Home / کالم / ترک ڈرامہ🇹🇷

ترک ڈرامہ🇹🇷

🇵🇰تحریر
ام حسان
🌺🌺🌺🌺🌺

اس وقت سوشل میڈیا پہ ایک بحث چھڑی ہوئ ہے کہ ترک ڈرامہ ارتغرل دیکھا جائے یا نہ دیکھا جائے اور کیا یہ ڈرامہ دیکھنا گناہ ہے یا ثواب؟؟؟
اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن پہ یہ ڈرامہ کس وقت دکھانا چاہئیے؟؟؟وغیرہ وغیرہ

عجیب بات ہے ایک ایسے ملک میں کہ جہاں عوام میڈیا کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوتی ہے،جہاں میڈیا کا کام صرف اور صرف سنسنی پھیلانا،لوگوں کو ہراساں کرنا ہے،
جہاں کسی واقعے کی اطلاع دینے میں نیوز اینکر اپنی پوری طاقت عوام کی سماعتوں میں انڈیل دیتے ہیں،
وہاں ایک ڈرامہ چلانے پہ کیسا اعتراض؟؟
جہاں ڈرامے کا ہیرو مر جائے تو بریکنگ نیوز چلائ جاتی ہے وہاں اس ڈرامے کے آن ائیر جانے سے کیا ہو جائے گا،،،
جہاں تک بات ہے کہ یہ تاریخی ڈرامہ ہے اور اس میں سلطنت عثمانیہ کی تاریخ دکھائ گئ ہے تو اس طرح کے تاریخی ڈرامے پی ٹی وی دکھا چکا ہے جن میں شاہین اور آخری چٹان سر فہرست ہیں اور یہ تب کی بات ہے جب پی ٹی وی کے وسائل محدود تھے اور میڈیا تکنیکی طور پر اتنا ایڈوانس بھی نہیں تھا،
باقی اگر ہم اخلاقی اقدار اور ثقافتی تناظر میں دیکھیں تو بھی اس ڈرامے میں ایسی کوئ بات نہیں کہ جس پر اعتراض اٹھائے جائیں،،،
یہ ترک ڈرامہ ہمارے میڈیا ہاؤسز کے زیر سایہ تھوک کے حساب سے بننے والے ان لا تعداد ڈراموں سے بہتر ہے کہ جہاں نہ تو حیا کا خیال کیا جاتا ہے اور نہ ہی اخلاقی اقدار کا،
ترکی اس وقت دو براعظموں کی ثقافت کا بوجھ اٹھا رہا ہے،
براعظم ایشیا اور یورپ اور ان کی طرز معاشرت میں ،ان کے لباس میں اور انکے رہن سہن،کھانے پینے میں ان دونوں براعظموں کی ثقافت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے،
ایسے میں یہ ترک ڈرامہ ترک عوام کو اسلامی روایات کی طرف لوٹا دے،
اور اس میں کوئ شک و شبہ نہیں کہ اس ڈرامے کے لئے مصنف سے لے کر پروڈیوسر تک نے اپنی زندگی کی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لائیں ہیں،
تقریباً آٹھ نو صدیاں پہلے کا رہن سہن دکھانا اور اس سطح پہ جاکر دکھانا کہ کہیں بھی کوئ کمی نہیں چھوڑی گئ اور یہی وہ محنت ہے کہ جس کی وجہ سے یہ ڈرامہ ہالی وڈ جیسی فلم انڈسٹری کو بہت نیچے پھینک چکا ہے،
رومانس اور تجسس ہر ڈرامے میں رکھا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو نفسیاتی طور پہ جوڑ کر رکھا جائے کہ اب کیا ہوگا؟؟

ہم اس وقت جدید ٹیکنالوجی کے دور میں سانس لے رہے ہیں ایسے میں جو چھوٹے بچے ہیں ان کے لئے تلوار اور خنجر کی لڑائیاں اور نقل و حرکت کے لئے گھوڑوں کا استعمال بہت اچھنبے کی بات ہے،،
اور بچوں کو اس بات پہ بہت حیرت ہوتی ہے کہ اس ڈرامے میں موبائل فون کسی کے پاس نہیں،
ایسے میں ہم بچوں کو جہاد کے بارے میں بتا سکتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے صرف تلوار کے زور پہ کیسی کیسی فتوحات حاصل کی تھیں اور آج جدید مواصلاتی نظام کے ہوتے ہوئے ہم
کفریہ طاقتوں سے دب کر رہتے ہیں،
بہر حال یہ ایک ڈرامہ ہے اور ڈرامہ دیکھنا ثواب کا کام نہیں ہے اس لئے ہر انسان باشعور ہے خود سمجھ سکتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیئے اور کس چیز سے دور رہنا چاہئیے،
ہمارے میڈیا پہ آج رات سے ہی جو رمضان ٹرانسمشن شروع ہوگی اس کے مقابلے میں یہ ڈرامہ برا نہیں ہے،

باقی اللہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور برے اعمال سے بچائے آمین ثم آمین

🇵🇰🇹🇷🇵🇰🇹🇷🇵🇰

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

3 comments

  1. Avatar

    I will immediately take hold of your rss feed as I can’t to find your email subscription link or newsletter service.
    Do you have any? Kindly permit me realize in order that I may subscribe.
    Thanks. These are truly fantastic ideas in about blogging.
    You have touched some fastidious factors here. Any way
    keep up wrinting. I couldn’t resist commenting.
    Exceptionally well written! http://car.com

  2. Avatar

    This is a topic which is near to my heart… Cheers! Where are your
    contact details though? http://uricasino114.com

  3. Avatar

    Very nice article, exactly what I was looking for.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے