Home / اسلام / کیسے ایمان زیر و زَبر ھو گیا !! 🌹

کیسے ایمان زیر و زَبر ھو گیا !! 🌹

🌹#العلAlilm 🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( النسا ٕ ، اٰیت 136 )))) 🌹
کیسے ایمان زیر و زَبر ھو گیا !! 🌹
ازقلم 🌷🌷🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہُومِ اٰیت ! 🌹
🌹 یٰایھاالذین اٰمَنوا
اٰمِنوا باللہ ورسولہ والکتٰب الذی
نزل علٰی رسولہ والکتٰب الذی انزل من قبل
ومن یکفر باللہ و ملٰٸکتہ و رسلہ فقد ضل ضلٰلا بعیدا 136
اے اِطمینان یافتہ لوگو ! اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاٶ ، اُس کتاب پر بھی ایمان لاٶ جو اِس رسول پر نازل ھوٸ ھے اور اُس کتاب پر بھی ایمان لاٶ جو اِس سے پہلے نازل ھو چکی ھے ، جو شخص اللہ کا اور اُس کی نادیدہ مخلُوق ملاٸکہ کا اور اُس کے رسولوں کا انکار کرے گا وہ اپنی گُم راہی کے راستے پر بہت دُور نکل جاۓ گا !
🌹 ایمان کا معنٰی اور ایمان ایمان کا مُطالبہ ! 🌹
اٰیتِ بالا میں ” اٰمنوا “ کا جو صیغہ لفظی تکرار کے ساتھ دو بار وارد ھوا ھے اِس کا درست لُغوی معنٰی ” اطمینان “ اور معروف فقہی مفہُوم ” ایمان “ ھے ، اِس لیۓ جب اُردو زبان میں قُرآن کا ترجمہ کرنے والے ترجمہ کار اِس معروف فقہی مفہوم کو ذھن میں رکھ کر اٰمنوا کا یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ ” اے ایمان والو ایمان لاٶ “ اور جب قُرآن کا کوٸ پڑھنے والا ” اٰمنوا “ کا یہ ترجمہ پڑھتا ھے تو قدرتی طور پر اُس کے ذھن میں یہ سوال سر اُٹھا لیتا ھے کہ جو لوگ پہلے ہی ایمان لاچکے ہیں تو وہ دوسری بار کس چیز پر ایمان لاٸیں ، اگر پہلا ایمان کُچھ اور تھا اور یہ دوسرا ایمان کُچھ اور ھے تو اِن دونوں میں کیا فرق ھے ، حقیقت یہ ھے کہ اِس ” اٰمنوا “ کا ترجمہ تو بہت سادہ و سہل ھے لیکن مجوسی ترجمہ کاروں نے اپنے فقہی اعتقاد کے مطابق جو فقہی ترجمہ کیا ھے اُس نے اِس میں ایک ایسی پیچیدہ گرہ لگادی ھے جس کو جتنا کھولا جاتا ھے وہ اتنی ہی گُنجلک سے گُنجلک تر ھوتی چلی جاتی ھے کیونکہ جس لفظ کا معنٰی سمجھ نہ آۓ اُس کا اِدراک نہیں ھوتا اور جس لفظ کا معنٰی بدل دیا جاۓ اُس کا مفہُوم بھی بدل جاتا ھے اور جس لفظ کا مفہُوم بدل دیا جاتا ھے اُس پر جو نظریہ قاٸم کیا جاتا ھے اُس کی علمی کوٸ بُنیاد نہیں ھوتی اور جس چیز کی کوٸ علمی بُنیاد نہیں ھوتی اُس کی کوٸ اَہمیت بھی نہیں ھوتی !
🌹 اِرادہِ عمل اور اَقدامِ عمل ! 🌹
جس طرح ایک دانہِ بیج جس کو انسان مِٹی میں دُباتا ھے وہ دانہِ بیج پہلے زمین میں چُھپ کر زمین سے نَم لیتا ھے ، پھر زمین میں اپنی جَڑ جماتا ھے ، پھر جوفِ زمین سے سر اُٹھاکر زمین کے سینے پر آجاتا ھے ، پھر وہ اپنی چھوٹی سی ڈَنڈی سے اپنا تنا بناتا ھے تو دیکھنے والے کو اطمینان ھوجاتا ھے کہ اِس بیج نے جان پکڑلی ھے اور اَب اِس کے بڑھنے اور پروان چڑھنے میں کوٸ رکاوٹ نہیں ھے ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ مَنخنی سا پودہ اپنا بناتا ھے ، تنے سے اپنی شاخیں نکالتا اور خلا میں پھیلاتا ھے ، پھر وہ گُلبار ھوتا ھے اور پھر ثمردار ھوتا ھے ، یہاں تک کہ ایک روز اُس کی شاخوں پر لگا ھوا پَھل اُس کی شاخوں سے اُتر کر انسان کے ہاتھوں میں آجاتا ھے اور پھر انسان کے پیٹ میں سما جاتا ھے ، ایک ذی شعور انسان جب اپنے اِس سرسری سے مشاھدے کے بعد اَنفس و آفاق پر نگاہ ڈالتا ھے تو وہ اِس حقیقت کو جان جاتا ھے کہ اِس بیج آغاز اور اِس درخت کے اَنجام کی طرح میرا بھی ایک آغاز اور اَنجام ھے ، میں نے بھی اِس درخت کے بیج کی طرح زمین سے نَم لے لیا ھے ، میں نے بھی اِس درخت کی طرح زمین کے کٸ موسم دیکھ لیۓ ہیں ، میرے وجود سے بھی بہت سی شاخیں پیدا ھو چکی ہیں اور ایک روز میں نے بھی اِس درخت کے پَھل کی طرح سینہِ زمین سے نکل کر ایک اَعلٰی و اَرفع ہستی کی دَست رَس میں پُہنچ جانا ھے ، انسان کا یہی تجرہِ ذات اور اُس کا یہی مُشاھدہِ کاٸنات اُس کے خالق کے ھونے کے بارے میں اُس کا وہ پہلا فکری اطمینان ھوتا ھے جس کے بعد وہ اللہ کے اِس خطاب کا مخاطب قرار پاتا ھے جس کا آیتِ بالا میں ” اٰمنوا اور اٰمِنوا “ کے الفاظ میں ذکر کیا گیا ھے !
🌹 اٰمَنوا اور اٰمِنوا میں فرق ! 🌹
آیت بالا میں آنے والا پہلا صیغہ اٰمَنوا حرفِ میم کے زبر کے ساتھ آیا ھے ، یہ جمع مذکر غاٸب فعل ماضی معروف کا صیغہ ھے اور اِس میں اُن افراد کے اُس فعل کا ذکر کیا گیا ھے جو اُن سے زمانہ ماضی میں سرزد ھوا ھے ، اِس فعل کا مصدر و ماخذ ” اَمن “ ھے جس کا معنٰی اَمن و اطمینان ھے اور یہ اُن افراد کے امن و اطمینان کا ذکر ھے جنہوں نے ایک طویل یا مُختصر عرصے کے غور و فکر کے بعد اِس اَمر کا اطمینان حاصل کر لیا ھے کہ اِس کاٸنات کے پسِ پردہ کوٸ ایسی عظیم ہستی ضرور موجود ھے جس نے اُن کے وجودِ ذات اور اِس ساری کاٸنات کو پیدا کیا ھے ، اِس آیت میں وارد ھونے والا دُوسرا صیغہ اٰمِنوا حرفِ میم کی زیر کے ساتھ آیا ھے جو جمع مذکر حاضر کا صیغہ ھے اور فعل اَمر حاضر معروف ھے ، اِس فعل کا مصدر و ماخذ بھی ” امن “ ھے اور اِس کا معنٰی بھی اطمینان ھے اور اِس فعل میں اللہ تعالٰی نے اُن صاحبِ فکر لوگوں کو یہ حکم دیا ھے کہ تُم نے اپنے غور و فکر سے اِس بات کا اطمینان تو حاصل کر لیا ھے تو اَب میں تمہیں اِس اَمر سے آگاہ کرتا ھوں کہ تُمہارے وجودِ ذات اور تُمہاری اِس کاٸنات کے خالق کا نام اللہ ھے اور میں ہی وہ اللہ ھوں اور اپنے رسول کے ذریعے اور اپنے رسول پر تُمہاری ھدایت کے لیۓ نازل کی گٸ کتابِ ھدایت کے ذریعے تمہیں اِس بات کا حکم دیتا ھوں کہ تُم اپنے اللہ کے بارے میں بھی اِطمینان حاصل کر لو ، اُس کے رسول کے بارے میں بھی اطمینان حاصل کر لو ، اُس پر نازل ھونے والی کتاب کے کے ذریعے اِس کتاب کے اَحکام کے بارے میں بھی اطمینان حاصل کر لو اور اِس کتاب کی تصدیق کرنے والی اُن سابقہ کتابوں کے ذریعے بھی اطمینان حاصل کر لو اور ہر چیز کے بارے میں اپنے تجربے و مشاھدے سے محسوس ھونے والے ہر چیز کے آغاز و اَنجام سے بھی یہ اطمینان حاصل کر لو کہ ہر چیز کے آغاز و اَنجام کی طرح تُمہارے وجودِ ذات اور اِس کاٸنات کا بھی جو آغاز و اَنجام ھے ، اُس آغاز و اَنجام کے بارے میں بھی اطمینان حاصل کرلو ، کیونکہ جو لوگ اپنے اَنجامِ ذات سے پہلے اِس کاٸنات اور اِس کاٸنات میں موجود میں موجود ، ہر ایک حقیقت کے بارے میں اطمینان حاصل کر لیں گے تو اُن کا خالق اُن سے راضی ھو کر اُن کو ایک اَعٰلی اور داٸمی حیات دے گا اور جو لوگ یہ اطمینان حاصل کیۓ بغیر زندگی کا اثاثہ ختم کر کے اللہ کے حضُور میں پیش ھوں گے تو اللہ اُن کے ساتھ اِس بات پر ناراض ھو گا کہ وہ اللہ اور اللہ کے نظامِ جزا و سزا کے بارے میں اطمینان حاصل کیٸے بغیر ہی ایک دُنیا سے نکل کر اُس دوسری دُنیا میں داخل ھو گۓ ہیں جس کے بارے میں وہ تادمِ حساب بے خبر کے بے خبر ہیں !
🌹 دینِ تو حید کا تعارف اور دینِ تو حید کی تعریف ! 🌹
جن لوگوں کا پہلے اٰمَنوا میں ذکر ھوا ھے اُن سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے غور و فکر سے خُدا کو تلاش کرچکے ھوتے ہیں اور اُن کا دلِ و ضمیر خُدا کے خالق ھونے کی شہادت دے چکا ھوتا ھے ، تلاشِ خالق کے لیۓ کی گٸ اُن کی یہ نتیجہ خیز جُستجُو اِس بات کا ثبوت ھوتی ھے کہ وہ اللہ کی توحید کو ایک عقلی و فکری اور وجدانی و خیالی حقیقت کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں ، اِس لیۓ اَب اُن کو دوسرے اٰمِنوا میں اِس اَمر کی تعلیم دی جاتی ھے کہ وہ ایک قدم گے بڑھیں اورعلمی و عملی طور پر اہلِ توحید کے اُس تاریخی سلسلے کے ساتھ مُنسلک ھوجاٸیں جس میں انبیا و صدیقین اور شُھدا و صالحین شامل ہیں ، یعنی اِن لوگوں کو توحید کے اٰمنوا کے اُس عقلی تعارف کے بعد اِس عملی تعارف کی طرف بلایا جاتا ھے جو جسمانی و رُوحانی اور فکری و وِ جدانی طور پر ، اُن انبیا و صدیقین اور اُن شھدا و صالحین نے حاصل کیا ھوتا ھے جو اُن کا ایک دوسرے کے ساتھ دینی تعارف ھوتا ھے اور جب کوٸ نیا شخص اللہ کے دینِ توحید میں شامل ھوتاھے تو وہ بھی اِن کے ساتھ متعارف ھو کر اِن کے دینی و رُوحانی سلسلے کا حصہ بن جاتا ھے اور اُن کا یہی باہمی تعارف دُنیا و عُقبٰی میں اُن کا باہمی تعارف ھوتا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    I couldn’t refrain from commenting. Well written! Greetings from California!

    I’m bored to tears at work so I decided to browse your website
    on my iphone during lunch break. I enjoy the
    information you provide here and can’t wait to take a look when I get home.
    I’m amazed at how quick your blog loaded on my mobile ..

    I’m not even using WIFI, just 3G .. Anyways, good blog!
    Does your site have a contact page? I’m having a tough time locating it but, I’d like to shoot you an email.
    I’ve got some recommendations for your blog you might be
    interested in hearing. Either way, great blog
    and I look forward to seeing it develop over time.

    http://www.cspan.net/

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے