Home / کالم / مبلغ اسلام،

مبلغ اسلام،

*بنام مبلغ اسلام، جناب مولانا طارق جمیل صاحب !*
تحریر :
سردار عرفان انور
بتاریخ : 26 اپریل 2020ء

مولانا صاحب آپ پاکستان کے سر کا تاج ہیں۔ آپ محب وطن پاکستانیوں کے دلوں پر راج کرنے والے عظیم ہیرو ہیں۔ آپ ہماری آن، شان اور پہچان ہیں۔ پاکستان آپ کی محبتوں اور آپکی مخلص دعاوں کا مقروض یے جس زبردست طریقے سے آپ نے اپنے اعلی اخلاق اور اعمال سے قرآن مجید کی سادہ ترین اور آسان الفاظ میں تشریح کر کے دنیا بھر سے لاکھوں غیر مسلموں کو اللہ پاک کی مدد اور نصرت سے دائرہ اسلام میں داخل کروایا اور بے راہ روی کا شکار لاکھوں نوجوان اور بزرگ مرد و خواتین کو راہ راست پر لایا یہ ہمارے لیے باعث افتخار ہے ۔ اسلام کی شان بلند کرنے پر آپکو جتنی دعائیں دی جاِئیں وہ کم ہیں۔جاگیر دار کے گھر پیدا ہو کر اپنے باپ دادا کے برعکس جوانی کی سرحدوں میں قدم رکھتے ہی آپ نے نوابوں اور وڈھیروں کی عیاش و عشرت والی زندگی ترک کر کے اپنی زندگی کے کم و بیش 45 برس اللہ کے لاڈلے پیغمبر کی تعلیمات کا پرچار کرتے گزار دیے اس کا صلہ یہ دنیا والے تو آپکو کبھی نہیں دے سکتے لیکن بحثیت پاکستانی ، اس عظیم دھرتی ماں سے نسبت آپ سے ملنے پر آپ کی دین محمد کے لیے خدمات شاید میرے لیے بھی شرف قبولیت کا باعث بن جائیں۔ آپ نے ساری زندگی رو رو کر اللہ کے حضور گڑ گڑا کر پاکستانیوں، اور مسلمانوں کے لیے جو دعائیں مانگی ہم بے حس اور احسان فراموش لوگ تو اس کا بھی شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ اگر آپ نے پاکستانی ٹیلی ویژن چینل پر بیٹھ کر کچھ مکار اور چلاک لوگوں کو آئینہ دیکھایا تو اس پر وہ اپنے آئینے نہ توڑیں۔ اس پر وہ اپنے کردار اور اعمال کا تذکیہ کریں۔ انہوں نے اپنے آپ کو کیسے درست کرنا ہے۔ عزت مآب جناب مولانا صاحب آپ نے کوئی غلط بات نہیں کی جو آپ معافی مانگیں۔آپ پر یہ نام نہاد لبرلز بھی شروع ہو گئے کہ مولانا صاحب نے خواتین کے لباس پر بات کر کے انکی بے حرمتی کی۔
تو مولانا صاحب آپ نے 100 فیصد درست فرمایا۔ یہ مختصر لباس کا ہی قصور ہی ہے آئے دن کبھی کچرے کے ڈھیروں سے ، کبھی گندے نالوں میں سے اور کبھی فیصلوں سے ہمیں زینب اور کبھی فرشتہ جیسے ننھے معصوم پھول مسلے ہوئے ملتے ہیں۔ آپ نے اپنا دکھڑا بیان کرتے ہوئے اپنی نوجوان نسل کو قبر و حشر کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کو راہ راست پر لانے کی تلقین کی۔ آپ کے الفاظ سے اپنی قوم کے لیے درد اور غم ٹپک رہا تھا۔ اپنی قوم کے لیے درد رکھنا غلط ہے کیا ؟ اس میں کونسی غلط دعا و ہدایت تھی۔
کیا ہم نہیں دیکھتے ہمارے بازاروں میں، شادیوں میں اور تعلیمی اداروں میں کس طرح فحاشی اور عریانی پھیلائی جاتی ہے۔ ہم نہیں دیکھتے کہ گھر گھر کی زینت بننے والے ٹی وی کے ڈراموں اور خبروں اور تبصروں میں کس طرح خواتین نیم برہنہ لباس زیب تن کر اپنے پروگراموں کو رونق بخشتی ہیں۔ کوئی بھی ٹی وی شو، مارننگ شو یا مختلف کمپنیوں کے ٹی وی اشتہارات مختصر لباس والی عورت کی موجودگی کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔
کیا ہمیں نظر نہیں آتا ہمارے اسپتالوں، تھانوں، کورٹ کہچریوں اور سرکاری دفاتر کو سفارش دیمک کی طرح چاٹ کر ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال چکی ہے ۔ مفصل الذکر اداروں میں اپنے جائز مطالبات کے حل کے لیے منہ مانگی رشوت، چائے پانی کے نام پر لینا مقدس فریضہ سمجھا جاتا یے۔ اور اسی مقدس فریضہ کا نتیجہ بہت سے محنت کش اور اچھے لوگ جہاں زندگی کے پندرہ بیس سالوں کی انتھک محنت اور مشقت کے بعد جن منازل پر پہنچتے ہیں۔ وہاں رشوت کو مقدس فریضہ سمجھنے والی عظیم ہستیاں راتوں رات ان مشکل و دشوار راستوں کو عبور کر کے منازل پر پہنچ کر ریکارڈ قائم کر لیتی ہیں۔ 15 ,20 سال محنت کرنے والوں کا قصور صرف ایمانداری، محنت و مشقت ہے ؟
کیا ہم نہیں دیکھتے کچھ خواتین کہیں برسوں کی محنت کے بعد کسی مقام پر پہنچتی ہیں۔ یا کچھ قابل، محنتی اور ایماندار خواتین اداروں میں مقتدر شخصیات کی غلط ڈیمانڈز کی وجہ سے مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اور غلط کمپرومائزز کرنے والی خواتین چند دنوں میں برق رفتاری سے کامیابی کی زینے چڑھ کر بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان نظر آتی ہیں۔ بھلے انکی قابلیت صفر ہی کیوں نہ ہو۔
مولانا صاحب آپ نے بغیر کسی پر انگلی اٹھائے اس اجتماعی معاشرتی بگاڑ کے خلاف اگر مدد مانگی ہے تو اس میں کیا غلطی کی ہے ؟
مولانا صاحب ہم شرمندہ ہیں۔ بحثیت قوم ہم آپ جیسے عظیم انسان کے حق دار نہیں۔ یہ اللہ پاک کا احسان عظیم ہے کہ اللہ پاک نے درجنوں فرقوں اور مسالک میں بٹی قوم کو یکتا کرنے کے لیے آپ جیسا ہیرا ہمیں عطاء فرمایا جس نے ساری زندگی اپنی تدریس و خطبات میں فرقہ بازی سے پاک امت بننے کا پیغام دیا۔ کانچ کے ٹکڑوں کی طرح بکھری قوم کو جوڑنے کا کام کیا ۔اے اللہ ہم تیرے ناشکرے ہیں تیری نعمتوں پر شکریہ ادا کرنے کے بجائے تیری نعمتوں کو پہچانے کے بجائے تیری نعمتوں کی تذلیل کرکے خود کو بڑے تیس مار سمجھنے لگتے ہیں۔
[ ] مولانا صاحب ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔ معافی آپ کو نہیں مانگنی چاہے بلکہ ان کو مانگنی چاہے جو آپکی اجتماعی اخلاقی معذرت ” میری بات سے کسی گلہ زاری ہوئی ہو تو معافی مانگتا ہوں” کو قوم کو بے وقوف بناتے ہوئے اسکو اپنی جیت سمجھ رہے ہیں آپکے اس جملے کو آپکے ہی خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ کیا قوم ان میڈیا کی طوائفیں سمجھنے والے صحافت کے علمبرداروں کے کردار و افکار سے واقف نہیں۔ جہنوں نے چند ٹکوں کی خاطر ملک، مذہب قوم سب کچھ بیچ ڈالا، جہنوں کبھی اجمل قصاب کو اور کبھی پلوامہ کو پاک فوج اور ہماری دنیا کی نمبر ون سمجھی جانے والی خفیہ ایجنسی کو بدنام کرنے اور دنیا میں بلیک لسٹ کروانے کے لیےکوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ معافی تو انہیں مانگنی چاہے جو ہماری ماوں، بہنوں بیٹیوں کی عزتوں کو عہدوں کی لالچ میں پامال کرتے ہیں۔ معافی تو انہیں مانگنی چاہے جو قوم کی بیٹیوں کا استحصال کرتے ہیں۔ معافی تو ان کو مانگنی چاہے جو 8 مارچ کو میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگواتے ہیں۔ اور عریاں لباس میں ملک بھر کی سڑکوں اور ٹی وی پروگرامز میں قوم کی بیٹیوں کو نچاواتے اور اخلاقیات سے گری ہوئی بے ہودہ حرکات کرواتے ہیں۔ مافی تو انہیں مانگنی چاہے جہنوں نے سفارش و رشوت کے بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔
[ ] آخر میں اللہ پاک سے التجاء اور التماس ہمیں فخر پاکستان مولانا طارق جمیل صاحب جیسی عظیم ہستیوں کی عزت و قدر کرنے کے توفیق عنایت فرمائے۔ ان شخصیات کی طرح ہمیں بھی اپنے کردار و اعمال سے سچ پکا مسلمان بننے کی توفیق بخشے۔ حقوق اللہ کی طرح حقوق العباد کا خیال رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ جیسے مولانا نے 100 فیصد سچ بولنے کے بعد کالی بھیڑوں کی دل آزاری پر انکا دل رکھنے کے لیے قوم کے سامنے سب سے معذرت کر لی۔امین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    In the event that the supplier does find on your tactic, you must find a fresh participant
    and start to become additional thorough during the new game.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے