Home / کالم / ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم

ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم

ختم نبوت7ستمبر1974
از قلم
ایًڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ
📕📕📕📕📕📕📕
نہیں ہیں محمد ص تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ ،لیکن آپ الله کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں
سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہو گا که عقیدہ ہے کیا عقیدہ کہتے کسے ہیں عقیدہ ان فیصلوں کا نام ہے جنہیں انسان اپنی عقل سے سوچ کر،کانوں سے سن کر اور الله کے قوانین کے زریعے پرکھ کر صادر کرتا ہے یہ فیصلے دو ٹوک اور حتمی ہوتے ہیں اور عقل کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں اسی لیے جب انسان کا زہن ایک بار پرکھ کر عقل سے کوی فیصلہ کر لیتا ہے تو وہ جان جاتا ہے جو اس نے سوچا وہ برحق ہے اب کوی طاقت اسے اس کے فیصلے سے ہٹا نہیں سکتی اور نہ اس کے دل میں کوی شک پیدا کر سکتی ہے
دین اسلام کی بنیاد ہی عقیدہ ہے اور اسی کی وجہ سے انسان مسلمان ہوتا ہے عقیدہ دین اسلام کی بنیاد ہے اسے وہی حیثیت حاصل ہے جو انسان کے جسم میں دماغ کو جس طرح دماغ کے بغیر انسان کا تصور نہیں کیا جا سکتا اسی طرح عقیدے کے بغیر صالح اعمال کا تصور نہیں کیا جا سکتا اسی عقیدے کی درستگی کے لئے انبیاء معبوث ہوے جو لوگ عقیدے میں کمزور ہوگیے وہ اپنی راہ سے بھٹک گئے
عقیدہ توحید کے ساتھ ہی عقیدہ ختم نبوت ہے جس طرح عقیدہ توحید کا انکاری مشرک ہو جاے گا اسی طرح عقیدہ ختم نبوت سے انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاے گا عقیدہ ختم نبوت کے منکرین آپ ص کی وفات کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوے تھے یہاں تک کہ ایک عورت نے بھی نبوت کا دعوی کر دیا اس فتنے کو کچلنے کا سہرا خلیفہ اول حضرت ابوبکر کو جاتا ہے جنہوں نے بھرپور جدوجہد دے اس فتنے کا سر کچلا
سو سال سے زائد ہو گئے برصغیر پاک و ہند میں قادیانیت کا فرقہ بنا جس کی ابتداء قادیان سے ہوی انہوں نے ختم نبوت کا انکار کیا جس کی وجہ سے ان کے خلاف تحریک شروع ہوی اور آخر کار 7ستمبر 1974 کو انۂیں دائرہ اسلام سے خارج کر دیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی روح سے قادیانی اقلیت میں شامل ہو گے آپ ص نے ارشاد فرمايا کہ میں نبوت کے محل کی آخری اینٹ ہوں اسی لیے قادیانیوں کے اسلام کا مدعی ہونا،کلمہ پڑھما نماز اور روزے کی پابندی کرنا ان کو کفر کے فتوے سے نہیں بچا سکا اور اسی لیے ختم نبوت سے انکار اور مرزا غلام احمد کو ظلی نبی ماننا انۂیں دائرہ اسلام سے خارج کرتا ہے
سورہ البقرہ میں ارشاد ہے اور لوگوں میں بعض ایسے بھی جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے الله پر اور قیامت کے دن پر حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں
مسلۂ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ میں جو سب سے پہلا اجماع ہوا وہ اسی مسلۂ پر ہوا آپ ص کے بعد کسی اور کی نبوت پر ایمان لانے والا مرتد اور کافر ہے حضرت ابو بکر صدیق نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر جھوٹے دعویداروں کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا اور اس وقت تک سکون سے نہ بیٹھے جب تک موت کے گھاٹ نہ اتار دیا اس جہاد جھوٹے دعویدار مسلمہ کذاب کے دس ہزار آدمی مارے گئے اور بارہ سو مجاہدین مے جام شہادت نوش کیا جن میں سینکڑوں حفاظ اور صحابہ شامل تھےحضرت ابوبکر نے اتنی بڑی قربانی دے کر مسلۂ ختم نبوت کی اہمیت مسلم امۂ پر واضح کر دی ہے اس جہاد کے بارے کسی صحابی نے اختلاف نہیں کیا حالانکہ مسلمہ کذاب آپ ص کی نبوت کا منکر نہیں تھا بلکہ اپنے دعوی کے ساتھ آپ ص کی نبوت کا بھی اقرار کرتا تھا
مرزا غلام احمد ْقادیانی نے مسلمہ کذاب کی یہ تحریک انگریزوں کی سرپرستی میں چلای اور کہا سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا
قادیانی جو مرزا کو نہیں مانتے ان کے پیچھے نماز پڑھنا ان کی نماز جنازہ میں شریک ہونا اور اپنی لڑکیوں کا نکاح کرنا ناجائز سمجھتے ہیں اسی لیے مرزا غلام نے اپنے بیٹے فضل احمد کا جنازہ نہیں پڑھا کیونکہ وہ غیر احمدی تھا اور اسی بنیاد پر چوہدری ظفراللہ وزیر خارجہ پاکستان نے بانی پاکستان قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا اور دریافت کرنے پر کہا آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر وزیر یوں ایک طرح سے ہوا انۂوں نے خود ہی اور اپنے آپ کو اچھوت بنایا
آپ ص نے تیس جھوٹے نبیوں کی پشین گوئی کی آپ ص ن فرمايا کہ میری امت میں تیس جھوٹے نبی پیدا ہوں گئے جن میں سے ہر ایک کہے گا میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا
اس مسلے کو حل کرنے کے لیے آئین نافذ ہوا یہ ایکٹ1974کہلایا اور فوری نافذ ہوا آئین کی دفعہ260 کے تحت جو شخص محمد ص ،جو کہ آخری نبی ہیں ،کے خاتم النبین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا جو محمد ص کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے یا جو ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین کی رو سے مسلمان نہیں ہے،
اس میں لاہوری اور قادیانی دونوں گروپ شامل ہیں اب قادیانی خود کو مظلوم قرار دینے کی کوششوں سے جتے ہیں ان کا دعوی ہے کہ پاکستان میں ان سے ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ان کے حقوق مجروع کیے جا رہے ہیں جبکہ انہیں تمام حقوق میسر ہیں ان کے عقائد کی وجہ سے ملازمتوں سے علیحدہ نہیں کیا گیا ان کے اخبارات آزادی دے شایع ہو رہے ہیں ان کی عبادت گاہیں کھلی ہیں ہاں انہیں مسلمانوں کے انداز ميں عبادت کرنے سے اور عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینے سے منع کر دیا گیا اور پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کے عہدے پر نافذ نہیں کیا جا سکتا ابھی حال میں صدر ٹرمپ سے قادیانیوں کا گروہ ملا اور جھوٹا رونا رویا ناروا سلوک کا جو معمولی مسائل درپیش ہیں وہ بھی اس لیے کہ یہ خود کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے
اب حکومت وقت نے انہیں اقلیتى کمیشن میں شامل کرنے جا فیصلہ کیا جس پر بغیر سوچے سمجھے واویلہ کیا جا رہا ہے حکومت کے خلاف ایشو بنایا جا رہا ہے یہ تو ایک بہت بڑا مسلہ حل ہونے جا رہا ہے مصنوعى مظلومیت کا رونا جو قادیانى روتے ہیں وہ ختم ہو جاے گا ناروا سلوک کا مسلہ ختم اور ان کا خود کو اقلیت ماننا ہمارى بہت بڑا کامیابى اس کا مطلب انہوں نے آج تک خود کو اقلیت تسلیم نہیں کیا اور آئین پاکستان کا انکار کیا اب اقلیتی خانے میں ہندو سکھ اور عیسائی کے ساتھ آنے سے تمام تنازعے ختم
امام ابو حنیفہ نے فرمايا کہ اگر کوئی شخص کسی دعی نبوت سے اس کی صداقت پر فقط دلیل طلب کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے اور تمام عالم اسلام کا اس پر اتفاق ہے
یہ تنازعہ حل ہونا ہم سب کہ جیت ہے

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے