Home / اسلام / کتابِ عدل اور کتابِ عدالت !!

کتابِ عدل اور کتابِ عدالت !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( النسا ٕ ، اٰیات 105 تا 112 )))) 🌹
کتابِ عدل اور کتابِ عدالت !! 🌹
ازقلم 📙📙📙اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !!🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 اناانزلنا
الیک الکتٰب بالحق
لتحکم بین الناس بماارٰک
اللہ ولا تکن للخاٸنین خصیما 105
واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورارحیما 106
ولاتجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا
یحب من کان خوانااثیما 107 یستخفون من الناس ولا
یستخفون من اللہ وھو معھم اذ یبیتون مالایرضٰی من القول
وکان اللہ بمایعملون محیطا 108 ھٰاانتم ھٰٶلا ٕ جادلتم عنھم فی الحیٰوة
الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیٰمة ام من یکون علیھم وکیلا 109 ومن یعمل
سو ٕ او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورارحیما 110 ومن یکسب اثما فانما یکسبہ
علٰی نفسہ وکان اللہ علیما حکیما 111 ومن یکسب خطیٸة اواثما ثم یرم بہ بریٸافقد احتمل بھتانا
و اثمامبینا 112
اے ھمارے رسول ! زمان و مکان میں ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ ھم نے اپنی سچی کتاب ، سچ کے ساتھ اور سچ کے تمام سچے تقاضوں کے ساتھ آپ کے سچے دِل پر ثبت کرکے آپ کو یہ راہ دکھا دی ھے کہ آپ زمین کے تمام انسانوں کے درمیان کس طرح سچے دِل کے ساتھ اِس سچی کتاب کے سچے فیصلے کرسکتے ہیں اور آپ اپنے آپ کو کس طرح کسی چرب زبان انسان کی طرف داری سے بچا سکتے ہیں ، آپ فکر و خیال میں دَرآنے والے ہر لَمحہِ خطا کو محو کرنے کی اللہ سے دُعا کرتے رہا کریں ، اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیۓ فکری و نظری خطاٶں سے بچانے والی ذات ھے ، آپ انسانی مشاجرات کے فیصلے قُرآنی فرمُودات کے مطابق کریں گے تو اللہ تعالٰی آپ کے دِل کو نفس کے غیر متوازن تقاضوں سے محفوظ کر دے گا ، اور ہر تحقیق سے اِس اَمر کی بھی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ تعالٰی ہمیشہ ہی اپنے احکام کے مطابق فیصلے کرنے والے انسانوں کو جسم کی معصیت اور جان کی خیانت سے بچاتا رہا ھے ، جو لوگ عادی خطا کار ھوتے ہیں وہ وقتی طور پر تو انسانوں سے اپنی کسی خیانت کو چُھپا سکتے ہیں لیکن اللہ سے اپنی کسی خیانت کو کبھی بھی نہیں چُھپا سکتے ، اللہ تو اِن کی اُن شَب گوشیوں کو بھی سُنتا ھے جو شَب گوشیاں یہ لوگ اپنے خلاف ھونے والے فیصلوں کے بارے میں کرتے رہتے ہیں سچ یہی ھے کہ اِنسان کا کوٸ قول و عمل اللہ کے داٸرہِ علم سے باہر نہیں ھے ، آپ اِن لوگوں کو بتادیں کہ تُم لوگ دُنیا میں مجرموں کی بیجا حمایت و طرف داری کر سکتے ھو لیکن ارتقاۓ حیات کا جو مرحلہ تُمہارے سَروں پر مُعلق ھے اُس مرحلے میں تُم کس کس مُجرم کے کس کس جُرم کی حمایت کرو گے اور تُمہارے اِس جُرم کی کون حمایت کرے گا ، یاد رکھو کہ جو شخص اپنے جسم و جان کو اللہ کے اَحکام سے آزاد کر لیتا ھے اور پھر احساس ھونے کے بعد ندامت و شرمندگی کے ساتھ اللہ سے چشم پوشی کی درخواست کرتا ھے تو اللہ اُس کی خطاٶں کو چُھپالیتا ھے اور اُس کو رُسواٸ سے بھی بچالیتا ھے اور جو انسان معصیت کے ارادے کے ساتھ معصیت کرتا ھے تو اُس کی وہ معصیت اللہ کے علم سے باہر نہیں ھوتی اور جو انسان کسی لَمحاتی لَغزش کے تحت خطا کا مُرتکب ھوتا ھے اور پھر اُس خطا کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دیتا ھے تو وہ اُس معصیت کے ساتھ ساتھ اُس بُہتان کی خاکِ وبال بھی اپنے سَر پر ڈال لیتا ھے !
🌹 اُصولِ کلام اُسلُوبِ کلام مقاصدِ کلام اور نتاٸجِ کلام ! 🌹
ہر کلام کے کُچھ طے شدہ ضابطے اور اُصول ھوتے ہیں ، ہر کلام کا اپنا ایک فکری و نظری اُسلُوبِ کلام ھوتا ھے ، ہر کلام کے کُچھ مقررہ مقاصدِ کلام ھوتے ہیں اور ہر کلام کے کُچھ مقررہ نتاٸجِ کلام بھی ھوتے ہیں جن کے لیۓ وہ کلام کانوں سے سُننے والوں کے لیۓ ایک تقریری کلام اور آنکھوں سے پڑھنے والوں کے لیۓ ایک تحریری پیغام کے طور پر پیش کیا جاتا ھے تاکہ سُننے والے اُس کو سنیں ، پڑھنے والے اُس کو پڑھیں اور سوچنے والے اُس کے بارے میں سوچیں اور اُس سے مطلوبہ نتاٸج حاصل کریں اور پھر اُن نتاٸج سے وہ سب کُچھ حاصل کرلیں جو اُس کلام سے حاصل کرنا مقصود اور مطلوب ھے ، موجودہ اٰیات سے پہلی اٰیات میں جُھدِ حیات کرنے والے انسانوں کی جُھدِ حیات ، جھادِ حیات کرنے والے انسانوں کے جھادِ حیات اور منافق انسانوں کی منافقانہ مُہمات کا تذکرہ کیاگیا تھا اور موجودہ اٰیات میں قُرآن کے اُن اَحکام کا ذکر کیا گیا ھے جن سے اُس عدلِ اجتماعی کے اصول اور اُس عدلِ اجتماعی کے ضابطے سامنے آتے ہیں جو ہر مومن و مشرک اور ہر مُفسد و منافق کو یَکساں انصاف فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ھے اور اِن ہی اٰیات سے اُن عدالتوں کے وہ قاعدے بنتے ہیں جن کے تحت اُن عدالتوں میں بیٹھ کر فیصلے صادر کرنے والوں کے لیۓ وہ اَخلاقی داٸرے متعین ھوتے ہیں جن سے اُن انسانوں کو اُن کے قلبی رُجحانات اور اُن کے تقریری و تحریری اَحکام کے حوالے سے فکری و نظری ھدایت بھی ملتی ہیں جن کو اہلِ معاشرہ کی طرف سے عدلِ اجتماعی کے لیۓ مامور کیا جاتا ھے ، اللہ کی اِن اٰیات میں وہ سارے اُصول بھی شامل ہیں جو اللہ کے اِس کلام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں ، اللہ کے اِس کلام میں اِس کا وہ اُسلُوبِ کلام بھی موجود ھے جو اِس کے فہم کی طرف انسان کی رہنماٸ کرتا ھے ، اللہ کے اِس کلام میں اِس کے وہ طے شُدہ مقاصدِ کلام بھی موجود ہیں جن کو اُجاگر کرنا اِن اٰیات کا مقصد و مَنشا ھے اور اللہ کے اِس کلام میں اِس کے وہ نتاٸجِ کلام بھی موجود ہیں جن تک پُہنچنا فکرِ انسانی کی معراج ھے !
🌹 قُرآن کا فطری انصاف اور علماۓ مجوس کا فکری اِنحراف ! 🌹
اِس طویل تمہید کی ھم نے اِس لیۓ ضرورت محسوس کی ھے کہ اٰیاتِ بالا میں سے پہلی اٰیت اِس سارے کلام کا موضوعِ کلام ھے اور دیگر اٰیات اِس موضوعِ کلام کی وہ شرح و تفسیر ہیں جو اِس عدلِ اجتماعی کو اُجا گر کرتی ہیں اور اِن سارے حوالوں سے اِن اٰیات کے خطاب کے مخاطب سیدنا محمد علیہ السلام ہیں جن کو اللہ نے زمین پر قاٸم ھونے والی پہلی قُرآنی ریاست کے پہلے حاکمِ عادل کے طور مامور فرمایا تھا ، اِس لیۓ وقت کا تقاضا تھا کہ آپ کے سامنے قُرآن کے مُجرد اَحکام کو ہی نہ دُھرایا جاتا بلکہ انسانی نفسیات کے اُن خفیہ گوشوں کے بارے میں بھی کُچھ بتایا جاتا جن میں پہلے خیالی فتنے پنپتے ہیں اور پھر اُن خیالی فتنوں سے وہ ذھنی جراٸم جنم لیتے ہیں جو کبھی عدل پر اثر انداز ھوتے ہیں ، کبھی عادل پر اثر انداز ھوتے ہیں اور کبھی عدل اور عادل دونوں پر اَثر انداز ھوتے ہیں لیکن علماۓ مجوس نے اِن اٰیات کے ہر علمی اُصول ، ہر اُسلوبی ضابطے ، سارے مقاصدِ کلام اور سارے نتاٸجِ کلام کو پسِ پُشت ڈال کر اپنا سارا زور اِس کارِ بَد پر صرف کیا ھے کہ سیدنا محمد علیہ السلام قُرآن کے اَحکام کے مطابق فیصلے کرتے وقت چرب زبان لوگوں کی باتوں میں آکر چرب زبان لوگوں کے حق میں فیصلے صادر فرما دیتے تھے ، علماۓ مجوس نے اپنے اِس بیہُودہ خیال کو تقویت پُہنچانے کے لیۓ یہ کہانی وضع کی ھے کہ ایک بار ایسا ھوا کہ اَنصار کے قبیلہِ بنی ظفر کے ایک شخص طعمہ یا بشیر بن ابریق نے ایک انصاری کی زرہ چوری کرلی اور پکڑے جانے کے خوف سے اُس نے یہ زرہ ایک یہودی کے گھر میں ڈال دی اور پھر خود ہی اپنے قبیلے کے کُچھ افراد کو لے کر نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ھو کر اپنی چرب زبانی کا زور دکھاتا رہا اور اسی اثنا میں وہ یہودی بھی نبی اکرم کی خدمت میں پُہنچ گیا اور چونکہ زرہ چرانے والا انصاری پہلے ہی نبی اکرم کو اپنی چرب زبانی کے جوہر دکھا چکا تھا اور نبی اکرم اُس کی باتوں سے متأثر ھو کر یہُودی کے خلاف فیصلہ کرنے ہی لگے تھے کہ اللہ نے یہ اٰیات نازل کر کے اپنے نبی کو اِس غیر عادلانہ فیصلے سے بچالیا !
🌹 علماۓ مجوس کا جُرم اور نبی کے خلاف فردِ جُرم ! 🌹
علماۓ مجوس جو قُرآن کے مُنکر ہیں اُن کا انکارِ قُرآن کا طریقہِ واردات ہمیشہ یہ رہا ھے کہ وہ جس آیت کا انکار کرنا چاہتے ہیں پہلے اُس کے بارے میں شانِ نزول کے نام سے ایک خیالی اور دیو مالاٸ کہانی بناتے ہیں اور پھر اُس کہانی کے حوالے سے جُہلاۓ اُمت کو یہ بتاتے ہیں کہ فلاں فلاں جو واقعہ ھوا تھا ، اگر وہ واقعہ رُونما نہ ھوتا تو فلاں فلاں آیت کبھی بھی نازل نہ ھوتی ، گویا اِن علماۓ مجوس کی نظرِ منحوس میں سیدنا محمد اللہ کے کوٸ نبی نہیں تھے جن پر اللہ کی وحی نازل ھوتی بلکہ آپ اپنے علاقے اور شہر کے ایک ایسے نامہ نگار تھے جو اپنے شہر میں رُونما ھونے والے حالات و واقعات کو وحی کے نام سے موسوم کر کے لکھوالیتے تھے ، اسی طرح علماۓ مجوس کسی آیت کا انکار کرنے کے لیۓ جب کوٸ کہانی وضع کرتے ہیں تو اُس کا ظاہری رُخ خوب صورت بناتے ہیں لیکن اُس کا باطنی رُخ اُن کے اپنے رُخِ سیاہ کی طرح سیاہ ھوتا ھے ، موجودہ آیات کے حوالے سے اِن کی موجودہ کہانی کا ظاہری رُخ بھی یہ ھے کہ نبی اکرم نے ایک انصاری کی چرب زبانی کو رَد کر کے ایک یہودی کو انصاف دیا ھے لیکن اِس کا باطنی رُخ یہ ھے کہ اِس کہانی کی آڑ میں انہوں نے قُرآن کی اِن آیات کے انکار کے علاوہ ، سیدنا محمد علیہ السلام کی عدالت و بصیرت کا بھی انکار کیا ھے ، تاھم متنِ اٰیات کا جو مقصدی مفہوم ھم نے بیان کیا ھے اُس کے الفاظ کا انتخاب ھم نے اِس طرح کیا ھے کہ ترجمہِ قُرآن اور تفسیرِ قُرآن کے نام پر علماۓ مجوس نے سیدنا محمد علیہ السلام کے خلاف جو بَد زبانی کی ھے اُس کا کم اَز کم ھماری کوشش کی حد تک سدِ باب ھو جاۓ !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے