Home / کالم / کورونا ایک اجتماعی نعمت*

کورونا ایک اجتماعی نعمت*

*تحریر:
*محمد اویس شاہد*

عنوان برا لگا؟ لگنا بھی چاہئے، لیکن کبھی غور کیا ہے جب چھوٹا بچہ والدین کا حد سے زیادہ نافرمان ہو جائے، والدہ کا تقدس پامال کرنے لگے اور والد کے احکامات کی حکم عدولی کے ساتھ ساتھ بہن بھائیوں کے مقابل صف آراء ہو جائے تو اس کے ساتھ مجبور ہو کر کیا کیا جاتا ہے؟ اسے عاق کر دیا جاتا ہے، سزا دی جاتی ہے، اسے باور کروایا جاتا ہے کہ تمھارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں، ایک ننگے وجود کے ساتھ پیدا ہوئے تھے اور اب جب سب میسر آگیا ہے تو ہٹ دھرمی اور من مانی کسی طور قابلِ قبول نہیں. گھر کے کچھ قواعد و ضوابط ہوتے ہیں. ان پر پورا اترتے ہو تو ٹھیک وگرنہ اپنا بوریا بستر لیکر نکلو اور ہر چیز سے لاتعلق ہو جاؤ. کیا یہ عذاب ہوتا ہے؟ سزا ہوتی ہے لیکن کسی وجہ سے، یہ سزا بسا اوقات رحمت بن جاتی ہے. انسان کو پچھتاوا ہوتا ہے، رشتوں کی قدر آتی ہے. بڑے چھوٹے کے مقام و مرتبے اور اپنے خونی رشتوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے. پھر کچھ پلٹ آتے ہیں اور کچھ ساری زندگی اپنے ماضی کو کوستے سر پیٹتے رہتے ہیں. اب آئیے موضوع کی طرف. 1914 سے 1918 تک اور 1939 سے 1945 تک جاری رہنے والے دو بڑے معرکوں کی ہولناکیاں یاد ہیں؟ پاکستان کے وجود میں آنے اور مہاجرین کے ہجرت کرنے کے دوران لاکھوں لوگوں کا بے دردی سے قتل عام یاد ہے؟ عراق اور قطر کے مابین برپا ہونے والی پہلی خیلجی جنگ یاد آئی؟ چیچنیا، بوسنیا، اور برما میں ناحق قتل عام کی داستانیں سنی تھیں؟ وڈیوز دیکھی تھیں؟ کٹے پھٹے لہو لاشے، زندہ جلتے انسان نظروں سے گزرے تھے؟ کہاں تھی ایمانی غیرت؟ کہاں تھے وظائف؟ کہاں تھا جہاد؟ کہاں تھا اسلامی ممالک کا اتحاد؟ 11-9 کے بعد افغانستان جب عالمی دہشت گرد ملک قرار پایا اور تنِ تنہا 20 سال لڑتا رہا، لوگ ہجرتوں پر مجبور ہوئے، فاقے کاٹے، معیشت تباہ ہوئی تب کہاں تھے مسلمانوں کے قائدین؟ کہاں تھا اسلحہ اور کہاں تھے بیرون ملک پاکستانی جو اس مشکل وقت میں ان کی نصرت کرتے؟ جنگِ عراق میں دن دھاڑے قتلِ عام کیا گیا تب کہاں تھیں ہماری ہمدردیاں؟ جب کشمیری مائیں اپنے بچوں کی میتیوں پر، اور بہنیں بھائیوں کے مردہ جسدوں پر نوحہ کرتیں، بین کرتیں تب کہاں تھی ہماری عسکری طاقت؟ ایمانی غیرت؟ جب فلسطین کی مائیں اپنے بچوں کے لاشے ہاتھ میں پکڑے *حسبنا اللّٰه ونعم الوکیل* کے نعرے بلند کرتی تھیں تب کہاں تھا عالمی میڈیا جو اسرائیل کی بربریت کے اعداد و شمار بتاتا؟ کہاں تھی سرکاری ویب سائٹس جو عوام کو اس قتلِ عام سے ہر لمحہ باخبر رکھتیں؟ حالیہ واقعات میں جب چائنا میں مسلمانوں کی بدترین نسل کشی جاری تھی تب ہمارا ایمان، طاقت، الجہاد الجہاد کے نعرے، راشن کی امداد، سوشل میڈیا کی اپڈیٹس کہاں تھیں؟ یقیناً ہر میدان میں ہماری کارکردگی بحیثیت ایک قوم صفر تھی، اور دنیا کا تمام کفر ایک وحشی درندہ بنا مسلمانوں پر ٹوٹا پڑا تھا۔ شام میں بچوں کے آخری الفاظ یاد ہیں ناں؟ *کہ میں اللّٰه کو جا کر سب بتاوں کا اور شکایت لگاؤں گا*؟ لگ گئی ناں شکایت؟ ہو گئے ناں فیصلے؟ ایٹمی طاقت کی تڑیاں دینے والے، سب سے مضبوط افواج کے حامل ممالک، معیشت کے بڑے بڑے برج گر گئے ناں گھٹنوں پر؟ یہ دنیا تو خدا کا گھر تھی، اس گھر کے بھی کچھ قوانین تھے اصول و ضوابط تھے، کس نے لحاظ کیا ان کا؟ اپنے ہی بہن بھائیوں کے خلاف کیسا محاظ قائم کر رکھا تھا؟ دکھا دی ناں مالک مکان نے اپنی طاقت! *اتیٰ امر اللّٰه فلاتستعجلوہ* کا مفہوم سمجھ میں آیا؟ اُس کے لشکروں میں سے ایک حقیر سے لشکر کی طاقت کا اندازہ ہوا؟ لیکن یہ رونا دھونا کیسا ہے آخر؟ لاکھوں لوگ جل جل کر مر رہے تھے اب کھانس کھانس کر مر رہے ہیں، جنگوں کے میدان سجے تھے اب اسپتال سجے ہیں، اسلحے کی جگہ میڈیکل اوزاروں نے لے لی ہے؟ کیا بدلا ہے آخر؟ دکھ کس چیز کا ہے؟ فرق بس یہ ہیکہ اب ہم آپس میں لڑ لڑ کر نہیں مر رہے بلکہ اب اللّٰه کی بے آواز لاٹھی کی زد میں سب آرہے ہیں، امریکہ میں صرف 8 گھنٹوں میں 2400 لوگ مر گئے. ہاں تو کیا ہوگیا؟ امریکہ جو سب کے لاشے بچھا رہا تھا؟ اب آپ انسانیت کی بات کریں گے! تو انسانیت گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے کہاں سوئی ہوئی تھی؟ کبھی کسی بھائی بہن کے لئے آواز اٹھائی؟ وڈیوز آرہی تھیں ناں کشمیر کی ماؤں بہنوں کی؟ کبھی ان کی فریاد رسی کی؟ نہیں تو اب کیوں کہرام مچایا جا رہا ہے؟ فکر نہ کریں حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ *ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے* جیسے سپر پاور نے ظلم کے بازار گرم کئے آج بھگت رہا ہے ویسے ہی آپ نے اس کا ساتھ دیا اور آپ عنقریب چند دنوں بعد بھگتنے والے ہیں! کوئی نیکی قابلِ قبول نہیں، وظائف بے اثر ہیں آپ کے اب آسمان پر پہنچیں آہوں اور شکایتوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، عذاب جب آتے ہیں تو نیکوکاروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں. انتظار کریں *ان بطش ربک لشدید* کا نظارہ دیکھیں. یہ وبا بڑی نعمت ہے، اگر اس کے ذریعے ہدایت مل جائے، انسانیت سیکھ لی جائے تو یہ وبا قابلِ تعریف ہے لیکن اگر صرف چٹکلے بنا لئے جائیں، سیاست کر لی جائے، راشن کی زخیرہ اندوزی کر لی جائے، اسٹاک جوڑ لئے جائیں، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان تک پہنچا دی جائیں تو ہھر صبر کریں. اس جرثومے سے بڑے لشکر آپ پر مسلط ہونے ہو تیار ہیں.

*ذرا نہیں پورا سوچئے.*

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے