Home / کالم / اک شخص سارے جہاں کو ویران کر گیا”

اک شخص سارے جہاں کو ویران کر گیا”

دادی جان رحمۃ اللّٰہ علیہا کی ذاتِ مبارکہ پر لکھا گیا میرا کالم بعنوان” اک شخص سارے جہاں کو ویران کر گیا”
آپ کی پیاری نگاہوں کی نذر
پڑھ کر رائے ضرور دیجئے گا
📕📕📕📕📕📕📕📕📕
از قلم✍
نعیم اختر ربانی
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
جب میں سات آٹھ برس کا تھا اس وقت کا قصہ ہے کہ میں اپنے گاؤں کی ایک مسجد میں قرآنِ مجید حفظ کر رہا تھا۔ آذانِ فجر سے قبل مسجد جانا ہوتا اور رات گیارہ بجے رخصت دی جاتی۔ سردیوں کی راتیں اور گاؤں کا ماحول ہو تو اس طویل دورانیے کی شدت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے گھر سے مسجد تھوڑے فاصلے پر تھی۔ راستے میں چند گھر ایسے بھی تھے جنہوں نے اچھے خاصے قد کاٹھ اور شکل و صورت کے کتے پال رکھے تھے۔ ہر راہگیر کو اپنی موجودگی کی اطلاع دینا ان کا اہم فریضہ تھا۔ ایک کتا صدا لگاتا تو دوسرے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے گلی میں جمع ہو جاتے۔ میری عمر بھی بہت کم تھی اور اندھیری رات کا سماں ہوتا۔ دادی جان رحمۃ اللّٰہ علیہا صبحِ کاذب کے وقت مسجد پہنچانے جاتیں اور رات گئے گیارہ بجے لینے آیا کرتیں۔ تینوں وقت کا کھانا اپنے ہاتھ سے بنا کر مسجد دینے آتیں۔ میں ان کے پاس بیٹھ کر کھاتا پھر وہ خالی برتن اپنے ساتھ لے جاتیں۔ اپنے بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کو یہی بات کہتا ہوں کہ” ہم نے ایسے پڑھا ہے کہ کسی نے مسجد آتے جاتے نہیں دیکھا ”
خیر ایک دفعہ دوپہر کو گھر آیا اور والدہ سے اس سالن کا مطالبہ کیا جو پکا ہوا نہیں تھا۔ جب میرا اصرار ضد کی صورت اختیار کر گیا تو والدہ نے ڈانٹنا شروع کر دیا۔ ڈانٹ ڈپٹ کو اپنی بے عزتی تصور کیا اور منہ بسور کر مسجد کی طرف چل دیا۔ دادی جان رحمۃ اللّٰہ علیہا یہ ماجرا دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے منانے اور ” جو ملے چپ چاپ لے لو” پر قائل کرنے کی بہت کوشش کی مگر ضد اب انا بن چکی تھی۔ لہذا خاکی پیٹ ہی جانا پڑا۔ دادی جان نے یہ خیال کیا کہ مسجد کے علاوہ کہیں اور چلا گیا ہے۔ وہ اس جملے ” ملا کی دوڑ مسجد تک” سے ناواقف تھیں۔ انہوں نے گاؤں میں تلاش کرنا شروع کر دیا۔ تمام رشتہ داروں سے فرداً فرداً پوچھا اور ہر ہجوم کی جگہ جا کر معلوم کیا مگر کہیں نہ ملا۔ انہوں نے نذر مان لی اور دعا کی کہ اگر میرا بیٹا مل گیا تو اتنے پیسے راہِ خدا میں دوں گی۔ آخر کار عشاء کے وقت مسجد کا رخ کیا۔ آج بھی وہ منظر میری آنکھوں میں کل کی طرح واضح ہے۔ میں اپنے قاری صاحب کے پاس بیٹھا منزل سنا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ قاری صاحب کے پاس آئیں۔ ان کا ایک ہاتھ بند تھا اور وہی ہاتھ انہوں نے قاری صاحب کے ہاتھ پر کھول دیا۔ موتیوں کی لڑی ان کی دراز آنکھوں سے چھلک پڑی۔ فرطِ جذبات میں بڑھ کر اپنے لبوں کو میرے رخسار پر ثبت کر دیا۔ اس لمحے کی محبت کی شدت آج بھی اپنے رخساروں پر ویسے ہی محسوس کرتا ہوں۔
دادی جان رحمۃ اللّٰہ علیہا صوم و صلوٰۃ کی پابند تھیں۔ ہر وقت تسبیح کے دانے ان کے لبوں کے ساتھ حرکت میں رہتے۔ خود وہ فرماتی تھیں کہ ” جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے مجھے یاد نہیں کہ کبھی میری تہجد قضا ہوئی ہو ” دیندار لوگوں سے ان کی محبت اور الفت دیدنی تھی۔ اپنی تمام اولاد کو دین پڑھانے کی بھرپور کوشش کی۔ جو بھی مہمان ہمارے گھر آتا تو سب سے پہلے یہ ہی نصیحت فرماتی کہ ” نماز کی پابندی لازماً کیا کرو۔ دنیا کے سارے کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ نماز اپنی پیشانی پر اس طرح باندھ لو کہ جب وقت ہوا فوراً ادا کی ” ہماری قریبی مسجد میں جب آذان ہوتی تو مردوں کو نماز کا کہہ کر گھر سے نکال دیتیں۔ اگر کوئی سویا ہوتا تو اسے اپنی شریں آواز سے بیدار کر کے مسجد کی جانب روانہ کرتیں۔ کسی غیر شرعی کام پر خاموشی ان کے بس میں نہ تھی۔ جہاں کہیں کوئی برائی دیکھتیں فوراً نکیر فرماتیں۔
مجھ سے ان کی محبت عشق کی حد تک تھی اور میری ان سے محبت عقیدت کی حدود سے آگے شروع ہوتی تھی۔ صاحبِ کرامات تھیں۔ میں نے اپنی چھوٹی سی عمر میں ان کی کرامات اس قدر دیکھی ہیں کہ ان پر ایک مفصل کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ ان کے اخلاقِ حمیدہ اور اوصافِ جمیلہ کے ان گنت تارے میری یاداشت میں جمع ہیں۔ مجھے جب بھی سردرد یا کوئی اور جسمانی بیماری لاحق ہوتی تو ان کی چارپائی کے پاس جا کر صرف لب کشائی کرتا۔ وہ تڑپ کر پاس بٹھا لیتیں۔ چند اوراد پڑھ کر پھونک دیتیں اور میں بفضلِ خدا صحت یاب ہو جاتا۔ ہر وقت دین کی کوئی نا کوئی بات سیکھنے کی کوشش میں لگی رہتیں۔ ہمہ وقت ان کی زبان ذکرِ الہٰی سے تر رہتی اور ہاتھ تسبیح کے دانوں کو حرکت دیتے رہتے۔
آخری دنوں میں انہیں سانس کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔ دو قدم چلنے سے بھی سانس اکھڑ جاتا مگر لطف کی بات یہ ہے کہ سانس اکھڑنے کے بعد ان کے سینے سے ” سبحان اللّٰہ وبحمدہ” کا ذکر گونجتا۔ ان کی زبان کسی اور ورد میں مشغول ہوتی مگر دل سے مذکورہ ذکر کی صدائیں بلند ہوتیں۔
انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ وہ ان پڑھ تھیں مگر تعلیم یافتہ کے مقابلے میں دلائل کی کتاب ان کی زبان پر جاری تھی۔ توحید کے بارے میں ان کے دلائل اس قدر کثیر اور پختہ تھے کہ آج کے نامور علماء بھی ان سے نابلد ہوں گے۔ ان کی پیشین گوئی سچی ثابت ہوتی۔ وہ باتیں بھی بتا دیا کرتیں جو ان تک نہ پہنچی ہوں۔ ایک راز جو میرے دل میں تھا۔ میرے اور میرے خدا کے سوا اس سے کوئی واقف نہ تھا۔ ایک دفعہ ہم اکیلے بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے وہ راز مجھ سے ذکر کیا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ تو ایک سرد آہ بھر کر فرمانے لگیں کہ ” اللّٰہ کے پاس فضل کی کوئی کمی نہیں وہ جسے چاہتا ہے بے حساب عطاء کرتا ہے ”
26 اپریل تقریباً گیارہ بجے ان کی چارپائی کے اردگرد خواتین کا ہجوم تھا۔ مجھے وہاں بلایا گیا۔ میں نے بنظرِ عمیق ان کے چہرے کی طرف دیکھا جو سورج کی طرح اپنی شعاعیں بکھیر رہا تھا مگر ان میں چاند جیسی ٹھنڈک تھی۔ نزع کے عالم میں ان کے سینے سے وہی ذکر کی صدائیں واضح سنائی دے رہی تھیں۔ مجھ سے اس جان لیوا لمحے کا نظارہ نہ ہو سکا اور میں وہاں سے رخصت ہو کر اپنے کمرے میں مطالعہ کی نشت پر آ بیٹھا۔ قرآن مجید کھول کر تلاوت شروع کردی۔ تھوڑی دیر بعد خواتین کی طرف سے رونے کی صدائیں آئیں تو سمجھ گیا کہ وہ اپنے رب سے جا ملی ہیں۔ اس ملاقات کے لیے وہ اکثر بے چین رہتیں۔ مجھ سے ملاقات کے حسین لمحوں کو بیان کرنے کا کہتیں۔ ان کی آنکھوں میں ملاقات کی حسرت واضح چھلکتی ہوئی محسوس ہوتی۔ اس لمحے کے بعد تادمِ تحریر یہی شعر زبان پر جاری ہے کہ
صبر کے اداب کہاں سے لاؤں ؟
اس کو کھویا ہے جو کھونے کا نہیں تھا
میں گھر سے نکلتا یا واپس آتا وہ بلاناغہ ایک بوسہ میرے رخسار پر ثبت کرتیں۔ تقریباً ہفتہ ہونے والا ہے۔ میری نگاہیں اس مسند کا طواف کرتی رہتی ہیں جس پر وہ براجمان رہتیں۔ گھر میں آتے اور جاتے ہوئے میرے رخسار بوسوں کو ترستے ہیں مگر دینے والا کوئی نہیں۔

میرے تمام تحقیقی آرٹیکلز پڑھنے کے لیے میرا آفیشل فیس بک پیج لائک کریں
https://www.facebook.com/Naeem-Akhter-Rabbani-599738687099876/

#naeem_akhter_rabbani
#hafiz_naeem_akhter_rabbani

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے