Home / کالم / قطب العالم عارف باللہ

قطب العالم عارف باللہ

قطب العالم عارف باللہ حضرت مولانا عبد الکریم قریشی بیروی رحمہ اللہ تعالیٰ۔
تحریر
⁦✍️⁩سیف اللّٰه صدیـقی
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سرزمین باب الاسلام روز اول سے علوم و معارف تصوف و سلوک شریعت و طریقت روحانیت اور صوفیت کا ہمیشہ مرکز و محور رہی ہے۔ اس مردم خیز زمین نے بڑے بڑے علماء اولیاء اتقیاء صوفیاء حکماء اور مشائخ عظام کو جنم دیا ہے۔ وادی مہران سے نامور مفسرین محدثین فقہاء کرام مفتیانِ شرع اور قرآن کے قاری فیض یافتہ و فیض یاب ہوکر طالبانِ حق کے سینوں کو ان علوم سے مستفیض اور روشناس کرتے آرہے ہیں۔ روحانیت اور صوفیت کے اعلیٰ مقام پر سینکڑوں فائز شخصیات ابھی تک تشنگان معرفت کی پیاس بجھانے میں ہمہ تن مصروف دکھائی دیتے ہیں اور تاقیامت ایسے جلیل القدر افراد عوام الناس کو راہ راست پر لانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

سندھ دھرتی کے ان نفوسِ قدسیہ جن کے دن رات صبح و شام شریعت مطہرہ کی تعلیم و تدریس تبلیغ و اشاعت ترویج اور سالکین کے سینوں کو تصوف و معرفت سے فیض یاب کرانے میں گزری ہے ان میں اہم کردار اور روشن نام قطب الاقطاب عارف باللہ حضرت مولانا عبدالکریم قریشی بیروی نور اللہ مرقدہ نام کا بھی آسمان کی تختیوں پر جگمگاتا رہے گا۔

ولادت اور خاندان:
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 9 صفر المظفر 1342 ہجری 22 ستمبر 1923 عیسوی میں گاؤں بیر شریف کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کا نام مولانا محمد عالم صاحب ہے۔ آپ کے دادا اور پر دادا نسل در نسل علم و عمل کے مناصب جلیلہ پر فائز تھے۔
آپ صدیقی النسل قریشی ہیں، چالیسویں نسل میں آپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہ سے جاکر ملتا ہے۔

تعلیم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے مولانا قمر الدین، مولانا محمد ایوب، مولانا جان محمد مگسی، مولانا شاہ محمد اور مولانا عبداللہ چانڈیو رحمہم اللہ تعالیٰ سے یکے بعد دیگرے کسبِ فیض حاصل کیا۔
اس کے بعد چند سال آپ مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی صاحب نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں چند سال رہ کر علوم دینیہ کی تکمیل فرمائی۔

درس و تدریس:
آپ نے فراغت حاصل کرنے کے بعد تدریس کا آغاز جامعہ مظہر العلوم کراچی سے کیا تین سال تک آپ طالبانِ علم کو برابر علم و عمل کی تعلیم و تربیت کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ مولانا عبد الطیف کنڈیارو کے مدرسے میں علم و عمل کے موتی بکھیرتے رہے۔
1956 عیسوی میں گاؤں بیر شریف میں اپنے مدرسہ میں دوزانو بیٹھ کر قرآن پاک اور آحادیث مبارکہ کی ترویج و اشاعت کا اہتمام کیا۔ اور تادم آخر اسی گلشن کی آبیاری کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے۔

بیعت و خلافت:
آپ رحمہ اللہ نے تصوف و سلوک کی منازل اور مشکل مراحل قاطع شرک و بدعت حضرت مولانا حماد اللہ ہالیجوی رحمۃ اللہ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر طے کیں۔ مرشدِ کامل کی رفاقت میں باحترام بیٹھ کر ذکر و اذکار سبق و مراقبہ کے تمام درس از بر کرکے اپنے سینے میں مقید کر لیے۔ مرشدِ کامل کی اتباع کرکے خلیفہ مجاز کی حیثیت اختیار کرلی۔

خلافت پر متمکن:
حضرت حماد اللہ ہالیجوی کی وفات کے بعد آپ نے اپنے مرشد کے طریقے پر لوگوں کو ذکر و اذکار کی تلقین فرمائی اور بیعت کرانے کا آغاز فرمایا۔ آپ کا نام اور تقویٰ کا سن کر دور دراز سے مریدین و معتقدین کا تانتا بندھ گیا۔ سندھ اور بلوچستان کے ہزاروں افراد روحانی علاج کرانے کی نیت سے آپ کی خدمت اقدس میں شرفِ تلمذ حاصل کرنے آتے تھے اور عرصہ دراز تک ذکر و اذکار کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔

تحریکی زندگی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکی زندگی کا آغاز جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے کیا۔ اکابرین جمعیت حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ اور مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ کے ساتھ آپ نے تحریک نظام مصطفیٰ، ایوب خان کے عائلی قوانین، ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا فتنہ، اور ایم آر ڈی کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ آپ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی اور مرکزی عہدوں پر فائز رہے۔ آخر عمر میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سرپرست کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ شیخ الحدیث مولانا عبد الحق۔ حضرت مولانا گل بادشاہ ودیگر جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں سے آپ کے دیرینہ تعلقات تھے۔ بلکہ تمام اکابر علماء آپ کی قدردانی کرتے تھے۔

تحریک ختم نبوت:
تحریک ختم نبوت کے ساتھ آخر عمر تک جڑے رہے۔ 1953 اپنے شیخ حضرت ہالیجوی کی معیت میں “ختم نبوت کانفرنس” سکھر میں شرکت فرمائی اور عوام کو فتنہ قادیانیت کی تردید کے لیے دن رات ایک کرکے عوام میں بھرپور مہم چلائی۔ کذاب اور دجال مرزا ملعون کی چالبازیوں اور ایمان پر ڈاکہ زنی کرنے سے لوگوں کو آگاہ کیا۔
لاہور انجمن خدام الدین شیرانوالہ کے مدرسہ میں “آل پارٹیز ختم نبوت” کے اجلاس میں آپ نے شرکت کی اور فتنہ قادیانیت پر ایسی جامع و مانع گفتگو فرمائی: اس وقت شیخ الاسلام علامہ محمد یوسف بنوری، مفتی محمود رح نے آپ کی تقریر کو بہت سراہا۔ شیعہ مکتب فکر کے رہنما اور مجلس عمل کے ممبر سید مظفر علی شمسی نے اٹھ کر آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا۔
اور مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیری نے آپ کو گلے لگایا۔

تقویٰ:
حضرت بیروی رحمہ اللہ تقویٰ اور پرہیز گاری کے اعلیٰ مقام پر فائز رہے ہیں۔ آپ کے اقوال و افعال سے خوفِ خدا اور خوفِ آخرت کی جھلکیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ آپ کے ہر کام اور کلام سے اتباع رسول کی خوشبو ٹپکتی محسوس ہوتی رہی ہے۔ آپ ہمیشہ صحابہ کرام اور اسلاف کی سیرت مطہرہ اور تعلیمات پر عمل پیرا رہے۔
ایک بار چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس میں بیان فرما رہے تھے کہ ایک کیمرا مین نے آپ کی تصویر کھینچی آپ اسی وقت اسٹیج سے اتر کر نیچے پنڈال میں بیٹھ گئے۔ جب تک کیمرہ مین نے تصویر نہ جلائی تب تک آپ وہیں بیٹھے رہے۔ آپ دوسری بار حج پر کاغذات میں تصویر ضروری تھی اس لیے آپ تشریف نہ لے گئے۔
پہلی بار آپ نے درس نظامی سے فراغت کے بعد حج کی سعادت حاصل کی تھی۔

وفات:
آپ کو عمر کے آخری ایام میں فالج کا حملہ ہوا اور 16 رمضان المبارک 1999 عیسوی کی شام ہونے سات بجے اپنے معالج ڈاکٹر عبدالصمد کے ہاں انتقال فرمایا۔ وفات کی خبر سندھ اور بلوچستان میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ لاکھوں افراد روحانی معالج کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے لاڑکانہ پہنچ گئے۔ اور 17 رمضان المبارک کی صبح علم و عمل تقویٰ اور پرہیز گاری کے باب مٹی میں دفن ہوا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرخرو ہوگیا۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے