Home / اردو ادب / میرا وطن

میرا وطن

از قلم: انیلہ افضال
شہر: لاہور
📕📕📕📕📕📕

اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن فخری
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا
ایک نخیف آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی۔ نظر اس طرف گھمائی تو ایک نحیف نزار جسم چلا جا رہا تھا۔ میں نے جو دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ کیا وجود تھا!!! ایک بازو بالکل غائب تھا مانو کسی بن دھماکے کے نتیجے میں تن سے جدا ہو گیا ہو۔ دوسرا بازو لہو لہو! ٹانگیں زخمی! جگہ جگہ سے خون رس رہا تھا۔ لباس کیا تھا! چیتھڑے تھے چیتھڑے! سر کے بال بے ہنگم بڑھے ہوئے، گرد سے اٹے پڑے۔لیکن جس چیز نے مجھے مہبوت کیا تھا وہ تھی اس کے چہرے کی چمک! کیا چمک تھی! روشن آنکھیں مستقبل کے سپنوں سے سجی ہوئی تھیں۔ پیشانی کی لکیروں میں آنے والے وقتوں کے چھپے ہوئے خزانوں کے نقشے چھپے تھے۔ ایسے کٹے پھٹے وجود کے ساتھ ایسا روشن چہرہ بالکل بھی میچ نہیں کر رہا تھا۔
کون ہو تم؟ مجھ سے رہا نہ گیا۔
نہیں پہچانا؟ اس نے الٹا سوال داغ دیا۔
کیسے پہچانو گی؟ خود ہی جواب بھی دے دیا
کبھی فرصت سے مجھے دیکھا ہو تو پہچانو.
مطلب؟ میں نے پھر پوچھا
وطن ہوں تمہارا! اب پہچانا! اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
نہیں! میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
تم میرے وطن کیسے ہو سکتے ہو؟ میرا وطن تو کتنا حسین ہے! قدرت نے کتنا حسن بخشا ہے میرے پیارے ملک کو! اور تم اپنا حال تو دیکھو۔
ہاہاہاہا ہاہاہاہا ہاہاہاہا! ایک۔مجذوبانہ قہقہہ میرے اطراف میں گونجا۔
ترقی کرتا ہوا میرا وطن! بےشمار سڑکیں جو بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہیں، اعلیٰ تعلیم کے لیے اعلیٰ ادارے، صحت کے شعبے میں کی جانے والی گرانقدر ترقی، نت نئی فیکٹریاں، صنعتیں، ترقی کی راہوں پر گامزن معیشت، لہلہاتے کھیت، سر سبز باغات، گاتے ہوئے جھرنے، کیا ہے جو میرے وطن میں نہیں ہے۔ اور تم اپنی حالت تو دیکھو! میں نے استہزائیہ انداز میں اسے دیکھا۔
اچھا ہے! اچھا ہے! دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔
تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ تم لوگوں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ میرے بارے میں سوچو یا جاننے کی کوشش ہی کرو۔ یہ دیکھو! اس نے اپنے سینے سے گریبان سرکایا۔ آف اللہ! زخموں سے چور سینہ! کیا ہوا ہے یہ؟ میں نے تڑپ کر کہا۔
کچھ نہیں! یہ زخم تو ستر بہتر سال پرانے ہیں۔
اور یہ بازو؟؟؟
یہ! یہ پچاس سال ہوئے کاٹ دیا ظالموں نے۔
اوہ!
یہ لہو لہو ٹانگیں؟؟؟؟
یہ تمہاری ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے! اس نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔ امریکہ، ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سود کی شکل میں میری بوٹیاں نوچ رہے ہیں۔ پر تم لوگوں کو تو اپنے بھر ہوئے پیٹ سے ہی مطلب ہے۔ پھر چاہے ملک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قوانین سے جنگ ہی کیوں نہ جاری ہو۔
اور یہ گرد میں اٹے ہوئے بال؟؟؟ یہ تار تار لباس؟؟؟؟
ہاں! یہ! یہ ہیں تیزی سے پھیلتی پھولتی نت نئی صنعتیں! جو اصل میں میرا ہی لہو چوس رہی ہیں ۔
کبھی کمشن تو کبھی رشوت اور کبھی سبسڈی کا چکر! گھن چکر ہے بابا ! گھن چکر ہے۔
میرا دل ڈوبنے لگا تھا! میرا وطن اتنی تکلیف میں تھا اورمجھے علم تو چھوڑو احساس تک نہیں تھا۔
مگر ! مگر یہ تمہارا تمتماتا ہو چہرا! یہ تمہاری روشن آنکھیں!
ہاں! میں ابھی بھی مایوس نہیں ہوں۔ ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ جو یہاں اللہ کے قانون کا نفاذ چاہتی ہیں۔ اور پھر نئی نسل! یہ نئی نسل نئی امنگوں کے ساتھ میرے لیے بہت کچھ کرنے والی ہے۔ یہ لوگ مجھے چاہتے ہیں۔ میری ترقی چاہتے ہیں۔ میری سربلندی چاہتے ہیں۔ اسلام کا بول بالا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ میرا کل، میری امید ہیں۔
اس کی آنکھوں میں ستارے جگمگانے لگے تھے۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اب کی بار اس کی آواز میں نخوت نہیں طاقت تھی۔ وہ مستانہ چال چلتے ہوئے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

7 comments

  1. Avatar

    I like it when people get together and share
    opinions. Great blog, continue the good work! I am sure this article
    has touched all the internet users, its really
    really fastidious paragraph on building up new web site.
    I am sure this piece of writing has touched all the internet users, its
    really really good piece of writing on building
    up new weblog. http://www.cspan.net

  2. Avatar

    I blog frequently and I truly appreciate your content.
    This great article has really peaked my interest.

    I’m going to take a note of your blog and keep checking for new
    information about once per week. I opted in for your RSS feed too. https://uricasino114.com

  3. Avatar

    It’s actually a nice and helpful piece of information. I am happy that you just shared this helpful information with us.
    Please stay us informed like this. Thank you for sharing.

  4. Avatar

    What i do not realize is actually how you are not really a lot more well-appreciated than you
    might be now. You are so intelligent. You realize therefore significantly in the case
    of this matter, produced me in my view imagine it from numerous various angles.
    Its like women and men don’t seem to be interested unless it’s
    one thing to accomplish with Girl gaga! Your personal stuffs great.
    Always handle it up!

  5. Avatar

    I used to be able to find good information from your blog articles.
    adreamoftrains best web hosting

  6. Avatar

    I visited various web sites except the audio quality for audio songs current at this
    web site is really fabulous.

  7. Avatar

    I am really loving the theme/design of your
    website. Do you ever run into any internet browser compatibility problems?
    A number of my blog readers have complained about my site not working
    correctly in Explorer but looks great in Chrome. Do you have any solutions
    to help fix this problem?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے