Home / کالم / ایسا کیوں؟؟

ایسا کیوں؟؟

ذرا سوچیں!
تحریر: ریاض حسین
(جوائنٹ فورسز پبلک سکول چیچہ وطنی)
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
تاریخ کو چھانا جائے تو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، جس سے ہمارے حوصلے بڑھتے ہیں توبعض جگہوں پر پست بھی ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک اور قوم کا مالی، اخلاقی اور تاریخی طور پرپستی کی طرف گامزن ہونا اس ملک کے نظام کا فیل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جس ملک کا نظام بہترین بنیادوں اور بامقصد ہوگا وہاں کی قوم نہ تو غریب، نہ ہی بداخلاق ہوگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ شلنگ 1917میں ایک کرنسی کی تھی جس کی قیمت اس وقت کے بکریوں کے اوسط ریوڑ ھ کی آدمی قیمت کے برا بر تھی۔ لکھنے والا لکھتا ہے کہ برطانوی لیفٹیننٹ جنرل سر فریڈرک اسٹینلے موڈ کو 1917 میں بغداد کو فتح کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔عراق پہنچنے پر ایک دن اسے ایک چرواہا اور اس کا ریوڑ نظر آیا۔ جنرل نے اپنے مترجم سے کہا کہ وہ چرواہے کو کہے کہ ایک شلنگ کے بدلے اپنا کتا کاٹ ڈالے۔یاد رہے کتا چرواہے کا اہم ترین ساتھی ہوتا ہے جو نہ صرف اسے تمام خطرات سے خبردار کرتا ہے بلکہ بھیڑیوں اور چوروں سے ریوڑ کی حفاظت بھی کرتا ہے، لیکن اس وقت ایک شلنگ سے آدھا ریوڑ خریدا جا سکتا تھا۔چرواہا راضی ہوگیا اور اپنے کتے کو پکڑ کرلیا اور اسے جنرل کے پیروں پر کاٹ ڈالا۔بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ جنرل نے مترجم کے ذریعہ چرواہے سے کہا کہ میں تمہیں کتے کی کھال اتارنے کے لئے ایک شلنگ مزید دوں گا تو چرواہے نے شلنگ لی اور کتے کی کھال بھی اتار ڈالی۔اس پر جنرل نے چرواہے کو کتے کا گوشت بنانے کے عوض تیسری شلنگ کی پیش کش کی، چرواہے نے شلنگ لی اور کتے کا گوشت بنا ڈالا۔اتنا کچھ کرنے کے بعد جب چرواہے نے دیکھا کہ جنرل خاموش ہے تو اس نے مترجم کے ذریعہ جنرل سے کہا کہ اگر اسے مزید ایک شلنگ دی جائے تو وہ کتے کا گوشت کھا بھی لے گا۔جنرل نے جواب دیا، میں تمھارے ملک کی عوام کی اقدار کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، اور مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم لوگ اپنے انتہائی معتمد دوست اور ساتھی کو پیسوں کے لئے مار کر اس کی کھال اتار کر بوٹیاں بنا کر اسے کھانے تک کے لئے تیار ہو۔تب جنرل نے اپنے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، جب تک اس ملک میں اس طرح کی ذہنیت برقرار ہے تم لوگ کسی کو بھی خرید سکتے ہو اس لئے کسی سے خوف نہ کھاؤ۔۔۔۔۔۔۔تو ثابت ہوا جب وقت کے حکمران رعایا کی جائز ضرورتوں اور بنیادی حقوق کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو وہاں ایسی ذہنیت اور قوم تیار ہو جاتی ہے جسے کسی بھی وقت کسی بھی قیمت پر خریدا جا سکتا ہے۔ اسی لیے دُنیا کی بڑی بڑی خفیہ ایجنسیاں اپنے مقاصد کے لیے بڑے اور چھوٹے عہدیداران کو خرید کر کامیاب ہو جاتی ہے۔ دہشت گردی ہو، ملک کے خفیہ اور قیمتی راز ہوں، جاسوسی کرنا مقصود ہو، یہ سب بخوبی ان ریاستوں، ملکوں کی عوام سے لیے جا سکتے ہیں جہاں کا نظام عدل، نظام معاشیات، اور شکستہ حالی کا شکار ہو۔ پھر وہاں کے لوگوں اپنی جائز اور ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنے، وقت کی دوڑ میں شامل ہونے اور برابری کی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے مادیت کا شکار ہو کر کسی دوسرے کے ہاتھوں فروخت ہو کر وہ کچھ کر گزر تے ہیں جس کا ناقابلا تلافی نقصان ریاست اور وہاں کی قوم اٹھاتی ہے۔ میر ی ارباب اختیار، احکام بالا اور دیگر ملکی عہدیداران سے درخواست ہے کہ دنیا کی شان و شوکت، برابری اور مادیت پرستی سب دُنیا میں رہ جائے گی، اگر اپنے خاندان اور اولاد کی بہتری کا سوچ کر ملک کے ساتھ درجہ بندی، عدل میں جھکاؤ، اقراء پروری اور دیگر ریاستی مہلک بیماریوں کا ساتھ دیتے ہوتو سنو! اگر ملک قائم و دائم اور اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کے قابل ہو گا تو پھر یہ سب دولت کام آئے گی نہیں توآپ ہی کر طرح کوئی اور چھین کر اپنی بنا لے گا۔ تاریخ کے اس واقعہ کا تحریر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے وطن اور قوم سے کھلواڑ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ملک سے سچی محبت اور وفاداری سکھائے آمین۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے