Home / کالم / پرائیویٹ سکولز کیا کریں ؟ (حصہ اول )

پرائیویٹ سکولز کیا کریں ؟ (حصہ اول )

* تحریر
بابرالیاس
چیف ایڈیٹر
قلمدان ڈاٹ نیٹ
🌼🌼🌼🌼🌼🌼
میرے محترم وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب ایک قابل حل نظر اس طرف بھی ہو جاۓ….!!

پرائیویٹ سکولز اونرز اور استاذہ جنہیں ہمیشہ میڈیا اور کچھ ارباب اختیار نے ایک مافیا بنا کر پیش کیا ہے وہ کون ہیں ؟؟
آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں!!
پرائیویٹ سکولز کے اونرز وہ لوگ ہیں ۔۔۔۔
جنہوں نے آپ کے بچوں کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔۔۔۔۔۔
بہترین فرنیچر، کلاس رومز، سہولیات، فیکلٹی، سکیورٹی اور سب سے بڑھ کر تعلیمی ماحول دیا ۔۔۔۔۔۔
آپ کو ضرورت پڑی تو آپ کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
4،4 ماہ کی فیسیں ادھار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
بیسیوں دفعہ والدین نے اس ادھار کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور سکول معہ ادھار چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ پھر بھی انہوں نے ایسے والدین پر کیس کیا نہ راستہ روکا ۔۔۔۔۔۔۔
نئے سال کا کورس کمزور مالی پوزیشن رکھنے والے والدین کو ادھار دیا ۔۔۔۔۔۔
تاکہ ان کے بچوں کا حرج نہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔
پرائیویٹ سکولز اساتذہ بلاشبہ بہت کم مراعات کے باوجود دن رات آپ کے بچوں کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ۔۔۔۔۔اور کرتے بھی ہیں……
ڈیلی پراگریس رپورٹس، ویکلی رپورٹس، منتھلی رپورٹس، سالانہ رپورٹس، ٹیسٹ میکنگ اور چیکنگ، پلانرز، کاپیز اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے باوجود انتھک اور بے لوث لگن ۔۔۔۔۔وجہ صرف یہ کہ میرے ملک پاکستان میں تعلیمی معیار آسمان کی بلندی جتنا ہو…..
سب سے بڑھکر یہ گروپ یعنی اونرز اور ٹیچرز ہمہ وقت آپ کے بچوں کے روشن مسقبل کے لئے مصروف عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بچوں کو لکھنا، پڑھنا، کھانا، پینا، بولنا اور آگے بڑھنا سکھایا ہے اور مستقبل میں بھی سکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج یہ سب سر جھکا کے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
انہیں ستائش ملنی چاہیئے تھی، تنقید کی گئی، حوصلہ ملنا چاہیئے تھا، حوصلہ شکنی کی گئی، تعاون ملنا چاہیئے تھا ، رکاوٹیں ڈالی گئیں مگر پھر بھی انہوں نے آپ کو بچوں کو پڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔
سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔

خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفّظ کی قسم کھائی ہے

وبا کے دن ہیں, لاک ڈاؤن ہے, لیکن ایک دفعہ پھر اسکول انتظامیہ سے زیادتی ہو رہی ہے, حق تلفی ہو رہی ہے,
اب ایسے حالات میں پرائیوٹ سکول انتظامیہ فیس لیتی ہے تو والدین پریشان اور اگر نہیں لیتے تو اساتذہ کو سیلری نہ ملنے سے ان کے گھر کا چولہ ٹھنڈا ہونے کا خطرہ اس مشکل وقت میں حکومت وقت اپنا کردار ادا کرے….
جاری ہے ؟

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے