Home / کالم / تذکرہ حضرت علی کرم اللہ وجہ “

تذکرہ حضرت علی کرم اللہ وجہ “

“تذکرہ حضرت علی کرم اللہ وجہ ”
تحریر
“محمد حذیفہ معاویہ”
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
جنگ خیبر کا موقع تھا۔ ایک قلعہ فتح نہیں ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم یہ ہےکہ:
“کل میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں جھنڈا دوں کا جس سے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتے ہیں، اور وہ بھی اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے”
ہر صحابی رض کے دل میں خیال پیدا ہو کہ کاش کل جھنڈا مجھے مل جائے،صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رض سے ایک صحابی رض کے متعلق دریافت فرمایا۔صحابہ رض نے بتایا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بلاءو! جب وہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھوں میں ڈالا،جس سے ان کی آنکھوں کی تکلف جاتی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عظیم نوجوان کو پرچم عطاء فرمایا،اللہ تعالی نے اسی نوجوان کے ہاتھوں سے وہ قلعہ فتح کروا دیا۔
وہ عظیم المرتبہ نوجوان ،داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،شیر خدا،والد حسنین کریمین،فاتح خیبر،حضرت ابو تراب علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ تھے۔

حضرت علی رض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا ابو طالب کے بیٹے تھے۔ ابو طالب کا کنبہ بڑا ہونے کی وجہ سےحضرت علی رض،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں رہے۔ اور بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے بھی حضرت علی رض تھے۔
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رض کو گھر میں نہیں پایا،دریافت کرنے پر حضرت فاطمہ رض نےبتایا کہ ناراض ہو کر گھر سےچلے گئےہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تلاش میں نکلے تو مسجد نبوی میں اس حال میں پایا کہ آپ کی چادر زمین پر پڑی ہوئی ہےاور جسم سے مٹی لگ رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت سے فرمایا:
“یاابا تراب”(او مٹی والے)اس دن سے آپ کی کنیت ابو تراب پڑ گئی۔

اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پر بات پر کامل یقین رکھتے تھے۔ اسے حرف آخر سمجھتے تھے۔ جب فتح مکہ کے موقع پر جنگی حکمت عملی کے تحت تمام معاملات کو خفیہ رکھا گیا تھا،تواس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رض کو حکم فرمایا،جس کا مفہوم یہ ہے کہ:
” اے علی!! جاءو مکہ جانے والے فلاں راستے پر ایک عورت جارہی ہےاس کے پاس خط ہے۔ وہ مکہ جانا چاہتی ہے۔ اسے جانے سے روکو”
آپ رض چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ وہاں پہنچے اور بتائی گئی جگہ پر اس عورت کو پالیا۔ اس کی تلاشی لی گئی،لیکن خط نہیں ملا۔ جب بار بار تلاش کرنے پر بھی خط نہیں ملا تو آپ رض جوش میں آگئے اور فرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ:
“اے عورت مجھے اس خط کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خط کی خبر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اللہ تعالی نے دی ،تو کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط کہا ؟؟یا حضرت جبریل علیہ السلام نے غلط اطلاع دی؟ یا نعوذباللہ اللہ رب العزت نے غلط بتایا؟؟
ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا خط تیرے پاس ہے،اسے نکال دو ورنہ اللہ کی قسم میں تمہیں ننگا کر دوں گا”
جب اس عورت نے آپ کے اعتماد اور جوش کو دیکھا تو سمجھ گئی کہ آپ جو کہ رہے ہیں ضرور کر گزریں گے۔ اس لیے اس نے خط نکال کر آپ رض کے حوالے کر دیا۔ یہ خط اس عورت نے اپنے سر کے بالوں کو باندھ کر ان کے اندر چھپایا ہوا تھا۔

اللہ تعالی نے آپ کو کمال کی ذہانت عطاء فرمائی تھی۔ بڑے بڑے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کی ذہانت اور علم کے معترف تھے۔ ایک مرتبہ ایک عورت نے ایک پارسا نوجوان پر برائی کا جھوٹا الزام لگا دیا اور انڈے کی سفیدی لے کر ثبوت کے لیے اسے اپنی شلوار پر مل لیا۔ آپ رض کو اس پر شک گزرا۔ آپ رض نے اس عورت کی شلوار منگوا کر آگ سے حرارت پہنچائی تو انڈے کی سفیدی واضح ہو گئی۔ اس عورت کے الزام کا پھانڈا پھوٹ گیا۔ یوں آپ کی کمال ذہانت اور بے مثال حکمت سے ایک نوجوان کی جان بچ گئی۔

اخلاص کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ رض ایک کافر کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔جب اسے قتل کرنے لگے تو اس نے آپ کے چہرہ مبارک پرتھوک دیا،آپ رضی اللہ عنہ نے فورا اسے چھوڑ دیا۔ وجہ دریافت کرنےپر فرمایا کہ پہلے میں اللہ کی رضا کے لیے قتل کرنا چاہتا تھا۔ اب جب اس نے مجھ پر تھوک دیا تو اس میں میرا غصہ بھی شامل ہو گیا ، خالص اللہ کی رضا باقی نہ رہی۔ اس لیے میں نے چھوڑ دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کےبارے میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے:
” میں علم کا شہر ہوں اور علی رض اس کا دروازہ ہے”
ایک مرتبہ ایک آدمی نے آپ رض سے سوال کیا کہ کیا وجہ؟؟
“باقی خلفاء کے زمانے میں فتن کم تھے اور آپ کے دور میں زیادہ ہیں”آپ نے جواب:
” ان کے مشیر ہم تھے اور ہمارے مشیر تم ہو”

حلم اور بردباری کا یہ عالم تھا کہ جب عبدالرحمن بن ملجم نے آپ رض کو شدید زخمی کر دیا تو اس وقت بھی آپ رض نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا، یہاں تک کہ اپنے شربت کا بچا ہوا حصہ بھی اس کے پاس بھیج دیا،لیکن اس بد بخت نے یہ کہ کر واپس کر دیا کہ آپ نے اس کے اندر زہر ملایا ہوا ہے۔ پھر بھی آپ رض نےاس کے بارے میں وصیت کہ کی اگر میں زندہ رہا تو خود اس سے نپٹ لو گا،ورنہ اسے ایک ہی وار سے قتل کر دینا،تاکہ اسے زیادہ تکلیف نا ہو،اپنی جانی دشمن کے ساتھ اس قدر عمدہ برتاءو کی مثال لانے سے دنیا آج تک قاصر ہے۔ آپ رض نے انہیں زخموں سے 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو 75 یا 73 سال کی عمر میں شہادت پائی ہے۔ اللہ تعالی آپ کی لحد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں۔ آمین۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے