Home / کالم / میرے ملک کی عجب کہانی

میرے ملک کی عجب کہانی

ذرا سوچیں!
تحریر: ریاض حسین
(جوائنٹ فورسز پبلک سکول چیچہ وطنی
📕📕📕📕📕📕📕📕📕📕📕
میرا ملک پاکستان اللہ تعالیٰ کا ایک خاص تحفہ آزادی کی صورت میں نصیب ہوا، میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے والدین اور بزرگوں کو جنہوں نے قائد اعظم ؒ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر آزادی کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے پاکستان تشریف لائے، پاکستان کا معرض وجود میں آنا کوئی ایک دن کا قصہ نہیں، اس آزادی کے پیچھے ایک لمبی تاریخ، بہت سے جید علماء، دانشور، فقہا اور رہنماؤں کی جہد و جہد اور ان گنت جانی و مالی قربانیاں ہیں۔ کسی ملک کا قائم ہو جاناشاید اتنی اہمیت کا حامل نہیں اگر وہ ملک آزادی کے بعد اپنی اہمیت کھو جائے،جب تک کہ وہ ترقی کی منزلیں طے کرتاہوا اپنے مقاصد کو حاصل نہ کر لے، میرے ملک کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے، آزادی تو حاصل ہو گئی مگر جن اصولوں اور مشن کے تحت حاصل مقصود تھا وہ مقصد ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ قائد اعظم ؒ کا بڑے بڑے رہنماؤں کے کہنے پر یا خواب میں اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت اور حکم پر واپس آکر پاکستان بنانے کے لیے پھر سے بھر پور کوشش کرنا کسی سے پوشیدہ نہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی، جب قائد اعظم ؒ سے پوچھا گیا اس کا طرز قانون کیا ہوگا؟ تو جواب ملتا ہے کہ میں کون ہوں کا طرز قانون بنانے والا اس کا قانون تو چودہ سو سال پہلے اللہ کے نبی بنا گئے ہیں۔ تو ثابت ہوا وطن عزیز پاکستان خالصتاً اسلامی نظریہ کے تحت ہی معرضِ وجود میں آیا، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کامطلب کیا الا الہ اللہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اسلامی جمہوریہ کا مطلب صاف عیاں ہے کہ اس کا طرز زندگی، قانون، عدل و انصاف وغیرہ وغیرہ اسلامی بنیادوں پر قائم ہوگا اور اس قدر بہتر اور جامع ہو گا کہ اسوہ حسنہ صاف عیاں ہوگا، قائد اعظم ؒ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے رشوت، اقراء پروری جیسی برائیوں کو آہنی ہاتھوں سے نبٹنا ہوگا، اور عدل و انصاف کو قائم رکھتے ہوئے معاشرے میں عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم ہو گا۔ یہ وہ سب باتیں اللہ اور اللہ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں بتائیں، پاکستان کیا بنا سرمایہ داروں اور وڈیروں کو سونے کی کان مل گئی، جن عوامل کی قائد اعظم ؒ نے نشاندہی فرمائی ہم نے بطور قوم، لیڈر،حکومتی عہدیدران، ادارے کے سربراہان آڑئے ہاتھوں لیا، ثابت کیا اور کرنے پر تُلے ہوئے ہیں کہ ہم ان کو روکنے کی بجائے پروان چڑھائیں گے۔ آج دیکھو ہر طرف عدل و انصاف کے لیے لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں جن کو عدل و انصاف کا ترازو تھاما جاتا ہے اور معیار انصاف اسقدر گر چکا ہے کہ اب اس سے گھن آنا شروع ہو گئی ہے، رشوت ستانی کو روکنے کی بجائے اپنی زندگی کا معمول بن چکا ہے، اقراء پروری کی نشاندہی کی تو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے اور اس کی پاداش میں میرٹ اسقدر ڈی میرٹ کر دیا گیا ملک کے ذمہ دار عہدوں پر ان پڑھ، میٹرک اور ایف اے پاس وزیر، مشیر، اور گورنر تک تعینات کرتے ہوئے، قائد اعظم ؒ کے ان الفاظ کو دفن کر دیا، آج ہر محکمہ بوگس TA/DA، رشوت ستانی، بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جس طرح سطح سمندر سے مری، کاغان، ناران، کنجراب ہزاروں فٹ بلند ہیں اسی طرح پاکستان کے بنیادی ڈھانچے سے ہمارا نظام ہزاروں میلوں کے فاصلے پر غرق ہو چکا ہے،ہر آنے والی حکومت نے رشوت کے خاتمہ کا نعرہ بلند کیا، عدل و انصاف خا ص و عام کے لیے یکساں کی آواز بلند کی، تھانہ کلچر کو درست سمت لے جانے کے وعدے فرمائے، غریب کے حقوق کی بات کی، روٹی،کپڑا اور مکان کے راگ الاپ پر اقتدار کی مسند پر بیٹھتے گئے، جیسے ہی حکومتی عہدوں پر برجمان ہوئے، ان سب وعدوں کو پس پشت ڈال کر اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کے خلاف پہلے سے موجود برائیوں کو پذیرائی بخشی، ماشاء اللہ لمبی لمبی داڑھیوں والے، ہاتھ میں تسبیح لیے، بظاہر پانچ وقت کی نماز اور ماتھے پر محراب سجائے ہوئے آخری نبی ﷺ کے امتی ہونے کا دعوے کرنے والے حد سے گر جائیں گے سوچا تک نہیں تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام نہیں بلکہ مافیا ہے جو ہر حکومت کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیتا ہے، اس مافیا سے فائدہ اٹھاتے ہوے سیاسی وابستگیاں مزید معاشرتی نظام کو دیار غیر کی طرف لے جا رہی ہے۔ بہتر سال کے بعد ہم اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ کوئی بھی کام بغیر رشوت، سیاسی تعلقات، جنسی ایکسائٹمنٹ، اقراء پروری کے بغیر لا حاصل ہے۔ پاکستان کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گئے قوانین کو ویسے ہی جلا وطن کر دیا گیا۔ اب اس ملک میں حکومتی عیاشی اور آزادی کا مزہ صر ف اور صرف بیس سے پچیس فیصد اشرافیہ فیضاب ہو رہی ہے باقی ان کی راخیل بن چکی ہے۔ اب اس آزاد ملک میں رہ کر بھی ہم آزاد نہ رہ سکے، آئے روز جنسی تشدد کے واقعات، دن دیہاڑے چوری اور ڈکیتی کا عروج پکڑنا، یہ سب عدل و انصاف کے فقدان کی وجہ سے ہے۔یہ ہے میرے ملک پاکستان کی عجب کہانی جسے کوئی بھی ذی شعور دیکھتا اور سنتا ہے تو اس کی آسوں اور ا میدوں کے پرخچے اڑ جاتے ہیں۔اختتام کرتا ہوں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے ملک سے سچی محبت عطا فرمائے اور آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ پراپنی زندگی اور اپنے ملک و عوام سے صحیح اور حقیقی معنوں میں اسلامی بنیادوں پر بنیاد استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    آپ کی نشان دہی بلکل درست ہے ہماری بھوکی عوام کا ہدف روٹی کپڑا اور مکان ہے ۔حافظ قرآن ہیں لیکن عمل نہیں ۔تعیلم ہے لیکن شعور نہیں
    آج ہم ایسی قوم بن چکے ہیں جو اپنا ماضی حال سب بھول گیے ہیں ۔ہم قرآن کو نہیں سمجھ رہے کیوں قرآن کو صرف عربی میں پڑھ رہے ہیں اردو میں نہیں ۔ہمارے معاشرے میں جھوٹ باعث فخر بولا جاتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے