسلمانوں کے ساتھ کفر کے مقابلے میں لڑ رہے تھے۔ چنانچہ:
” ابن سعید کی روایت میں حضرت عکرمہ رض سے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سرکٹ کر گرتااور پتا نہ چلتا اسے کس نے مارا ہے، اور آدمی کا ہاتھ کٹ کر گرتا اور پتا نہ چلتا کہ کس نے کاٹا ہے”
یہ اللہ تعالی کے فرشتے تھے جو مسلمانوں کے ساتھ برسر پیکار ہو کر کفر کے مقابل لڑ رہے تھے۔

تھوڑی دیر بعد مشرکین کے لشکر میں ناکامی اور اضطراب کے آثار نمودار ہونے لگے۔ ان کی صفیں جوش ایمانی سے لبریز صحابہ رض کے سخت اور تابڑ توڑ حملوں سے درہم برہم ہونے لگیں۔ مشرکین کے جتھے بے ترتیبی سے پیچھے ہٹنے لگے اور ان میں افرا تفری پھیل گئی۔ مسلمان مشرکین کو کاٹتے پکڑتے اور باندھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ کفار میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کو بھر پور شکست ہو گئی۔ ان کا غرور،
انا اور تکبرخاک میں مل کر رہ گیا۔

جب معرکہ ختم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“کون ہے جو دیکھے کہ ابو جہل کا انجام کیا ہوا؟”
اس پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ کچھ دیر بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ واپس آئے اور فرمایا:
“یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ رہا اللہ کے دشمن ابو جہل کا سر”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اللہ اکبر، تمام حمد اللہ کے لیے ہے،جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا،اپنے بندوں کی مدد فرمائی،اور تنہا سارے گرہوں کو شکست دی”
پھر فرمایا،چلو مجھے اس کی لاش دکھاءو ۔ جب صحابہ رض اس مشرک کی لاش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“یہ اس امت کا فرعون ہے”

اس غزوہ میں کفار مکہ کو شکت فاش اور مسلمانوں کو فتح مبین حاصل ہوئی ۔ مسلمانوں کی طرف سے چودہ صحابہ رض نے جام شہادت نوش فرمایا،جن میں چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے۔ جبکہ ستر کے قریب مشرکین مارے گئے اور تقریبا اتنے ہی گرفتار ہوئے۔ اس معرکے میں قریش کے کئی بڑے بڑے سردار کیفر کردار تک پہنچے۔ کل جو غرور و تکبر اور شراب کے نشے میں مدہوش فتح کے شادیانےبچاتے ہوئے آئے تھے،آج اپنی ذلت و رسوائی کی آخری منزل کو دیکھ رہے تھے۔

اس غزوہ میں آنے والی امت مسلمہ کے لیے سبق ہےکہ مسلمانوں کی فتح کبھی بھی طاقت،جنگی سازوسامان،غیر مسلم اقوام کے طور طریقے اور طرز زندگی میں نہیں، بلکہ اس راہ حق پر چلنے میں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے جانثار صحابہ رض چلےتھے۔ یہی وہ ایمانی طاقت تھی جس کے بل پر قیصر و کسری کی سلطنتیں ان کے قدموں میں گر پڑیں تھیں اور کفر کے ایوانوں میں ان کے نام سے لرزا تاری ہو جایا کرتا تھا ۔
افسوس!!آج ہم اپنی مقصد حقیقی اور راہ سنت کو چھوڑ کر غیروں کے نقشے قدم پر چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں مظلوم بن کر رہ گئے۔ ہماری کثرت، جنگی اسلحہ اور طاقت ہمارے کچھ کام نہیں آ رہیں ہیں، کیونکہ ہم اس نظام شریعت کو چھوڑ چکے ہیں،جس کی برکت سے آسمانوں سے نصرت خدا نازل ہوا کرتی تھی۔اگر ہم اب بھی اس نفاذ شریعت کے لیےاٹھ کھڑے ہوں تو خالق کائنات ہمیں مایوس نہیں لوٹائے گا ۔
ہم پر بھی وہی رحمت برسے گی جو بدر، احزاب اور حنین میں اتری تھی۔ فرشتے اب بھی ہماری نصرت کو گردو سے اتر آسکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافاء الراشدین کے نقش قدم پر چلنے والے بن جائیں۔ زمانے کے ہر طاغوت ہر کفر، اور وقت کے فرعونوں کے ہر طرز عمل سے برات کا اعلان کر دیں۔
یہاں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

فضائی بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں،گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے