Home / کالم / ماں

ماں

تحریر
فضالہ وصیف
اٹک
🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ کب پیدا ہوا تھا؟
یہ تو اسکو جنم دینے والی، ماں کو بھی پتہ نہیں تھا۔ اس کا تعلق ایسے دیہاتی علاقے سے تھا جہاں تاریخ پیدائش تو کجا، بسا اوقات پیدائش بھی یاد نہیں رکھی جاتی تھی۔

ماں کہتی تھی کہ اس کی پیدائش تب ہوئی جب چند برس قبل اس کے والد اور سگے چچا کے درمیان جائداد پہ تنازع ہوا تھا۔ توتکرار ہاتھا پائی میں تبدیل ہوئی اور بالآخر سگے چاچا کے بندوق سے نکلی گولی اس کے بابا کو چاٹ گئی۔

وہ ننھی منی گولی اک کوہ گراں بن کر برسی۔
جس نے پل بھر میں ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔
اک نو زائیدہ بچے کے سر سے مضبوط سائبان چھین لیا۔
ایک جواں سال بیوی کو “بیوہ” کردیا۔
عمر بھر کے لئے دو خونی رشتہ رکھنے والے گھرانوں کو جدا کردیا۔

جب وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو اسکی ماں نے عجیب فیصلہ کیا۔

“میرا بیٹا اسکول جائے گا۔عصری میدان میں اک شہسوار بن کر اترے گا۔پھر وہ میدان جہاد میں کلمہ حق کا علمبردار بنے گا۔وہ نسل در نسل پلنے والی اس خاندانی دشمنی کا حصہ کبھی نہیں بنے گا۔ میں دعا کرتی ہوں کہ میرے بیٹے کا مد مقابل ہمیشہ “سگان باطل” کے قبیل سے ہو۔ اسکے ہاتھ کبھی اپنوں کے گریبانوں کی طرف نا بڑھیں۔ وہ ہمیشہ قانونی جنگ کا نمائندہ ہوگا۔۔۔۔۔
ان شاء اللہ۔”

دادا نے کچھ کہنے کو لب وا کئیے۔ مگر کس بل بوتے پہ وہ بہو کو روکتے؟ ان کے اپنے ہی ہاتھ نے اٹھ کر انھی کا دوسرا ہاتھ کاٹ دیا تھا۔ انھی کے بیٹے نے اپنے بھتیجے کو یوم پیدائش پہ “داغ یتیمی” کا تحفہ دیا۔ اس کی ماں کو “بیوگی” کا تمغہ دیا۔
اتنے عرصے کے بعد آج وہ اس ہمہ وقت آنسو بہاتی عورت کے نم آنکھوں میں مسرت کی لالی دیکھ رہے تھے۔ اس کے ٹھنڈے لہجے میں کہے گئے شبدوں میں وہ عزم استقلال کی آہنی مضبوطی دیکھ رہے تھے۔

وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور ایک دن خاکی وردی میں ملبوس، بھاری بھرکم بوٹ پہنے ہوئے، سر پہ خاکی کیپ، بازو پہ لگے چمکتے تارے، وہ قوی ہیکل، تنو مند جوان اپنی والدہ کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔

ماں کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا۔ شاید کچھ لپٹا ہوا تھا اس میں۔
ماں نے کپڑے کو کھولا۔
اس میں اک ” تعویذ ” تھا۔
اسکے گلے میں ڈالتے ہوئے ماں نے کہا؛ بیٹا! کل رات جن تم نے بتایا کہ تمھاری پوسٹنگ ہوگئی ہے۔ تو میں نے پوری رات جاگ کر اس کاغذ پہ ” سورہ یس” لکھی ہے۔ بیٹا! اسکو کبھی گلے سے اتارنا مت۔ برستی گولیوں میں، خوفناک فضاوں میں، سنگلاخ چٹانوں میں، دشمن کے بیچ و بیچ،

یہ تعویذ۔۔۔۔
تمھاری ماں کا یاد کرایا ہوا درس عزیمت،
اور ممتا کے لبوں سے نکلتی دعائیں ہمیشہ تمھارا حوصلہ بڑھاتی رہیں گی۔

سعادت مند بیٹے نے آگے بڑھ کرماں کی پیشانی چومی اور کہا؛
ماں!!!
تم تو میرے لئے وہ گلاب ہو جسکے بغیرگلشن سونا سونا لگتا ہے۔
فرشتہ صفت صورت،
پاکیزہ سیرت،
میٹھی بولی،
شفقت بھری آغوش کو چھوڑ کر جانا میرے لئے کٹھن تو ہے لیکن ماں!!! تمھارا یہ مسکراتا چہرہ میرے عزم،میرے حوصلے کو مضبوط کر رہا ہے۔

پھر دو قدم پیچھے ہٹ کر سیلوٹ کیا۔

ماں نے الوداع کہا۔۔۔ جلدی سے رخ موڑا اور اندر چلی گئی۔ مبادا بیٹے کو
چشم مادر میں چمکتی چاندنی دکھائی نا دے۔

روزانہ بیٹے کا فون آتا رہا۔
پھر ہفتہ وار خطوط آنے لگے۔
رفتہ رفتہ یہ سلسلہ ماہوار علاقائی، فوجی انتظامیہ کے ٹیلی فونک خیر خبر کی صورت میں تبدیل ہوا۔

ایک دن جبکہ سپیدہ سحر نمودار ہوا چاہتا تھا۔نور کے ہالے میں گھری ماں مصلے پہ فریضہ فجر کی ادائیگی کے بعد ہاتھ اٹھائے رب سے “راز و نیاز” کر رہی تھی۔ شبنمی موتی چن چن کر ہاتھوں کے پیالے میں قرار پا رہے تھے۔

کہی دور سے ہارن کی آواز ابھری اور کچھ ہی دیر بعد دروازہ بجایا جانے لگا۔
وہ جلدی سے اٹھی۔ دادا جان کا معمول تھا۔ وہ صبح سویرے، بہو کے ہاتھ کی بنی، ایک کپ چائے ضرور پیتے تھے۔
اس نے دروازہ کھولا۔
دھندلی نگاہوں نے دیکھا، ایک جوان صورت،
خاکی وردی،
وہ خوشی سی چیخی،

بیٹا!!! تم آگئے۔۔۔۔

مگر یہ دیدنی مسرت پل بھر میں ہی معدوم ہوگئی۔
ماں جی!
آپ کیپٹن حسنین معاویہ کی والدہ ہیں نا؟؟؟
ہم آپ کے “شھید” بیٹے کو لے کر آئے ہیں۔
اچانک ہی دادا جی اپنے ضعیف وجود کو سنبھالتے، لاٹھی کے سہارے، تیز تیز چلے ہوئے اس کے پاس آئے اور کپکپاتی آواز میں کہا؛
سس سس سنعیہ وہ
حس سس نین!!!

ماں نے سر اٹھایا، اپنی تمام تر قوت کو یکجا کر کے بھرائی آواز میں کہا، ابا جی! الحمد للہ کہئیے اباجی!۔۔۔
پھر وہ اک بھر تمکنت و وقار اور پرسکون چال چلتے ہوئے۔ تشکر بر لب۔ اپنے بیٹے کے پاس آئی۔ شھید بیٹے کی متبسم لب دیکھ کر بے اختیار اس کا ماتھا چوما۔ اور فوجیوں کی جانب متوجہ ہو کر کہا؛
میرا بیٹا کہتا تھا کہ ماں گھر میں میٹھا ضرور رکھنا۔۔۔جب خبر دینے والے میری “قبولیت” کی خبر لائیں تو ان کا منہ میٹھا کروانا اور ان کو اچھے اچھے کھانے پیٹ بھر کر کھلانا۔۔۔

فوجی جوانوں نے جب یہ منظر دیکھا تو بے اختیا اک قطار بنا کر کڑاکے دار سیلوٹ کیا جس سے دشمن کی دل تک دہل گئے ہونگے۔

مزید ماہ و سال گزر گئے۔ ماں جی اب گھر میں بچوں کو قرآن پڑھاتی ہیں۔ کھانا کوئی بھی پڑوسی بصد اصرار لاکر اپنے ہاتھوں سے کھلا دیتا ہے۔۔۔
وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنے راج دلارے کے قبر پہ “اسی کاغذ” پہ لکھی ہوئی سورہ یس دیکھ کر پڑھتی ہے۔
دن چڑھے گھر آکر بیٹے کے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ اور ایک ایک چیز کو اٹھا کر چومتی ہے اور سینے سے لگاتی ہے۔
آج جب میں چائے دینے کے لئے گئی تو اماں بیٹے کے جوتے سینے سے لگائے رو رہی تھیں۔
مجھے دیکھ کر جلدی جلدی آنسو پونچھے اور مسکرائی۔۔۔
میں نے مصنوعی غصے سے کہا؛
ہمیں پانی کی ضرورت ہے۔ جب ڈیم بن جائے تبھی آپ یہ قطرہ حیات ہمیں دان کرئیے گا۔

انھوں نے کہا؛ ارے پگلی!! یہ تو تشکر کے آنسو ہیں۔۔

انھوں نے چائے پی۔ مجھے فرصت میسر ہوئی تو آپکی خدمت میں حاضر ہوگئی۔

ختم شد۔۔۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے