Home / کالم / نکتہ در نقطہ۔

نکتہ در نقطہ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
📕📕📕📕📕📕📕
ازقلم
فضالہ وصیف
📕📕📕📕📕
انسان کو اللہ تعالی نے عقل و شعور کی نعمت بے بہا سے نوازا ہے۔ غور و فکر کا بے بدل جوہر اس میں ودیعت کر رکھا ہے۔ کسی چیز کو سمجھنے کے لئے دماغ دیا ہے۔ دیکھنے کے لئے آنکھیں دی ہیں۔ جانچ پڑتال کے لئے عقل دی ہے۔
مگر؟؟؟
آپ جانتے ہیں نا۔۔۔۔
لوہا پڑے پڑے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔
کھڑے پانی پہ پھپھوندی آجاتی ہے۔
بے مصرف پڑی چیز گرد و غبار سے اٹ جاتی ہے۔

ایک سوداگر نے طوطا پال رکھا تھا۔ بیوی بچے تھے نہیں۔ طوطے کو حال دل سنایا کرتا تھا۔ ایک بار سفر پہ جا نکلا۔ چلتے چلتے جنگل میں، طوطوں کی ڈاریں اپنے آشیانوں کی جانب محو پرواز دیکھیں۔ بے فکر طوطے،۔اٹھکیلیاں کرتے، آزادی کے بھر پور احساس کے ساتھ اڑ رہے تھے۔
سوداگر کو احساس ہوا کہ میں کتنا ظالم ہوں۔ کتنے عرصے سے طوطے کو قید کر رکھا ہے۔ دل پسیج گیا۔
واپس آکر پنجرے کا دروازہ کھولا اور کہنے لگا؛ جا اڑ جا۔۔۔ اپنے آشیانے کی جانب۔ آزاد ہواوں میں۔ دلفریب فضاوں میں۔
طوطا نکل کر گھاس پہ بیٹھا۔اڑنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ تھک ہار کر کہنے لگا۔

“مدت ہوئی،صیاد نے چھوڑا بھی تو کیا؟
تاب پرواز نہیں، راہ چمن یاد نہیں”

عقل و شعور کا مصرف، اسے صحیح طور استعمال کرنا ہے۔
عجب امر ہے کہ ایک سیاہ نقطہ سب کئے کرائے پہ پانی پھیر دیتا ہے۔

نہیں سمجھے نا۔۔۔؟؟؟

ایک معمولی بات، ذرا سی لغزش، ذرہ برابر چپقلش، سالوں کی محبت سے بیگانہ کردیتی ہے۔
معمولی غم کئی خوشیوں سے انجان کردیتا ہے۔
ذرا سا جھگڑا، جگری دوستوں کو جانی دشمن بنادیتا ہے۔

ہم خامی کو نظر انداز کرکے خوبی کو قابل توجہ کیوں نہیں گردانتے؟
برسوں کی محبتوں کو پل بھر میں کیوں بھول جاتے ہیں؟
ایک سفید کاغذ پہ سیاہ نقطے کو فوکس کرکے، باقی ماندہ سارے کاغذ کی سفیدی کو کیوں بھول جاتے ہیں؟

آئیے اک اور پہلو سے سوچتے ہیں۔۔۔

کیا کبھی ہم نے سوچا کہ اس نقطے میں، کیا نکتہ پنہاں ہے؟
ہم غریب ہیں۔روکھی سوکھی کھاتے ہیں۔ کتنوں کو یہ بھی نصیب نہیں؟
اندھا دیوار کو ٹٹولتے ہوئے جارہا ہے۔اپاہج گھسٹ کر جارہا ہے۔ گونگا اشاروں میں بات سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ہم نے شکر ادا کیا؟
جس دوست کو اسکی خطا پہ میں لات مار آیا، کل جب میں مفلس و نادار تھا اس نے میری مدد نہیں کی تھی؟
کل میرے پاس سب کچھ تھا۔ آج کچھ نہیں تو کیا میں رب کائنات کو قصور وار ٹھراوں بجائے غور و فکر کے، کہ میں کن گناہوں کی پاداش میں زیر عتاب ہوں؟ یا آزمائش اور ابتلاء کے دور میں اللہ تعالی مجھے ثابت قدم پاکر اپنا قرب خاص نصیب فرمائیں گے؟

اگر آپ نے نہیں سوچا ابھی تک، تو اب سوچیں۔۔۔

نکتہ در نقطہ در حقیقت راز آشنائی ہے۔
جوہر معرفت ہے۔

ان مع العسر یسرا۔

آپ نقطہ مت دیکھئیے۔ نقطے میں پوشیدہ نکتہ سمجھئیے۔

“میرے مضمون کو پڑھ، میرے لفافے کو نہ دیکھ۔

ختم شد

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے