Home / کالم / علم کی شمع سے نہ کر دور مجھ کو”

علم کی شمع سے نہ کر دور مجھ کو”

“تحریر
ام حسان کراچی
📕📕📕📕📕📕
کرونا وائرس وباء ہے یا ڈرامہ۔۔۔؟؟
اور اس کی آڑ میں ہمارے نااہل اور نام نہاد حکمران عوام کے ساتھ کیا کھیل رہے ہیں اور اس کے اثرات کتنے دور رس ہونگے یہ وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئے گا،،
باقی ملک کو چھوڑ کر صرف کراچی کی بات کریں تو حکومت سندھ کی وزارت تعلیم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ طلباء اور انکے والدین کو جی بھر کر اتنا ذلیل و رسوا کریں کہ لوگ تنگ آکر بچوں کو پڑھانا چھوڑ دیں،
اس سال کرونا وائرس کو لے کر تعلیم کا ستیاناس کردیا ہے،
ایک طالب علم سارا سال پڑھتا ہے کہ امتحان دے کر اپنی قابلیت کی بنیاد پہ نتائج حاصل کرے،،،
لیکن جب سے کرونا وائرس کا بھوت سندھ حکومت کے سر پہ سوار ہوا ہے ہر شعبے کے ساتھ تعلیم کا بیڑا غرق ہو گیا ہے،
اگر کرونا وائرس کو حقیقت تسلیم کر لیا جائے تب بھی یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آئے روز وفاق الگ بیان جاری کرتا ہے اور سندھ حکومت ایک الگ بیان دیتی ہے،
اب سعید غنی صاحب فرماتے ہیں کہ امتحان نہیں ہو سکتے اس لئے طلباء کو اگلی کلاسز میں پروموٹ کر دیا جائے گا لیکن اس کے لئے انھیں قانونی ترامیم کی ضرورت ہے کیونکہ قانون میں بغیر امتحانات کے پروموشن کی اجازت نہیں،

پاکستان میں جب بھی کوئ ہنگامی حالات آئے ہمارے حکمرانوں نے ایسے ہی روئیے کا مظاہرہ کیا ہے،
کوئ لائحہ عمل نہیں ہوتا،
کوئ منصوبہ بندی نہیں ہوتی،
حاکم وقت جب مسند سنبھالتا ہے تو اسے پھولوں کی نرمی کے ساتھ کانٹوں کی چبھن کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے،
لیکن ہمارے ہاں حالیہ صورت حال کا مقصد صرف اور صرف عوام کی تباہی ہے،
میٹرک کے امتحانات مارچ سے اپریل تک منعقد ہونے تھے،،
حکومت چاہتی تو کوئ بھی لائحہ عمل ترتیب دے کر امتحانی عمل مکمل کر چکی ہوتی،
ہمارے ہاں کئ سپورٹس کمپلیکس ہیں وہاں طلباء کو فاصلے پہ بٹھایا جاسکتا تھا،
اتنا بڑا سٹیڈیم موجود تھا جو امتحانی مرکز کے طور پر استعمال ہو سکتا تھا،
تماشائیوں کے سٹینڈز میں امیدوار بیٹھ کر پرچہ حل کر سکتے تھے،
لیکن افسوس صد افسوس سعید غنی ہوں یا شفقت محمود بیان بازی میں مہارت رکھتے ہیں،
تعلیم کا معیار پہلے ہی دگرگوں ہیں اوپر سے یہ تعلیمی سال ہمارے تعلیمی معیار کو مزید پست کردے گا،
عوام بے بسی کی چکی میں پس رہی ہے،جہاں
انسانیت کی قدر وقیمت نہیں وہاں اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ عوام ہڑھی لکھی ہے یا جاہل،
پروموٹ کرنے سے سوچیں کہ آئندہ کیسے اثرات مرتب ہونگے اور پھر یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا،
حکومت کے ایس او پیز مساجد مدارس اور سکولوں کے لئے ہی ہیں۔۔۔۔،
بنکوں کے باہر لمبی قطاروں،راشن کے لئے عوام کے ہجوم سے تو کرونا کو کچھ نہیں لینا دینا،
سعید غنی اور باقی وزراء کے بچے باہر کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں،پاکستان میں وہ وطن کی محبت میں نہیں آتے بلکہ حکمران بننے آتے ہیں اور ہماری ساری زندگی ان کی ذہنی جہالت کے بدلے گروی رکھ دی جاتی ہے،،،،

تھوڑا نہیں بہت سوچنا ہوگا،

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے