Home / اردو ادب / علم کی دیوانگی اقبال سے منسوب ہے

علم کی دیوانگی اقبال سے منسوب ہے

تحریر
راجہ نوید حسین

خودی کی یہ ہے منزل اولیں
مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاکداں سے نہیں
جہاں تجھ سے تو جہاں سے نہیں

ہم وقت کے دھارے میں الجھے ہوئے ہیں۔جو چیز ہمیں اپنے گھر میں موئثر ہے ہم اسے لوگوں میں تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں پہلے تو ہم اپنا نظام تعلیم ہی سیدھا نہیں کرپائے اور اوپر سے یہ کہ لاحق ہے کہ ہم نے اپنےقومی ہیروز کو اپنی نئی نسل تک پہنچانے میں انتہائی کوتاہی کا مظاہرہ بھی کر دیا ہے
برصغیر کی دیگر اقوام بھی حضرت علامہ محمد اقبال کو سینے سے لگا کر بیٹھے ہیں اور ہم نے اثاثے اقوام تصورِ ملت کے دائمی ہیرو علامہ اقبال کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔اسلام بنیادی طور پر ایک عالمگیر پیغام ہے اور تما م نوع انسانی کو اخو ت کی لڑی میں پرو کر ایک وسیع تر ملت اسلامیہ کے قیام کی دعوت دیتا ہے۔ تاکہ انسان کی ہوس کا علاج ہو سکے۔ لیکن اس کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ممالک ایک لڑی میں پرئوے جائیں۔ اقبال کی بھی یہی تمنا ہے ان کے نزدیک اسلام ایک ازلی، ابدی، آفاقی اور عالمگیر نوعیت کا پیغام ہے، یہ ہر زمانہ، ہر قوم اور ہر ملک کے لیے راہ ہدایت ہے۔ اس لیے اس کے پیروکاروں کو رنگ و نسل اور ملک وطن کے امتیازات مٹا کر یکجاہو جانا اور دنیائے انسانیت کے لیے ایک عالمگیر برادری کی مثال پیش کرنی چاہیے۔ اس سلسلہ میں ”جمعیت اقوام“کی تنظیم پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مقصد انسانوں کے درمیان اخوت کا جذبہ پیدا ہو نا چاہیے نہ کہ قوموں کا ایک جگہ اکٹھا ہو جانا۔
ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال اخوت کے قائل ہیں لیکن اس کی بنیاد اسلام پر رکھتے ہیں کیونکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کے پاس وسیع انسانی مسائل کا حل موجود ہے وہ قومیت کو اسلام کے دائرہ میں اس لیے رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک صحیح انسانی معاشرہ صرف اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے وجود میں آ سکتا ہے۔ چنانچہ ان کے تصور قومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پر ہے
اقبال کے تصور خودی کا ماخذ ڈھونڈنے کے لیے نقادوں نے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کیں۔ اس سلسلے میں نطشے، برگساں، ہیگل اور لائڈ ماتھر وغیر ہ کا نام لیا گیا۔ جبکہ خود اقبال نے اس قسم کے استفادے سے انکار کیا۔ خلیفہ عبد الحکیم کے خیال میں اقبال نطشے سے نہیں فشٹے سے متاثر تھے۔ کیونکہ نطشے تو منکر خدا ہے۔ اقبال کو نطشے کی تعلیم کا وہی پہلو پسند ہے جو اسلام کی تعلیم کا ایک امتیازی عنصر ہے۔ اگرچہ ”اسرار خودی“ کے اکثر اجزاءفلسفہ مغرب سے ماخوذ ہیں اور یہاں مسلمان فلسفیوں کے خیالات بہت کم ہیں لیکن اسلامی تصوف میں عشق کا نظریہ اقبال نے مولانا روم سے لیا ہے۔ اور اقبال کی شاعری کا انقلاب انگیز پیغام دراصل رومی کے فیض کا نتیجہ ہے۔ اس بارے میں عبد ا لسلام ندوی لکھتے ہیں کہ،خودی کا تصور ڈاکٹر صاحب کے فلسفہ کی اساس ہے اور اسی پر ان تما م فلسفیانہ خیالات کی بنیاد ہے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ یورپین فلسفہ بالخصوص نطشے سے ماخوذ ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تخیل کو ڈاکٹر صاحب نے مولانا روم سے اخذ کیا ہے۔“
بقول خلیفہ عبد الحکیم ،
رومی انفرادی بقا ءکا قائل ہے اور کہتا ہے کہ خدا میں انسان اس طرح محو نہیں ہو جاتا جس طرح کہ قطرہ سمندر میں محو ہو جاتا ہے۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے جیسے کہ سورج کی روشنی میں چراغ جل رہا ہے جیسے لوہا آگ میں پڑ کر آگ ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی انفرادیت باقی رہتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے فلسفہ خودی کے لیے بھی یہی نظریہ مناسب تھا اس لیے انہوں نے اس کو مولانا روم سے اخذ کیا ہے۔“ اس سے یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب کے فلسفے کی اپنی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اُن کے فلسفہ خودی کے تمام اساسی مضامین درحقیقت قرآن سے ماخوذ ہیں۔ایک سوال دل میں بار بار اٹھتا ہے کہ ہم نے آج کیا کر لیا ہے ایک تو ہم نے اللہ کے دیئے ہوئے احکامات کو خود سے دور رکھا ہوا ہے ۔دوسری جانب ہم اقبالیت کے فروغ دینے کے بجائے ایک ایسی بیمار قوم بنتے جا رہے ہیں۔جنہیں علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ جیسی حستی کی قدر نہیں ہے

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

2 comments

  1. Avatar

    I am sure this paragraph has touched all the internet users, its really really nice article on building
    up new weblog. I love it whenever people get together and share ideas.
    Great site, continue the good work! Saved as a favorite, I really like your blog!
    http://ford.com

  2. Avatar

    Hi there! I just wanted to ask if you ever have any problems with hackers?
    My last blog (wordpress) was hacked and I ended up losing several weeks of hard work due to no
    back up. Do you have any methods to stop hackers? https://uricasino114.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے