Home / کالم / نبض چلتی ہے تو—دُکھتی ہے کلائی میری

نبض چلتی ہے تو—دُکھتی ہے کلائی میری

****
ازقلم :-
**سفیراللہ نٙادِم**
📕📕📕📕📕

زندگی پروردگار عالم کی ایک عظیم نعمت ہے اور اسی عطا کردہ نعمت کی کئیں پہلو ہیں —
مثلاً سرور و غم ، راحت و تکلیف ، امیری و فقیری الغرض یہ مختلف جہات ہیں جو اس نعمت عظمیٰ سے متصف ہیں —

اور عموماً زیادہ تر مخلوقات کا انہیں مذکورہ بالا چیزوں سے ایک نا ایک درجے میں واسطہ پڑتاہے —

چاہے وہ جس بھی صنف سے ہو مگر اسی سے لاحق ہونے والا درد کا سہنا کافی دشوار ہوتاہے – یہ عام مخلوق کی بات کر رہا ہوں مگر یہی بات اگر مخلوقات میں زوریت آدمؑ سے ہو تو جزاء کی نوعیت عجیب شکل اختیار کرلیتی ہے —
جسے عرف عام میں عشق بھی کہا جاتاہے اس دنیا محبت میں انسان بسا اوقات انسانیت کے دائرے سے نکل کر حیوانیت کی روپ اختیار کرلیتا ہے —
اب اس دنیا سے بے خبر لوگوں کی نظروں میں وہ قابیل سے کم نہیں ہوتا مگر یہ نہیں دیکھتے کہ اس شخض کو آپنی عزت کتنی پیاری اور محبوب تھی —

خیر جب کسی بھی بندے کو یہ بیماری لگتی ہے تو شفاء کم ملتاہے کیونکہ اس کا علاج نہیں ہوتا ، دوائی نہیں ملتی ، طبیب حازق نہیں ہوتا جو بیماری کو جان سکے —
لیکن اس مرض لا علاج میں خدا کثرت سے یاد آتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مخلوق سے امید ختم ہوکر نگاہ آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں کہ اب بس آپ سے امیدیں وابستہ ہیں —

یہی عشق مجازی کی سمجھ سے ہمیں عشق حقیقی کی درس بھی مل رہاہے کہ آیا یہ محبوب اور عاشق دونوں کی اس بسنے والے جہاں کا کیا ایک حقیقی تصور والی چیز عشق مجازی ہے –
میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ اس مجازی عشق کا فائدہ کیا ہے ؟
کافی دیر سوچ و بے چار کے بعد میں نے جواباً بھی یہی کہا کہ مجاز سے حقیقت کا پتہ چلتاہے یہ مسلمہ قاعدہ اور کلیہ ہے تو لہذا عشق مجازی سے (جو ایک بندے کا دوسرے بندے سے ہو)عشق حقیقی سمجھ آتاہے ( جو اللہ اور بندے کے درمیان ہو) یہ سننے کے بعد بولے نادم بھائی یہ جو لوگ محبت کرتے ہیں آپس میں یہ سب مجازی ہے؟
یک نہ شود دو شود میں کہا جی حضور ایسی ہی بات ہے کہنے لگے پھر تو حقیقت نہ رہی ؟
خود بھی تعجب میں پڑھ گیا کہ حقیقت یکایک کیسے ختم ہوگئی – اسی سوچ میں تھا کہ ذھن میں ایک بات آئی کہ حقیقت سمجھنے کے لیے حقیقت والے لوگ چاہئیے –
کہنے لگے کیسے ؟
میں بولا دیکھیے بھائی حضورؐ معراج جاتے ہیں تو اپنے صحابی حضرت بلالؓ کی پاوں کی آہٹ کی آواز جنت میں سنتے ہیں یہ تو سچ ہے نا ؟ جی حضرت بول کر متحیر میرے طرف نگاہ کیے دیکھ ہی جارہے تھے –
تو میں نے کہا وہاں حضورؐ کو آواز کا آنا یہ عشق بلالؓ کی حقیقت ہے –
بڑے ایمان آفروز آواز میں بولے سُبْحٙانٙ اللّٰہ سُبْحٙانٙ اللّٰہ

مجھے بھی جان چھڑانے پر کافی خوشی ہوئی کہ مالک تیرا شکر ہے –
تو دوست و احباب ایک بات یاد رکھیے گا کہ ہر مجاز باعث گناہ عمل نہیں بلکہ درس ثواب ہے –
کہ آپ دنیا میں زندگی کیسے گزاریں ، عمل کیسے کریں ، حقیقت کو آپنے اوپر آشکارہ کرنے کے لیے خود کو کبھی مجاز کی دامن میں ڈالنا پڑتاہے —

تو زندگی گزاریں موحد ہوکر لیکن اتنا صوفے اور شیخ نہ بنیں کہ لاعلمی میں آپ کی مثالیں دی جارہی ہوں اور آپ کہاوت بن گئے ہو جہاں والوں کے لیے —
بہر کیف بعض باتوں کو جاننے کے لیے بعض کے کیف سے خبر ہونا ضروری ہوتاہے
کتنا کمزور کیا—- عِشق نے تیرے مُجھ کو
نبض چلتی ہے —- تو دُکھتی ہے کلائی میری

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے