Home / کالم / بنیادی شعور کی اشد ضرورت ہے !!

بنیادی شعور کی اشد ضرورت ہے !!

تحریر
بابرالیاس
چیف ایڈیٹر
قلمدان ڈاٹ نیٹ

‏انارکسٹ سوچ ایک ایسا کینسر ہے ,جو جب جوانوں کو لگ جائے تو وہ زیادہ تر نفرتی تعصبی سایئکو پاتھ/سوشو پاتھ بنے ساری عمر مسِ فٹِ پولیٹیکل ابنارمل رھتے ہیں۔
‏‎کوئی پارلیمان خلاف نفرت پھیلانے پر لگاہے،
کوئی حکومت/اپوزیشن خلاف،کوئی عدلیہ خلاف,افواج خلاف،بیوروکریسی خلاف، پولیس خلاف۔اداروں خلاف انارکسٹ نفرت سے نکلیں،نارمل دیکھنا سیکھیں…
‏‎‎لیکن ہماری مجبوری ہے کہ
ھماری بینائی سمپل نہیں دیکھتی۔
ھماری آنکھوں میں شک کا لینز لگادیاگیا ھے۔
ھمارے دلوں میں نفاق کی چپ لگادی گئی ھے
ھمارے ذہنوں میں کرپشن کی سوچ جگائی گئی ھے۔
کل ملا کے ھمارے سیاسی لوگ اور میڈیا اور سطحی سوچ کے تجزیہ کار اس کے ذمہ دار ھیں۔
عوام تو ایندھن بنتی ھے۔
مدرسہ, ‏سکول , کالج , یونیورسٹی کے اساتذہ کی اب بہت بڑی علمی ذمہ داری ہے کہ وہ علمی تربیت سے
انٹیلیکچوئلی ایکٹو پلس پولیٹیکلی نارمل یوتھ پیدا کریں تا کہ نوجوان زندگی میں آگے جا سکیں نفرت، بغاوت، تعصب ہر فرد/معاشرے میں ہوتا ہے جس سے پولیٹیکل ابنارمیلیٹی پیدا ہوتی ہے.
‏‎مقام شکر ہو گا یہ ہمارے لیے…….
میرے معاشرے کا دکھ یہی ھے کہ
ریاست کے تین پلرز
پاکستان کی تباہی اور اخلاقی پستی کے ذمہ دار ھیں۔سیاست میڈیا اور بیوروکریسی
تعلیمی معیار کو کنٹرول سیاست اور بیوروکریسی کے ذریعے کیا جاتا ھے۔
اور آم سے آپ املی کا ذائقہ لینے کی کوشش
کرتے ھیں۔
‏‎اور بدقسمتی یہ ہے ملک کے کالجز یونیورسٹیز میں جو نام نہاد یونین بنتی ہیں جمعیت طلبہ اور اس طرح کی جو لڑائی بدمعاشی پہ یدِ طولیٰ رکھتی ہیں وہ لوگ نام استعمال کر کے بلیک میلنگ اور عام شریف سادہ پڑھنے لکھنے والوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں انکو بَین ہونا چاہئے
‏‎کسی نے سہی کہا تھا کہ دشمن بھی ہمارا وہ نہیں کر سکتا جو ہم نے خود اپنے ساتھ کیا…..

شيخُ الإسلامِ ابنُ تيميةَ ؒ نے فرمایا:
کسی نے اپنے شیخ سے کہا
میں گناہ کرتا ہوں
جواب دیا توبہ کرو
بولا دوبارہ کرتا ہوں
جواب دیا توبہ کرو
بولا دوبارہ کرتا ہوں
جواب دیا توبہ کرو
بولا کب تک توبہ کروں
جواب دیا جب شیطان کو غم خوار نہ کردو.
📘فتاوي ابن تيمية(٤٩٢/٧)
‏‎میرے خیال میں اب یہ ذمہ داری میڈیا والوں کے کندھوں پر بھی آپڑی ہے کیونکہ اساتذہ اور والدین کی آجکل بہت کم سننے والے ہیں جبکہ میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا ذہن سازی میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے اور یہاں شیطانی میڈیا غم خوار بن چکا ہے…
‏‎ہمارا نظامِ تعلیم بھائی چارہ نہیں سکھاتا۔ 3 سال کے بچے کو تو ہم مقابلہ بازی سکھاتے ہیں۔ اور پھر چھوٹی کلاسوں سے ہی ریا کاری، دوسرے پر سبقت لے جانا، بغض، حسد، جھوٹ، سازشیں، سب کچھ بچوں کے ذہنوں میں اتر جاتا ہے۔
‏‎بات تو یہ ہے کہ
اس طبقاتی نظام میں تعلیمی ادارے کہ بھی اپنے نصاب ہیں۔غریبوں کہ لئے گورمنٹ اسکول اور بڑے لوگوں کہ لئے بیکن ہائوس۔کائونٹی کینبریج۔سٹی اسکولز۔۔جن کی فیس فی اسٹوڈنٹ لاکھوں میں ہیں۔ جب تک اس طبقاتی نظام کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک کچھ ہونے والا نہیں۔۔
یاد رکھنا کہ
‏‎اگر آپ کو اپنے دعوی اور نطریۂ حیات کو ڈیفینڈ کرنے کے لیے گالی اور ڈنڈے کی قوت چاہییے تو آپ کی حالت قابل رحم ہے..آپ کی سمت غلط ہے..

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے