Home / اسلام / جنگ بدر اور صحابہ کرام کی جانثاری”

جنگ بدر اور صحابہ کرام کی جانثاری”

“تحریر
سیف اللہ صدیقی
📕📕📕📕📕📕

جنگ بدر اسلام اور کفر حق اور باطل کے درمیان سن 2 ہجری رمضان المبارک کی 17 تاریخ کو وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی۔ اور لشکرِ کفر 1000 نفوس پر مشتمل تھا۔
ایک طرف خدا تعالیٰ کی واحدانیت اور متبع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو دوسری طرف لات و عزیٰ کے بجاری اور کفر و شرک کی اتہاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے دستے۔
ایک طرف فقر وفاقہ، سواری کی کمی، مال و زر کی نایابی تھی۔ دوسری طرف ایک ہزار نفوس کی تعداد تمام آلات ضرب و حرب سے لیس۔
ایک طرف نفوسِ اسلامیہ جن کی پیشانیاں سجدوں کی وجہ سے گرد آلود پیوند لگے ہوئے کپڑوں میں ملبوس اور پیٹ بھوک کی شدت سے اندر کی طرف ڈھسے ہوئے۔ تو دوسری طرف زرہ پوش مسلح جتھے تکبر اور غرور میں ڈوبے ہوئے سر اور کھانے کے لیے روزانہ دس اونٹ میسر تھے۔

غرض فرعونِ وقت ابو جہل، عتبہ، شیبہ، ولید، حنقلہ، عبیدہ، عاصی، حرث، طعیمہ، زمعہ، عقیل، ابو البختری، مسعود، بنیہ، نبہ، نوفل، سائب، رفاعہ وغیرہ کئی بڑے بڑے سرداران قریش نہایت کرو فر اور سامان طیب و عشرت کے ساتھ گانے بجانے والی عورتوں طبلوں اور طبلچیوں کے ساتھ اکڑتے ہوئے اور اتراتے ہوئے میدان بدر کی طرف روانہ ہوئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مشاورت کے لیے بلایا اور متوجہ ہوکر فرمایا: اس وقت لشکرِ کفار نے جنگ کی نیت سے بدر کی طرف کوچ کیا ہے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری کیا رائے ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق اور حضرت مقداد رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یکے بعد دیگرے نہایت شجاعت اور بہادری دکھانے کفارِ مکّہ سے لڑنے پر آمادگی ظاہر فرمائی اور جانثا رانہ تقریریں فرمائیں۔ حضرت مقداد رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا: ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا۔ (فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قاعدون) (تو اور تیرا رب جاکر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے تماشا دیکھیں گے)
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا لوگو ان کفار سے لڑنے کے لیے تمہارا کیا مشورہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ انصار مدینہ کی طرف تھا جن کی تعداد مہاجرین مکہ کی تعداد سے کئی گنا زیادہ تھی۔ انصار فورا اس بات کو سمجھ گئے اور سعد بن معاذ رضی اللّٰه عنہ نے کہڑے ہوکر شجاعت سے بھرپور تقریر فرمائی: اور عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ آپ کی تصدیق کی۔ یہ کیسے ممکن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار سے جاکر لڑیں اور ہم اطمینان سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں۔ یہ کفار تو ہم جیسے ہی آدمی ہیں، ہم ان سے کیا ڈریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیں گے سمندر میں کود پڑو ہم بلا دریغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خصوصاً انصار مدینہ کی جانثارانہ تقریر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دلی تسکین اور خوب اطمینان حاصل ہوا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانثاروں وفاداروں اور فدائیوں کے تین سو تیرہ نفوسِ قدسیہ سمیت میدان جنگ کی طرف کوچ فرمایا۔ اسلامی لشکر بدر کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ کفار پہلے ہی سے بلند قلعہ زمین پر قابض و متصرف اور خیمہ زن ہیں۔ مسلمانوں کو نشیبی اور ریتلی زمین پر پڑاؤ کرنا پڑا۔ بدر کے چشموں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عفو و کرم کی صفات عالیہ کا یہاں پر بھی اظہار فرمایا اور لشکرِ کفر کو پانی پینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

بالآخر 17 رمضان المبارک کا طلوع آفتاب نے ایسا نظارہ دیکھا جو اپنی تخلیق سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ باب بیٹے کے سامنے سر بکفن تھا تو بھائی بھائی کی جان کے درپے تھا۔ چاچا بھتیجے اور بھتیجا چاچو جان سے نبرد آزما ہونے کے بے چین تھا۔ تو مامو بھانجے کی جان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر مستعد تھا۔ فریقین ایک دوسرے کو مرنے اور مارنے پر تلے ہوئے تھے۔ ایک گروہ جنت کا شیدائی ہے تو دوسرا گروہ جہنم سے تھوڑی مسافت پہ تھا۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللّٰه عنہ نے دیگر صحابہ کرام سے مل کر بلند جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چھپر بنایا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر جنگ کا نظارہ کریں اور خود تلوار لیے محافظ بن کر چھپر کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نفل نماز ادا فرمائی اور رو رو کر آہ و زاری راز و نیاز کے ساتھ جناب الٰہی میں دعا فرمائی۔ ( اللھم ان تھلک ھذہ العصبۃ من اھل الایمان الیوم فلا تعبد فی الارض ابدا) (الٰہی اگر تو نے اس چھوٹی سی جماعت کو ہلاک کردیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہےگا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا اور نماز سے فارغ ہوئے۔
اس کے بعد آپ پر تھوڑی دیر کے لیے یکا یک غنودگی طاری ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر مسکراتے ہوئے نکلے اور فرمایا کہ کفار کی فوج کو شکست ہوگی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ (سیھزم الجمع ویولون الدبر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جنگ میں ابتداء نہ کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی صفیں ترتیب دیں۔
فریقین قتل و قتال پر آمادہ اور مستعد ہیں۔ لشکرِ کفار سے عتبہ و شیبہ پسران ربیعہ اور ولید بن عتبہ نکل کر میدان میں آگئے۔ اور جنگ مبارزہ کے لیے للکار کر مقابلے کے لیے تین شخص طلب کیے گئے۔ لشکر اسلام سے انصار مدینہ کے بہادر جوان عوف معوذ اور عبداللہ بن رواحہ نکلے۔ عتبہ نے کہا (من انتم) تم کون ہو؟ صحابہ نے کہا (ہم انصار مدینہ ہیں) عتبہ نے متکبرانہ انداز میں کہا (ہم کو تم سے لڑنے کی حاجت نہیں ) چلا کر کہا (اے محمد ہمارے مقابلے کے لیے ہماری برادری کے لوگ بھیجو) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر حضرت حمزہ حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن الحرث کو بھیجا۔ حضرت علی شیر خدا اور حضرت حمزہ رضی اللّٰه نے پہلے ہی وار میں عتبہ اور ولید کا تمام کردیا۔ البتہ عبیدہ بن الحرث رضی اللّٰه کو شدید زخم آیا۔ حضرت علی نے بڑھ کر شیبہ کا کام تمام کرکے عبیدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں لائے۔

گھمسان کی جنگ شروع ہوئی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنت کے شوق میں شہادت کی طلب میں کفر کی صفوں کو چیرتے ہوئے جاتے۔ کئی لاش گراتے اور کئی زخمی کرتے۔
جانثارانہ انداز اپناتے ہوئے کفار کے سروں کو گھاس کی طرح کاٹتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ایمان کی طاقت سے تھے جبکہ کفار کفر کی ذلت سے خوف و حزن میں مبتلا تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قلوب و ارواح ایمانی قوت اور طاقت سے سرشار جبکہ کفار کے دلوں میں خوف و ہراس مسلط تھا۔

حضرت معوذ اور معاذ چھوٹی عمر کے بچے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے پوچھتے ہیں چچا جان ابو جھل کہاں ہے؟ کیوں بھتیجے؟ فرمایا وہ بدبخت ہمارے آقا کی شان اقدس میں گستاخانہ حرکتیں کرتا ہے۔ ہم نے قسم کھائی ہے اسے قتل کیے بغیر یہاں سے واپس پلٹ کر نہ جائیں گے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف اشارے سے بتایا کہ “سامنے جو گھوڑے پر صفین سیدھی کروا رہا ہے وہ ہی ابوجھل ہیں” میرا اشارہ کرنا تھا بچے شکاری باز کی طرح اڑ گئے اور ابوجھل کی پنڈلی پر تلوار کا ایسا خطرناک وار کیا کہ ابوجھل قد آور اور زیادہ قوت کے باوجود گھوڑے کے زینے سے زمین پر چت ہوکر گر پڑا دوسرے صحابی نے پل جھپکنے سے پہلے ہی تلوار کی ضرب سے زندگی کی باقی امید چھین کر آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو فرعون مکہ کے جہنم رسید کرنے کی خوشخبری سنانے چل پڑا اسی طرح تکبر اور نخوت سے سرشار فرعونِ وقت معصوم بچوں کے ہاتھوں انجام بد کو پہنچ کر رہتی دنیا تک کے ظالموں کے لیے پیغام چھوڑ گیا۔

لشکرِ اسلام کے جانباز سپاہی کفر کی کمر توڑتے ہوئے آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لشکر کفر صحابہ کرام کے تابڑ توڑ حملوں سے خوف زدہ اور سراسیمہ ہوکر بھاگنے میں عافیت سمجھ کر ڈھیروں مال و متاع اور اپنے ستر لاشیں اور ستر قیدی مسلمانوں کی قبضہ قدرت میں دے کر ذلت وخواری کی خاک چاٹتے ہوئے چل پڑتا ہے۔ مشرکین دم دبا کر ایسے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کہ مکہ جاکر سانس لیتے ہیں۔

لشکرِ اسلام کے سپہ سالار اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کی لاشوں کو ایک جگہ دفن کرتے ہیں۔ ان کے جسموں میں بدبودار سڑن پیدا کررہے تھے۔ جہنمی فرشتے ابدی عذاب دینے کے لیے منتظر تھے۔

آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام پر فائز اولو العزم شخصیات صحابہ کرام کی نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین سے فارغ ہو کر دعائے خیر فرماتے ہیں۔۔۔
مسلمان جنگ سے فتحیاب ہوکر چہرے خوشیوں سے سرشار لیے مال غنیمت اور ستر قیدیوں کے ساتھ مدینہ منورہ کی راہ لیتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ گلاب کے پھولوں کی طرح چمک اٹھتا ہے اور رب العالمین کی حضوری میں سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے بے تحاشہ زمین پر جھک جاتا ہے۔
اسی طرح حق اور باطل کا عظیم الشان معرکہ 18 رمضان المبارک کا طلوعِ آفتاب رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے نویدِ سحر کے ساتھ آسمان پر جلوہ افروز ہوتا ہے۔ اور وہ بابرکت دن یوم الفرقان کے نام سے موسوم و مشہور ہو جاتا ہے۔

فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے