Home / کالم / دانشوُور اور دانشور

دانشوُور اور دانشور

تحریر
غلام سرور
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
دانشوور وہ مراعات یافتہ طبقہ اور افراد ہیں جن کی زہنی استدعا دولت پوری کرتی ہے۔ اور پیسے کی بنیار پر خود کو زہین فتین بناتے ہیں۔ یہ نو دولتیے بھی ھوتے اور اکثریت سونے کا چمچ لے کر پیدا ھوتی۔ جبکہ دوسری طرف دانشور وہ محنتی ہنر مند قابل اور حقیقی دانش کے حامل افراد ہیں ۔ جو اپنی زندگی صفر سے شروع کرتے اور دن رات انتھک محنت کے بعد اس اشرافیہ کی پول کھولنے کا کام کرتے۔ پاکستانی معاشرے میں یہ دانشوور انتہائی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں پنجے گاڑڈ چکے ہہیں۔ جس کی وجہ سے “حقیقی ” علم کی جستجو مانند پڑ چکی ہے۔ کیونکہ علم پربھی ان کا قبضہ مضبوط ھے۔
علمیہ یہ جیسے جیسے ملک پر نا اھل اور نالائق لوگ فائز ھوتے گئے ان نو دولتیوں کے لئے راستہ آسان ھوتا گیا جیسے جیسے یہ اشرافیہ پنجے مضبوط کرتا گیا ویسے ویسے ریاست کا عوام کے ساتھ کیا گیا “عمرانی معاہدہ” کمزرور ھوتا گیا۔ جب عمرانی معاہدہ کمزور ھو گیا تب اشرافیہ نے اپنے مطلب کے قوانیں اور بل منظور کروانا شروع کر کے درمیانے اور نچلے طبقہ کے حقوق کی پامالی شروع کر دی۔ ستم کہ یہ پہلے سے زیادہ امیر اور قابض ھو گئے بالائے ستم غریبوں اور باقی طبقات کے لئے مواقع بھی کم پڑتے گئے۔
نتیجتا” محنتی اور قابلافراد کے لئے مواقع کی کمی ھوتی گئ اور لوگ اہل ھوتے ھوئے بھی نا اھل ھونے لگ گئے۔ سب سے بڑا ظلم جو مجھے لگتا ھے وہ یہ کہ انہوں نے زہانت کا بھی محاصرہ اور گھیراؤ اس انداز سے کیا کہ ان کا ہی فائدہ ھوا۔ زہانت کے پیمانے بھی انہوں نے خود بنائے اور فراڈ یہ کیا کہ اس پر قابض بھی یہ دانشوور نو دولتیے لنڈن امریکہ پلٹ لوگ ھوئے۔
جب جب عمرانی معاہدہ کمزور ھوا تب تب امراء کا فائدہ اور عام آدمی کو نقصان ھوا۔ عام آدمی بے بہا محنت کرتا اور مواقع نہ ھونے کی وجہ سے اپنی منزل تک نہی پہنچ پاتا۔ کونکہ مواقع ہیں مگر قبصہ گروپ کے لئے۔
نتیجتاً آج ہر شعبے میں ان کا راج ہے اور عام آدمی کے حقوق کی پامالی جاری ہے۔ جس سے دانشور کی کم اور دانشوور کی قدر زیادہ ہے۔
جامعہ پنجاب میں ہمارے بہت ہی محترم استاد جہانگیر تعمیمی صاحب، اللہ ان کو جنت میں جگہ دے، فرمایا کرتے تھے کہ یہ لندن، کینڈا اور امریکہ پلٹ لوگ صرف خود کو سکالر اور دانشور ثابت کرنے میں تلے رہتے ہیں۔ اور پاس ڈھیلہ بھی نہیں ھوتا۔ یہ دولت کے سر پر اتنی مہنگی تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ یہ زہنی پستگی کا کار ھوتے مگر پیسے کے سر پر تعلیم حاصل کر کے نام کے دانشور بن جاتے کیونکہ جو دکھتا ھے وہ بکتا ھے۔
ان کی بات سولہ آنے صحیح ہے۔
اس بدمعاش اور نا انصاف اشرافیہ اور دانشوور کے خلاف جنگ میں سب سے پہلی چیز عمرانی معاہدے کونئے سرے سے تشکیل دینا ھے۔ پھر مواقعوں کی تقسیم مییں برابری اور میرٹ کو لازم قرار دینا ھو گا۔ اس سارے مضمون کاخلاصہ اس مشال سے واضح ھو جائے گا۔ دنیا اخبار میں ایک کالم شائع ھوا کرتا تھا جو کہ آج کل ان کے صاحبزادے کے نام سے شائع ھو رہا جو کہ نیا نیا لندن پلٹ ھے۔ اور بات وہی کہ اس کے پاس پلیٹ فارم ہے چاہے اس کو ہمارے معاشرے کی باریکیوں کا نہ پتہ ھو مگر اس کا منجن بک رہا ھے۔ جو عام آدمی محنت کرنے کے بعد بھی حاصل نہی کر پاتا۔ مارکس نے کیا خوب ہی کہا تھا “عام آدمی کو اس کا حق جیتے جی دیا جائے مرنے کے بعد اس برابری اور حق کا کیا فائدہ” ۔ مگر ہماعے ہاں حق صرف امراء اور حکومت کے لاڈلوں کو ھے۔ مھے ۲۰۱۸کے الیکشن کے بعد دکھ زیادہ اس بات کا ھوا۔ کہ پہلے تو بدمعاش اور ان پڑھ لوگ ہمارے اوپر مسلت تھے تب بندہ کہتا کہ وہ نالائق ہیں۔ مگراب جب سارے پڑھے لکھے لوگ ہیں اور عوام کے حقوق کی پامالی عروج پر اور میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئی ھیں۔ اس حکومت میں بھی سب کے سب دانشوور ہیں اور سب مفاد پرست لوگ ہر ادارے پرقابض ہیں اور امیر سے امیر، ریاست کونقصان اور عمرانی معاہدے کے ہمنوا بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ خدارا دانشوور لوگوں کی جگہ دانشور لوگوں کو مواقع فراہم کرنا ریاست کی اولین تر جیح ھو اور عوام کے زہنی گھیراو کو ختم کیا جائے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے