Home / کالم / شھید اسلام سے پہلی حسین ملاقات

شھید اسلام سے پہلی حسین ملاقات

“تحریر
⁦✍️⁩سیف اللّٰه صدیـقی
📕📕📕📕📕📕
آج صبح حسبِ معمول بستر پر محو استراحت ہوکر نیند کے آغوشِ محبت میں مبتلا ہونے کی “ناکام” کوشش سے پہلے فیس بک کی طرف قدم رنجہ فرمایا: فیس بک پر نظر دوڑائی چاروں طرف شھید اسلام کی ولادت باسعادت کے متعلق تحریریں نظر سے گزریں کہ اچانک جھٹکے سے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے ایک یادگار ماضی کا نقشہ حقیقت کا روپ دھار کر میرے وجود سے ایسے سمٹ گیا کہ “یادِ ماضی عذاب ہے یارب” کا مصداق بنا۔
میری نیند فضاء میں معلق ہوکر رہ گئی۔ اور
اس عظیم الشان ہیرو کی حسین یاد نے
“نہ سونے دیا نہ کھونے دیا” پر عامل اور دل و دماغ پر حکمران بن کر لفظوں کا روپ دھارنے کا فرمان جاری کیا اور ہم نے تابعداری قبول کرنے میں عافیت سمجھی۔

آئیے! آپ بھی لطفِ سخن سے لطف اٹھائیں”

میں نے ادب کی تمام حدیں عُبور کرکے میسیج کیا “سائیں آپ ہمارے گاؤں (سرگو) آرہے ہیں”
فوراً سے پہلے جواب آیا “جی ہاں”
مجھے شھید کے جواب ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور بے تحاشہ خوشی ہوئی۔
میں نے لکھا “سائیں آپ کہاں پہنچے ہیں”
جواب آیا “کیوں؟”
میسیج کا پڑھنا تھا کہ میری مسکراہٹ رفو چکر ہوگئی ہونٹ خشک اور تن بدن سے پسینہ ندی نالوں کی طرح بہنے لگا۔ ہوش و حواس جواب دے گئے۔ میں لاش بن کر چار پائی پر لیٹ گیا۔

تھوڑی دیر گزری کہ گاڑیوں کے ہارن آکر کانوں سے ٹکرائے۔ میں جلدی نیچے گیا۔ دیکھا کہ حضرت ڈاکٹر شھید نور اللہ مرقدہ گاڑی سے اتر کر مدرسے کی چوکھٹ پر سے گزر کر صحن میں آکر بیٹھ گئے ہیں۔ جہاں پر پہلے سے تمام تر انتظامات مکمل تھے۔ پورے گاؤں کے بڑے، چھوٹے، بوڑھے، جوان، چوٹی بچیاں شرفِ زیارت حاصل کرنے کے لیے سیلاب کی طرح اُمڈ پڑے۔ ڈاکٹر صاحب نے سب سے الگ الگ مصافحہ کیا حال احوال دریافت کیے۔ میں بھی درمیان میں ڈرتے سہمتے آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے دل میں دعائیہ کلمات “یا اللہ خیر” کا ورد کرتے ہوئے مصافحہ کیا۔
شھید جمعیت سے بڑوں نے حال احوال دریافت کیے۔
میں دل ہی دل میں “آئندہ احتیاط کرنے کی تدبیریں اختیار کرنے کا سوچ رہا تھا” کہ اچانک شھید اسلام کی آواز فضاء میں گونجی۔
“آپ میں سے سیف اللّٰه کون ہے”
میرے سوچوں کے سمندر سے نکل ہی نہ پایا تھا کہ حاضرین کی نظریں مجھ پر مرکوز ہوکر رہ گئیں۔
“آہستہ سے کہا سائیں میں ہوں”
محبت سے فرمایا: کیا حال ہے’
جذبات اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے
بڑی مشکل سے لفظ ادا ہوئے “جی الحمد للّٰہ ٹھیک ہوں” اور لرزتے ہاتھ مصافحہ کے لیے آگے بڑھا دئیے،
آگے سے ہاتھوں کو تھماتے ہوئے اپنے دلنشین انداز میں فرمایا گیا: طبیعت ٹھیک ہے’
کپاس جیسے نرم اور دودھ جیسے سفید ہاتھوں میں میرے ہاتھ ایسے محسوس ہوئے جیسے خوشبودار پھولوں کے جمگھٹے میں کانٹے۔
“مختصراً جی سائین پر اکتفاء کیا”
ہنستے ہوئے فرمایا “اچھا تو سیف اللّٰه صدیـقی آپ ہو” میسج کرتے پھرتے ہو، بڑے آئے ہو پوچھ تاچھ رکھنے والے۔ سیف اللّٰه صدیـقی کے نام سے خبریں آپ لگاتے ہو۔
سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔
میں صرف سر ہلاتا ہوا جی سائین کر پایا۔
آگے فرمایا:
“آپ کو پتہ ہے میں گھر سے نکلتے وقت اپنے ڈرائیور کو بھی نہیں بتایا کرتا کہ “فلاں شہر یا فلاں جگہ چلنا ہے۔ میں صرف اشارے سے کہتا ہوں یہ روڈ چلو، آگے موڑ مڑنا، دائیں طرف کٹ دینا اور یہیں رکنا وغیرہ وغیرہ۔
ہنستے ہوئے “خوبصورت دانت جیسے موتیوں کی مالا ہو”
میری حالت اس عاشق کی تصویر بنی ہوئی تھی جیسے فراقِ یار کا غم گھائل ہو:

“دعویٰ کیا تھا ضبط محبت کا اے جگر!
ظالم نے بات بات پر تڑپا دیا مجھے

خود دیگر احباب سے حال احوال پوچھنے میں محو ہوگئے۔ اور کبھی کبھار نظرِ کرم کی شعائیں میرے پسینے سے شرابور چہرے پر پڑتیں۔

مجلس اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کہ مجھے فرمایا: “میں آپ کا محفوظ کرتا ہوں جب دل چاہے بات کرنا کوئی کام ہو میسیج کردیا کرو”
بے اختیار دل میں گنگنانے لگا:

کہاں میں اور کہاں نکہت گل
نسیمِ صبح یہ تیری مہربانی ہے

گفت و شنید کی یادگار محفل دلنشین شخصیت سے ملاقات اور گفتگو میرے وجود پر گہرے نقوش چھوڑ کر اختتام کو پہنچی اور پہلے سے بڑھ کر محبتوں کا اسیر بناکر ہمیشہ کے لیے قید و بند کردیا۔
آخر میں شھید اسلام نے گلے لگا کر کر کئی نصائح وارشادات بتائے بغیر پلے باندھنے کی کوشش کی: جس پر الحمد للّٰہ عمل درآمد کیا ہے۔

“اور آخری ہمیشہ والی ملاقات جنت الفردوس میں شھید اسلام کی عظیم الشان مشک و عنبر زعفران و مروارید سے تعمیر شدہ عالیشان اور وسیع النظر عمارت میں ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ اور شھید اسلام کے رفیقِ حیات بن کر رہیں گے”

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے