Home / کالم / سوال تو بنتا ہے”

سوال تو بنتا ہے”

“تحریر
“محمد حذیفہ معاویہ تونسوی ”
📕📕📕📕📕📕📕📕
اس بات سے انکار نہیں کہ ہر دور اور ہر حکومت میں “قانون رسالت” اور “آئین ختم ختم نبوت” پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن یہ بات ماننا پڑے گی کہ اس حکومت میں ان کوششوں،بلکہ سازشوں میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوا ہے۔
اب حکومت کی طرف سے نیا فیصلہ سننے میں آرہا ہے کہ
“پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتوں میں شامل ہونے کی منظوری دے دی گئی ہے”

امت مسلمہ کے لیے انوکھا اور عجیب ترین فیصلہ ہے۔ جس کی “عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت” اور تقریبا تمام مکتب فکر کے”علماء”اور دینی جماعتوں کے “رہنماءوں” کی طرف سے بھر پور مذمت کی گئی ہے۔

بعض لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ جب قادیانی غیر مسلم ہیں تو ان کو غیر مسلم اقلیتوں میں کیوں شامل نہیں کرنا چاہیے ؟؟
ان کی خدمت میں چند گزارشات ہیں:
“جو قوم پاکستانی قانون کے مطابق اپنی حیثیت اور کفر کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتی ہے۔۔۔۔۔ “آئین پاکستان” کے خلاف خود کو “مسلم کمیونٹی” کی حیثیت سے متعارف کرواتی ہے، ایسی قوم کو ان کے “اقرارکفر” کے بغیر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر غیر مسلم اقلیتوں کے کمیشن میں آخر کس قانون کے ساتھ شامل کیا جا رہا ہے؟؟
کیا یہ تحریک انصاف کی طرف سے انصاف کے نام پر قانون پاکستان کی تذلیل و تحقیر اور اہانت نہیں ہو رہی ہے؟؟
سوال تو بنتا ہے

دوسری بات یہ ہے کہ:
“غیرمسلم اقلیتوں کو آئین کی رو سے اپنی حثیتوں کی بنیاد پر مذہب کا پرچار کرنے کی اجازت ہےاور حتی الامکان حکومت وقت کی اہانت بھی ان کے ساتھ شامل ہوتی ہے۔ جیسے ہندو “ہولی” اور “دیوالی” کی تہوار مناتے ہیں۔ عیسائی “ایسٹر” اور “کرسمس ڈے” وغیرہ ۔
جبکہ یہ تمام حقوق قادیانیوں کو شرعی اور آئیں پاکستان کی رو سے بالکل بھی نہیں دیئے جا سکتے کیونکہ:
قادیانی 1974 کے آئین کی روشنی میں اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہ سکتے۔
آذان نہیں دے سکتے۔ خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہ سکتے۔ اپنے مذہب کی دعوت نہیں دے سکتے۔
ان سب کے باوجود قادیانیوں کو باقی اقلیتوں کی صف میں کیوں کھڑا کیا جا رہا ہے؟؟
کہیں غیر محسوس طریقے سے قادیانیوں کےناجائز حقوق تو نہیں مانگے جا رہے”؟؟
سوال تو بنتا ہے۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ، پہلے سیاست دان کے متعلق قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ
“عمران خان نے ہمیں کہا ہے کہ:
” میرا ساتھ دو میں تمہیں تمارے حقوق دلاءوں گا ”
تاریخ میں پہلی مرتبہ مرزا مسرور اپنے چیلوں کو یقین دلاتا ہے کہ” مرکز پاکستان آئے یا نا آئے بہر حال اب ہمیں ہمارے حقوق ملیں گے”
پوری قوم کے پرزور مطالبے کے باوجود اس بیان پر وزیر اعظم کا کوئی جواب نہیں آتا۔
موجودہ حالات کو مدنظر رکھ کر پوچھتا ہوں !کیا ان سازشوں کو پورا کرنے کے لیے راہ ہموار تو نہیں کی جا رہی ہے؟؟؟
سوال تو بنتا ہے۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلم وزیر اعظم حلف نامے میں “خاتم النبین” کے لفظ پر ہچکچاتا ہے،اور اسی ملک میں اسی وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے ایک گستاخہ (آسیہ ملعونہ) کو حکومتی سرپرستی میں رہا کروایا جاتا ہے۔ یہاں پر وزیر اعظم ذرا بھی نہیں ہچکچاتا،بلکہ بھر پور حمایت کرتا ہے آخر کیوں؟؟
پوری امت مسلمہ کے احتجاج اور جذبات کوپس پشت ڈال کر اسلام دشمن سرگرمیاں آخر کس کے کہنے پر ہو رہی ہیں؟؟
سوال تو بنتا ہے۔

دودھ کے دھلے تو پہلے حکمران بھی نہیں تھے۔ لیکن چوروں کے ملک میں ڈاکے اور وہ بھی ختم نبوت اور قانون رسالت پر، آخر کون سے طاقتیں ہیں؟؟جن کا ہر حکم ماننے پر موجود حکمران مجبور ہو چکے ہیں ؟؟
کچھ عرصہ قبل حج کے فارم سے ختم نبوت کے حلف نامے کو نکالا جاتا ہے۔ پھر کرونا کہ آڑ میں یہ نئی سازش سامنےآئی ہے۔ اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کے خوف میں مبتلا ہے۔ تمام معاملات ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان حالات کے باوجود مدہوش عوام کے ہوش میں آنے سے پہلے وزیر اعظم صاحب کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے کی آخر کیا ضروت پیش آگئی تھی؟؟
سوال تو بنتا ہے۔

علامہ محمد اقبال کے فرمان:
“قادیانی ملک اور اسلام کے غدار ہیں”
کو نظر انداز کرتے ہوئے اقلیت کے نام پر قادیانی غداروں کو خفیہ طرز چالاکی سے آگے لانے کی کوشش کرنا۔۔۔۔
کہیں کروڑوں مسلمانوں کی شاہ رگ پر چھری رکھ کر قانون رسالت اور قانون ختم نبوت میں ترمیم کا حق تو نہیں مانگا جا رہا؟؟
سوال تو بنتا ہے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے