Home / کالم / آزماٸشیں اور ہمارا قومی رویہ

آزماٸشیں اور ہمارا قومی رویہ

تحریر:
*حافظ عمیرحنفی*

ہرچند سال بعد ہم کسی ناگہانی آفت کا شکار ہوجاتے ہیں یقیناً آزماٸش و ابتلاء اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے لیکن اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے کہ وہ ہمارے اعمال بد کی سزا ہوتی ہے من حیث القوم ہم غفلت و لاپرواہی میں اور احساس سے عاری و نابلد زندگی گزار رہے ہیں اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہمارے سماج میں ایسی بےشمار برائیاں پائی جاتی ہیں جو ہماری تنزلی و پستی کا مرکزی کردار ہیں ہم ہمشہ سے شکوہ کناں ہیں کہ ہمیں بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں ہیں کہا جاتا ہے کہ غربت و بےروزگاری اور مفلسی نے ہرطرف ڈیرے
ہوئے ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہم تعلیم کے میدان میں بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں انکار اس بات کا بھی نہیں ہے کہ ہماری معیشت صفر پر آچکی ہے مجموعی طور پر ان سب افعال و تنزلی کا مرکز ہم حکومت وقت کو قرار دیتے ہیں اور خود اس معاملے میں تہی داماں نظر آتے ہیں یقینی بات ہے کہ حکومت و صاحب اقتدار لوگ اس الزام کے مستحق ہیں لیکن کیا ہم از خود ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکے؟ اگر چین جیسا ملک ہم سے پانچ سال بعد آزادی حاصل کرکے معاشی سپر پاور بن سکتا ہے جرمنی ہم سے1962 میں قرضہ لیکر ترقی کی راہ پر دوڑ سکتا ہے اور دیگر ممالک جو ہم سے برسوں پیچھے تھے آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوسکتے ہیں تو ہم آج تک سب سے پیچھےکیوں ہیں؟ یہ ایک وہ سوال ہے جس کا جواب ناممکن نہیں البتہ مشکل ضرور ہے.

دنیا کرونا جیسی مہلک وبا کے کرب و اذیت سے دوچار ہے احتیاطی تدابیر اختیار کررہی ہے اس کا مقابلہ کررہی ہے اور ہم ہیں کہ اس کا تمسخر اڑانے میں مصروف عمل ہیں یہ ہمارا قومی رویہ ہے جو قوم آزماٸش و تکلیف کے وقت بھی سنجیدہ نہ ہو وہ خاک ترقی کرسکتی ہے! اور ہمیں اس بات کو بھی یاد رکھنا چاہیے تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جس قوم و قبیلہ نےبھی آزماٸش و تکلیف کا استہزاء کیا تو رب ذوالجلال کی ناراضگی میں اضافہ ہوا اور وہ قوم بری طرح ہلاک و ناکام ہوگئی یہ وقت اس بحث کا بھی نہیں ہے کہ یہ کس کی سازش ہے یقینی طور پر پاکستان میں پہنچنے کا سبب تو سبھی جانتے ہیں لیکن اس سے بھی قطع نظر ہم کو سوچنا ہوگا اور اس کے مقابلے کے لئے کمر بستہ ہونا ہوگا ہمارے اس رویے کی وجہ سے ہمیں بڑا نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے یہ تو اس وقت تک کی بات ہے علاوہ ازیں بھی ہمارے رویے ایسے ہیں جن کی وجہ سے ہم برسوں سے تنزلی و گرواٹ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں سوال وہی دہرایا جاتا ہے کہ وہ ممالک جو آج سے برسوں قبل ہم سے قرضہ لیتے رہے ہیں وہ ہم سے آگے بڑھ کر مضبوط معیشت و حکومت کے اہل کیسے بن گئے؟ جواب فقط قومی رویہ پر آکر رک جاتا ہے

ہمارے ہاں نعرہ لگایا جاتا ہے کہ ملک میں امن و سکون اور ڈسپلن نہیں ہے کوئی قانون نہیں ہے تو کبھی اس بات پر غور کیا کہ امن و سکون قائم کرنا یا قانون کی پاسداری کرنا حاکم وقت کے ساتھ ساتھ اس رعایا کی ذمہ داری بھی ہے جس سے ہم ناشناس ہیں کیا بطور شہری کبھی ہم نے ٹریفک اشاروں و قوانین کی پاسداری کی؟کیا دیگر ملکی قوانین جن کی ہم دھجیاں اڑانے پر فخر محسوس کرتے ہیں کیا ترقی یافتہ اقوام ایسا ہی کرتی ہیں؟ بڑے زوروں سے یہ شور بھی بلند ہوتا ہے کہ غربت ہے ہم بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے اسی وجہ سے ہم اپنے بچوں کو تعلیم سے ہٹا کر ورکشاپس اور دکانوں میں کام پر دیتے ہیں جو قومیں ترقی پذیر ہوتی ہیں ان کے یہ الفاظ و خیالات نہیں ہوتے ان کے نان بائی کے بیٹے بھی جج بن رہے ہوتے ہیں اور ہم ہیں کہ تعلیم سے عدم دلچسپی کو غربت کا نام دے رہے ہیں ہم اس بات سے انکاری نہیں ہیں کہ یہاں غربت بہت زیادہ ہے لیکن صبر اور مستقل مزاجی دو ایسے فارمولے ہیں جو ہمیں ترقی یافتہ اقوام و ممالک میں شامل کر سکتے ہیں.

المیہ یہ ہے کہ ہمارا ہر چھوٹا بڑا مختصر راستوں کی تلاش میں ہوتا ہے کام چوری ہماری گھٹی میں رکھ دی گئی ہے جو نامناسب بات ہے ہر بندہ اور ہر محکمہ اگر نیک نیتی کے ساتھ اپنے کام سے مخلص ہو جائے اور کام کو کام سمجھ کر کرے تو بعید نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کام کرنے والے طبقے میں اضافہ ہو اور یوں کثرتِ کام کی وجہ سے ہماری معیشت اور تمام محکمے مضبوط ہو اور ہمارا شمار بھی ان ممالک میں ہو جن کے بارے میں ہم تبصرے کرتے ہوئے نہیں تکھتے. اور اس سے بڑھ کر بلکہ سب سے زیادہ ہمارے لیے لمحہء فکریہ یہ ہے کہ ہمارے اندر وقت کا ضیاع کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے وقت کا ضیاع ہم شاید ثواب سمجھ کر کرتے ہیں کسی بھی ملک و قوم کی تاریخ کو کھنگال کر دیکھ لیں ہمیشہ جن اقوام و ممالک نے ترقی حاصل کی ہے تو وقت کی قیمت و قدر سے ہی کی ہے وقت کو سونے اور چاندی سے تعبیر کیا گیا وقت کو زندگی کہا گیا قابل تفکر بات یہ ہے کہ ضیاع کرکے بھی ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ ہم اپنے والدین اساتذہ ملک و قوم کا کس قدر نقصان کررہے ہیں کاش ہماری قوم میں وقت کی قدر آجائے اور ہم وقت شناس قوم بن جائیں تو کوئی بھی دنیا کی طاقت ہمیں ترقی یافتہ ملک بننے سے روک نہیں سکتی لیکن شاید ہمارا قومی رویہ یکسر تبدیل ہوکر وقت کو بے دردی سے تباہ کرنے والا بن گیا ہے

موجودہ انتشار و اختلاف اور ہماری زبوں حالی کا سبب ہمارا منفی طرز عمل ہے نجانے کیوں مثبت پہلو ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں کسی کے اچھے عمل پر ہم آنکھیں بند کیوں کرلیتے ہیں.؟ معلوم نہیں ہم ہر وقت خوردبین لگا کر دوسروں کے عیب تلاش کیوں کرتے رہتے ہیں؟ کسی کی طرف داری میں حشرات الارض کی طرح رینگتے ہوئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کررہے ہوتے ہیں ہماری منفی سوچ ہمیں لےڈوبی ہے مشکل و کڑے وقت میں جب پورا عالم اسلام بلکہ پوری انسانیت آزماٸش کا شکار ہے اس وقت ہمیں مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا غرباء اور بےروزگاروں کےلیے احساس پیدا کرنا ہوگا مزید ہمارا قومی رویہ یہی رہا تو پھر داستان تک نہ ہوگی ہماری داستانوں میں.

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے