Home / کالم / سواتی سے بلدیہ کے جلنے والے مزدوروں

سواتی سے بلدیہ کے جلنے والے مزدوروں

تحریر
راجہ نوید حسین
🌺🌺🌺🌺🌺
یکم مئی مزدور ڈے شمس الرحمن سواتی سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے مزدور پوری دنیا میں بے رحم طریقے سے جلائے جانے والے مزدوروں کے لواحقین خیر خواہی کے منتظر ہیں محنت کش ہاتھوں نے ہی احرام مصر بنائے تھے برج خلیفہ کی بلندی پر بیٹھا انسان مزدور تھا جولفٹ آپریٹ کر رہا تھا خلا میں جانے والی ناسا کی اسپیس شٹل کو تکمیل تک پہنچانے والے بھی ہاتھ مزدور ہی کے ہیں مجھے فخر ہے میں ایک مزدور کا بیٹا ہون عالمی یوم مزدور کے پیچھے کی تاریخ مزدوروں پر مرکوز پہلی یوم مئی کی تقریبات یکم مئی 1890 کو پیرس ، فرانس میں یورپ میں سوشلسٹ پارٹیوں کے پہلے بین الاقوامی کانگریس کے اعلان کے بعد ، ہر سال یکم مئی کو “بین الاقوامی اتحاد کے ورکرز ڈے” کے نام سے منانے کے لئے پیش کی گئیں۔ اور یکجہتی
تاریخ کا اطلاق بحر اوقیانوس کے واقعات کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ سن 1884 میں ، امریکی فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈز اینڈ لیبر یونینوں نے یکم مئی 1886 ء تک آٹھ گھنٹے کی ورک ڈے کا نفاذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے نتیجے میں عام ہڑتال اور ہیومارکیٹ (شکاگو میں) 1886 کے ہنگامے ہوئے ، لیکن آخر کار بھی آٹھ گھنٹے کام کے دن کی سرکاری منظوری۔ اس تاریخ کا انتخاب دوسرے بین الاقوامی نے مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ہیومارکیٹ کے حوالے سے کیا تھا ، جو 4 مئی 1886 کو شکاگو میں ہوا تھا۔
شکاگو میں ، 4 مئی 1886 کو ، ایک بم دھماکے میں سات پولیس افسران اور چار عام شہری ہلاک ہوگئے۔بارود کا دھماکہ ایک روز قبل پولیس کے ذریعہ پرامن مظاہرین کی ہلاکتوں کا جواب تھا
بم دھماکے کے بعد ، آٹھ جارحیت پسندوں کو سازش کے مرتکب قرار دیا گیا اور انہیں سزائے موت سنائی گئی
پاکستانی لیبر یونینوں کے مطابق ، ملک کی کل 65 ملین مزدور افرادی قوت کا تقریبا 75 فیصد غیر رجسٹرڈ ہے یہ کام آج کل وطن عزیزمین ہورہا ہے۔ مزدوروں خصوصا روزانہ تنخواہ داروں اور کنٹرکشن ملازمین کو بغیر کسی اطلاع کے کام چھڑا لیا جارہا ہے ،” نیشنل لیبر فیڈریشن (این ایل ایف) کے صدر شمس الرحمن سواتی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ، پاکستان میں مزدور یونینیں یہ غیر رسمی مزدور کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی سماجی تحفظ یا قانونی احاطہ نہیں ہے۔ ان میں سے لاکھوں افراد اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے ، مجھے خدشہ ہے۔کاروناویرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے لیبر ڈے رواں سال روایتی جوش و جذبےمکمل طور پر سے محروم ہوچکا ہے یہ یوم مزدور یکسر مختلف ہوگا کیونکہ مزدوروں کو کبھی بھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ایک طرف ، انہیں بے روزگاری اور بھوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جبکہ دوسری طرف کورون وائرس جیسی مہلک بیماری ہے۔ ملک کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی بار اس دن کو منانے کے لئے جلسے ، سیمینار اور دیگر عوامی اجتماعات نہیں ہوں گے۔ ایک طرف ، انہیں بے روزگاری اور بھوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جبکہ دوسری طرف کورون وائرس جیسی مہلک بیماری ہے۔ہم اس کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے لاکھوں مزدوروں کی فکر ہے ، جن کو پہلے ہی اپنی مزدوری سے چھوڑا دیا گیا ہے یا وہ کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے اپنی ملازمت سے محروم ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سواتی نے کہا “پاکستانی مزدور آج یوم مئی کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہے۔ وہ بے روزگاری کی وجہ سے اپنے اور اپنے کنبے پر آنے والی بھوک کے بارے میں زیادہ پریشان ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے مطابق ، 12.3 ملین سے 18.5 ملین پاکستانی اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے ، جبکہ “کورونا وائرس کے وبا سے اعتدال پسند اور شدید جھٹکے کی وجہ سے معیشت کو 2-2.5 ٹریلین پاکستانی روپے (12.42-15.52 بلین ڈالر) کا زبردست نقصان ہوگا۔ ”
غیر رسمی مزدوروں – جو مزدور یونینوں کے مطابق ، ملک کی کل 65 ملین افرادی قوت میں سے 75٪ ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے مطابق ، مزدور امور سے متعلقہ ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک ، پاکستان انسٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پِلر) کے مطابق ، ان میں سے تقریبا 40 40 فیصد زراعت کے شعبے میں ہیں ، جبکہ خدمات ، مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں باقی کام ہیں۔ پاکستان لیبر کونسل کے سکریٹری اور پی آئی ایل ای آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرامت علی کی میڈیا کو فراہم کردہ معلومات کے یہ اعداد شمار ایک جانب پریشانی کا سبب ہے تو دوسری جانب شکاگو سے زیادہ المناک واقعہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں رونما ہونے والا ہیے جس پر ہمارے مزدور لیڈر اور حکومت کی جانب سے دہاڑی دار مزدوروں کے لیے ہوس پالیسی سامنے نہیں آ رہی جبکہ صرف روات انڈسٹریل اسٹیٹ میں مزدوروں کا خون چوسنے والے سیکڑوں سرمایہ کار کسی طرح سے بھی اپنے ورکرز کو ای او بی آئی میں رجسٹر کروانے کے لیے تیار نہیں ہے جب کہ پنجاب بھر میں ہوٹل انڈسٹری بھی ڈیلی ویجز کا ڈرامہ رچا کر مزدوروں کا خون چوس رہی ہے محنت کشوں مزدور تب کے کم سے کم وفاق کی سطع پر وزیراعظم عمران خان کے رحم کرم کے منتظر ہیں انہیں کم سے کم انرولمنٹ کیا جائے

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے