Home / کالم / زندہ انسانوں کا جنازہ نہ اٹھایا جائے۔۔۔۔۔۔”

زندہ انسانوں کا جنازہ نہ اٹھایا جائے۔۔۔۔۔۔”

“تحریر
ام حسان کراچی

اج تقریباً لاک ڈاؤن کو ایک ماہ ہونے کو ہے،،،
عوام کس مشکل اور کرب سے گزر رہی ہے اسکا اندازہ حکمران کبھی بھی نہیں لگا سکتے،
معاشی اور معاشرتی طور پہ واقعی انسانیت کا لاک ڈاؤن ہے،
ایک ایسے ملک میں جہاں متوسط طبقہ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھ رہا تھا اب حالات کے ہاتھوں بھکاری بن چکا ہے،
اور بھکاری بھی کس کا ؟؟؟
نام نہاد این جی اوز کا،
وہ این جی اوز جو نام نہاد ایجنڈا لے کر کسی بھی ملک کے عوام کی مجبوریوں کے عوض اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں اور پاکستان ان این جی اوز کی جنت ہے کیونکہ یہاں خاص طور پر سندھ میں نسل درنسل چلتی حکمرانی کی زنجیر نہیں ٹوٹتی اور نہ ہی حکمرانوں کی آس پہ بیٹھے مجبور عوام کی تقدیر بدلتی ہے،

کرونا وائرس بلاشبہ ایک وباء ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک جلد اس پریشانی سے نکلے اور ہمارا کم سے کم جانی نقصان ہو،
لیکن دوسری طرف حکومت اور میڈیا صرف اور صرف عوام کی مجبوریوں سے کھیل رہا ہے،
لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہسپتال کی او پی ڈیز بند پڑی ہیں،
کراچی جیسے شہر میں روزانہ رضائے الٰہی سے کئ لوگ مرتے ہیں اب بقول صارم برنی صاحب یہ اموات بھی کرونا وائرس سے ہونے والی اموات میں شمار ہو رہی ہیں،
ساری دنیا میں لاک ڈاؤن ہوا تو کیا وہاں کے ہسپتال بھی بند ہوگئے؟؟؟
معمولی نزلہ زکام اور کھانسی کے مریضوں کو بھی کرونا کے کھاتے میں ڈال کے خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے،
اس موقع پہ کرنے کا کام یہ تھا کہ کرونا کا ٹیسٹ فری ہوتا،
کرونا وائرس کی معلومات کے لئے ہسپتالوں میں خصوصی ڈیسک بنائے جاتے جہاں سے معلومات دی جاتیں،
اور جو لوگ گھروں میں بند ہیں انکے لئے بھی کوئ لائحہ عمل ترتیب دینا چاہئیے تاکہ وہ اپنی زندگی کی ڈور برقرار رکھ سکیں،
لیکن حکمران کیسے اس عام آدمی کی تکلیف سمجھیں گے کہ جو ہر طرح سے مصائب میں گھرا ہوا ہے،
تنگ و تاریک رہائش،پینے کا صاف پانی مہیا نہیں،
مختلف یوٹیلیٹی بلز اس کی سانسیں اس کے سینے میں روک لیتے ہیں،
ہر ماہ مالک مکان کو گھر کا کرایہ بھی دینا ہوتا ہے،
سوچیں ذرا جب لاک ڈاؤن میں سب کچھ بند پڑا ہے تو یہ حالات کا مارا ہوا انسان کیا کرے گا اور پھر یہی ہوتا ہے کہ خودکشی کر لی جاتی ہے،
اس وقت حکومت عوام کی زندگی سے کھیل رہی ہے،
میڈیا عوام کی نفسیات سے کھیل رہا ہے،
کچھ عرصہ پہلے کراچی میں ہیٹ وویو آئ اور پچھلا چالیس سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے، سینکڑوں افراد کو موت کی نیند سلا گئ،
مرنے والوں کی زیادہ تعداد مزدور طبقے کی تھی،
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت آئندہ سال کے لئے حکمت عملی مرتب کرتی،
بجلی پانی کی فراہمی یقینی بناتی،
مزدوروں کے لئے ایسی پالیسی بنتی کہ شدید گرمی کے اوقات میں مزدور کام نہ کریں،
لیکن یہاں کئ سو قبریں پہلے سے کھود کر تیار رکھی گئیں کہ مرنے والوں کو دفنانے کی سہولت میسر ہو،
اور اب بھی حکومت سندھ صرف اس پالیسی پہ کاربند ہے کہ آپ مرو تو سہی دفنانے کا ذمہ ہمارا ہے،
کرونا وائرس صرف اور صرف حکومتی نااہلی کی وجہ سے پھیلا ہے اور الحمد اللہ صورتحال اب بھی قابو میں ہے،
خدارا اپنی سیاست کے لئے عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلیں،
ہماری حکومت تو پولیو کے قطرے گھر گھر بندوق کی نوک پہ پلاتی ہے اب کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے ٹیسٹ بھی گھر گھر جاکر بندوق کی نوک پہ کروائے،
اپنی پولیو ٹیم کے ذریعے عوام تک راشن پہنچائے تاکہ ہم آپکی نیت پہ شک نہ کریں اور اپنا مخلص سمجھیں،
تعلیم ،مذہب ،صحت اور کاروبار سب داؤ پہ لگ چکا ہے،
اب بس کر دینا چاہئیے،
میڈیا پہ بوکھلائے ہوئے حکومتی نمائندے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت کو کوئ پرواہ نہیں کہ عوام جئے یا مرے،
اور حکومت فکر کرے بھی کیوں یہ کوئ الیکشن کا زمانہ تھوڑا ہی ہے کہ دکھاوے کے لئے ہی عوام کی بہتری سوچ لی جاتی،
ابھی عوام سے ووٹ کی بھیک مانگنے میں کچھ وقت ہے،
خدارا جیتے جاگتے لوگوں سے زندگی کا حق نہ چھینیں،
موت برحق ہے اور آکر رہے گی چاہے کرونا سے ہو یا کسی اور بیماری سے،
سندھ حکومت نے اسی ایکڑ زمین قبرستان کے لئے مختص کی ہے جہاں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تدفین ہوگی،
الامان الحفیظ
خدا میرے ملک کا حامی و ناصر ہو،آمین ثم آمین

موت برحق ہے لیکن میری گزارش ہے۔۔۔،
کہ زندہ انسانوں کا جنازہ نہ اٹھایا جائے،

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے