Home / اردو ادب / سکتے کی موت

سکتے کی موت

تحریر:
فلک زاہد
📕📕📕📕📕
یہ کئ سو سال پہلے کی بات ہے جب لوگ علاج معالجے کیلے حکیم,جڑی بوٹیوں اور ایسی ہی کئ دوسری چیزوں سے اپنی بیماری کا علاج کیا کرتے تھے جس کا نظام کچھ اچھا نہیں تھا.اکثر لوگوں پر سکتے کی موت طاری ہوجاتی تھی جنہیں مردہ سمجھ کر دفنا دیا جاتا تھا مگر درحقیقت وہ زندہ ہوا کرتے تھے.
ایسے کئ واقعات رونما ہوچکے تھے کہ جنہیں مردہ سمجھ کر دفنا دیا جاتا وہ بعد میں زندہ ثابت ہوتے جس کی تصدیق قبرستان کے گورکن کیا کرتے تھے.اس وجہ سے کافی لوگ خوفزدہ رہنا شروع ہوگے کہ اگر وہ کبھی حادثاتی طور پر زندہ دفن ہوگے تو پھر کیا ہوگا…چنانچہ اس مسلے کا حل یوں نکالا گیا کہ تابوت یوں بناے جانے لگے جن میں سوراخ ہوا کرتے تھے جس کے ساتھ کچھ فٹ لمبی تانبے کی نلکی جوڑ دی جاتی تھی اور قبر کے اوپر ایک گھنٹی لگا دی جاتی تھی جس کی تار زمین میں سے ہوتی ہوئ نیچے تابوت تک جاتی تھی.ایسا کرنے سے اگر کوئ غلطی سے زندہ دفنا دیا جاتا تو وہ تانبے کی نلکی کے ذریعے سانس لے سکتا تھا اور اس گھنٹی کو ہلا کر قبرستاںن کے گورکن کو چوکنا کر سکتا تھا کہ وہ ابھی زندہ ہے.
وہ امریکہ کا ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جس کی ایک رات قبرستان کے ایک گورکن نے گھنٹی کی آواز سنی.وہ اس طرح کی گھنٹیوں کا عادی تھا.اکثر اوقات یہ شرارت مقامی بچوں کی ہوتی تھی جو کھیلتے وقت ایسی شرارتیں کرتے تھے تو کبھی کبھی تیز ہوا کی وجہ سے قبروں پر لگی گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں.بہرحال گھنٹی بجنے پر گورکن یہ ضرور دیکھا کرتا تھا کہ آخر گھنٹی کس بِنا پر بجی ہے.اس بار جب وہ اپنے چھوٹے سے جھونپڑی نما گھر سے باہر آیا اور اس سمت دیکھا جدھر سے گھنٹی کی آواز آئ تھی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کوئ مسلسل زمین کی تہہ سے گھنٹی بجا رہا تھا.
گورکن نے جلدی سے آگے بڑھ کر اپنے کان تانبے کی نلکی سے لگا دیے اور اندر سے آنے والی کوئ کمزور سی آواز سن کر حیران رہ گیا جو باہر نکلنے کی التجا کر رہی تھی.
قبرستان میں گہرا اندھیرا اور سناٹا طاری تھا.گورکن نے قبر پر نگاہ دوڑائ جس پر مرنے والے کا نام کندہ تھا
“کیا تم سارہ کونن ہو”
“ہاں” گھٹی گھٹی سی آواز میں کہا گیا.
“کیا تم 17 ستمبر 1907 کو پیدا ہوئ ہو تھی” گورکن نے پوچھا.
“ہاں” زمین کی تہہ سے جواب موصول ہوا.
“مگر قبر پر موجود تحریر تو بتاتی ہے کہ تم 20 فروری 1858ء کو مرگئ ہو” گورکن نے کہا.
“نہیں میں مری نہیں ہوں,میں زندہ ہوں”قبر سے آواز آئ.انہوں نے مجھے غلطی سے دفنا دیا ہے.میں تم سے عاجزی سے کہتی ہوں کہ مجھے باہر نکالو.”
گورکن نے اسے خاموش کرنے کیلے وہ گھنٹی تار سے اتار لی اور تانبے کی نلکی بھی اوپر کھینچ لی جو مٹی سے لت پت تھی.
“سوری لیڈی!” گورکن نے کہا.”یہ 1959ء ہے.تم جو کوئ بھی ہو اس قبر کے اندر زندہ نہیں ہو,مر چکی ہو اور میں تمہیں باہر کبھی نہیں نکال رہا.” گورکن نے دوٹوک لہجے میں کہا اور اپنے جھونپڑی نما گھر کی جانب چل دیا….!!!
————-

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    I very like this blog. Everything is cleared.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے