Home / اسلام / قُرآن کا معیارِ شہادت و عدالت !!

قُرآن کا معیارِ شہادت و عدالت !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( النسا ، ، اٰیت 135 )))) 🌹
قُرآن کا معیارِ شہادت و عدالت !! 🌹
ازقلم🌺🌺 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہُومِ اٰیت ! 🌹
🌹 یٰایھاالذین اٰمنوا
کونوا قوٰمین بالقسط شھدا ٕ
للہ ولو علٰی انفسکم اولوالدین
والاقربین ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ
اولٰی بھما فلا تتبع الھوٰی ان تعدلوا وان تلوا
اوتعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا 135
اے اَمن و اَمان اور سکُون و اطمینان کے آرزُو مند لوگو ! انسانی حق رَسی اور انسانی حق رَسانی کے لیۓ ظالم کے مقابلے میں اپنے قدموں پر جَم کر کھڑے ھو جاٶ اور اللہ کے حکم پر اِس کے لیۓ اپنی سچی شہادت دو ، اِس سے قطع نظر کہ تُمہاری یہ سچی شہادت تُمہاری ذات کے خلاف جاتی ھو ، تُمہارے والدین کے خلاف جاتی ھو ، تُمہارے محبُوب رشتوں کے خلاف جاتی ھو ، یا کسی امیر اور فقیر کے خلاف جاتی ھو ، چونکہ اِن میں سے کسی انسان کے بارے میں تُم یہ نہیں جانتے کہ اِن میں سے کس انسان کا اللہ کے ساتھ کا کیا تعلق ھے اور کس انسان کے ساتھ اللہ کا کیا تعلق ھے ، اِس لیۓ تُمہارا کام صرف شہادت دینا ھے ، کسی مُدعی یا مُلزم کا ظاہری مقام و مرتبہ دیکھ کر اُس کو سَچا یا جُھوٹا ثابت کرنا نہیں ھے ، تُم پر لازم ھے کہ تُم کبھی بھی اپنی خواہشِ نفس کا ساتھ دے کر حق کا ساتھ نہ چھوڑ دینا ، اگر تُم نے شہادت دینے سے گریز کیا یا شہادت کے دوران حق اور سَچ کے خلاف کُچھ کہا تو پھر یہ بات مت بُھولو کہ اللہ تُمہارے ہر قول و عمل سے باخبر ھے ، تُم اپنے کسی قول و عمل کو انسان سے تو چُھپا سکتے ھو لیکن اللہ تعالٰی سے ہرگز نہیں چُھپا سکتے !
🌹 انسانی فطرت کا قانُونِ حق رَسی و حق رَسانی ! 🌹
حق رَسی اور حق رسانی انسانی ضمیر و خمیر کا وہ فطری و فکری اور قلبی و رُوحانی جوہرِ اَعظم ھے جس کے تحت ہر ایک انسان قلبی و رُوحانی طور پر ، ہر ایک انسان کے لیۓ حق رَسی اور حق رسانی چاہتا ھے ، قُرآن کے اَحکام کے مطابق حق رَسی سے مراد حق دار کا وہ حق ھوتا ھے جو ہر حال میں ہر ایک حق دار کو ملنا چاہیۓ اور حق رساٸ سے مراد حق دار کا وہ حق ھوتا ھے جو ہر حال میں ہر ایک حق دار تک پُہنچنا چاہیۓ لیکن انسانی کی وقتی غرض اور وقتی خود غرضی اکثر مواقع پر انسان کی اِس فطرت پر غالب آجاتی ھے اور انسان کبھی تو کسی غرض کی بنا پر دُوسرے انسان کی حق تلفی کرتا ھے اور کبھی محض ایک خود غرضی کی بنا پر دوسرے کا حق ہڑپ کر جاتا ھے ، انسان کی اِس غرض اور خود غرضی کے خلاف سب سے پہلی آواز انسانی ضمیر کی اپنی آواز ھے جس نے انصاف کے حق میں اور ناانصافی کے خلاف دُھاٸ دی ھے اور انسانی ضمیر کی اسی دُھاٸ نے انصاف کا وہ قانون وضع کیا ھے جس کے تحت انسانی معاشرے میں مظلوم داد رسی کی جاتی ھے یا کی جانی چاہیۓ ، یہی وجہ ھے کہ قُرآنِ کریم سب سے پہلے مظلوم کی داد رسی کے لیۓ اُس انسانی ضمیر کو آواز دی ھے جس کو انسان کے نفس نے دُبا دیا ھے !
🌹 شہادتِ حق کا پہلا خطاب اور پہلا مخاطب ! 🌹
انسانی معاشرت ایک بدترین اجتماعی ناانصافی کی شکار ھے اور انسانی ضمیر اِیک بہترین اجتماعی عدل و انصاف کا طلبگار ھے اِس لیۓ قُرآنِ کریم کی اٰیتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے جو خطاب کیا ھے اُس خطاب کا پہلا مخاطب یہی انسانی ضمیر ھے اور اللہ تعالٰی نے اسی انسانی ضمیر کو حکم دیا ھے کہ وہ معاشرے کے مظلوم فرد کا حق دینے اور حق دلانے کے لیۓ اپنے جسم و جان کو اِس اَمر پر آمادہ کرے کہ وہ قانون کی عدالت میں جا کر اپنے ضمیر اور خمیر کے مطابق مظلوم کے حق میں اور ظالم کے خلاف اپنی وہ سچی شہادت دے جو مظلوم کو بھی پُوری جزا دلا سکے اور ظالم کو بھی پُوری پُوری سزا دلا سکے ، اِس شہادت کا اَولیں تقاضا یہ ھے کہ جو شخص ظالم کے خلاف شہادت دینے اور مظلوم کو اُس حق دلانے کے لیۓ عدالت میں جانا چاہتا ھے تو وہ انصاف کی بالادستی کا عمل اپنی ذات سے شروع کرے ، اگر اُس نے بذاتِ خود کسی کی حق تلفی کی ھوٸ ھے تو وہ عدالت میں جانے سے پہلے اپنے حق دار کو حق دے کر اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے علاوہ اللہ کے ساتھ اِس بات کا وعدہ کر لے کہ جس غلطی کا اُس نے ازالہ کیا ھے اُس غلطی کا وہ دوبارہ اعادہ نہیں کرے گا اور اگر وہ قانون کی عدالت میں جانے سے پہلے اپنی غلطی کا ازالہ نہیں کر سکا تو عدالت میں جانے کے بعد کسی کٹ حُجتی کے بغیر اپنے اُس جُرم کا اعراف کر لے جو جانے اَنجانے میں اُس سے سرزد ھوا ھے ، اعترافِ جُرم وہ حقیقت ھے جس سے انسان سب سے زیادہ خوفزدہ ھوتا ھے لیکن اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ اعترافِ جُرم ہی انسان کی سب سے بڑی شخصی سفارش ھوتا ھے اور جو انسان جیسے ہی اعترافِ جُرم اور ازالہِ جُرم کرتا ھے وہ اعترافِ جُرم اور ازالہِ جُرم ، اُسی وقت اور اُسی لَمحے میں اللہ کی عدالت میں اُس کی توبہ کے طور پر جمع ھوجاتا اور جہاں تک دُنیا کی کسی عدالت کا تعلق ھے تو اکثر و بیشتر انسان کی سچ بیانی دُنیا کی عدالت میں بھی اُس کے جُرم کو ہَلکا کر دیتی ھے اور اُس کی سزا میں بھی کمی ھو جاتی ھے اور اگر ایسا نہ بھی ھو تو اللہ تعالٰی اُس انسان کو دُکھ ، رَنج ، مرض ، قرض یا کسی دوسرے پَھندے سے نجات دے کر اُس کو اُس کی اُس شہادتِ حق کا بدلہ دے دیتا ھے جو شہادتِ حق اُس نے اللہ کی رضا کے لیۓ اپنے نفس کے خلاف دی ھوتی ھے !
🌹 شہادت کا سب سے مُشکل اور سب سے اَعلٰی معیار ! 🌹
انسان کے لیۓ سب سے مُشکل شہادت یہی ھوتی ھے جس میں وہ حق اور سچ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتا ھے اور اپنے نفع و ضرر کا خیال کیۓ بغیر سچی شہادت دیتا ھے اور اِس فرض کی اَداٸگی کے دوران وقت اور مال کا جو ضیاع ھوتا ھے وہ اُس کو بھی برداشت کر لیتا ھے اور جو شخص اپنے نفس کے خلاف یہ شہادت دے دیتا ھے تو اِس کے بعد اُس کے لیۓ ہر مُشکل شہادت آسان ھو جاتی ھے ، قُرآنِ کریم کی اٰیتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے انسان سے اسی مُشکل شہادت کا مطالبہ کیا ھے اور اِس کے بعد اِس کو یہ تلقین کی ھے کہ جب حق دار کے حق کے لیۓ اُس کو شہادت دینی پڑے تووہ اپنے والدین کے احترام و مرتبے کو ضرور ملحوظ رکھے ، اپنے تمام محوب رشتوں کی محبوبیت کو بھی برقرار رکھے ، امیر و فقیر کی معاشرتی اَہمیت و حثیت کا بھی ضرور پیشِ نظر رکھے لیکن اِن میں سے کسی تعلق داری کو شہادتِ حق کے راستے کی رکاوٹ نہ بننے دے ، شہادت کے بارے میں سب سے اھم بات یہ ھے کہ جس انسان کو جس دینی و قانونی معاملے کے بارے میں جو سچی معلومات حاصل ہیں اگر اُن معلومات کی تصدیق یا تر دید کے لیۓ اُس کو کسی عدالت میں بلایا جاۓ تو وہ وہاں جانے سے پہلو تہی یا انکار نہ کرے ، اور شہادت کے بارے میں قابلِ ذکر بات یہ ھے کہ شہادت کو صرف لین دین کے قانونی معامالات تک محدُود نہ سمجھا جاۓ بلک زندگی کے دیگر معاملات میں بھی شہادت کے اسی اصول کو معیار بناۓ تاکہ انسانی میں معیاری شہادت اور معیاری انصاف فروغ پاۓ !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    It’s perfect time to make some plans for the future
    and it’s time to be happy. I’ve read this post and if I
    could I desire to suggest you some interesting things or advice.
    Maybe you could write next articles referring to this article.
    I wish to read even more things about it! I’ve been surfing
    online more than three hours today, yet I by no means found any interesting article like yours.

    It is lovely value enough for me. In my view, if all webmasters and bloggers made excellent content material
    as you did, the web might be a lot more useful than ever
    before. I have been browsing on-line more than three hours today, but I by no means discovered any fascinating article like yours.
    It’s lovely price sufficient for me. In my opinion, if
    all site owners and bloggers made good content as you did,
    the web will likely be a lot more helpful than ever before.

    http://alexa.com/

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے