Home / اسلام / قُرآن کا داٸرہِ علم اور انسان کا داٸرہِ عمل !!

قُرآن کا داٸرہِ علم اور انسان کا داٸرہِ عمل !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب ! 🌹
النسا ٕ ، اٰیات 95 ، 96 🌹
قُرآن کا داٸرہِ علم اور انسان کا داٸرہِ عمل !! 🌹 ازقلم 📕اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 لا یستوی
القٰعدون من المٶمنین
غیر اولی الضرر والمجٰھدون
فی سبیل اللہ باموالھم و انفسھم
فضل اللہ المجٰھدین باموالھم و انفسھم
علی القٰعدین درجة و کل وعد اللہ الحسنٰی و
فضل اللہ المجٰھدین علی القٰعدین اجرا عظیما 95
درجٰت منہ و مغفرة و رحمة وکان اللہ غفورا رحیما 96
اِہلِ ایمان میں سے جو لوگ کسی مجبوری یا معذوری کے بغیرجسم و جان کے آرام کے لیۓ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں وہ کسی طور پر بھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ھو سکتے جو اللہ کے قانونِ حرکت و عمل کے مطابق جہادِ جان اور جہادِ مالِ جان سے جہادِ حیات کے لیۓ ہمہ وقت کھڑے رہتے ہیں ، اللہ کے نزدیک مالی و جانی قُربانی کے لیۓ ہمہ وقت کھڑے رہنے والے اِن لوگوں کا مرتبہ اُن بیٹھے رہنے والوں سے بلند ھے ، اللہ کی ذات سے اطمینانِ پانے والی اِن دونوں جماعتوں کے ساتھ اللہ نے حُسنِ عطا کا وعدہ کیا ھوا ھے جو پرا کیا جا رہا ھے لیکن کُچھ نہ کرنے والوں سے جُھدِ حیات و جھادِ حیات کرنے والوں کا درجہ بھی زیادہ ھے اورانعام بھی بڑا ھے ، اِن پر اللہ کی رحمت بارش کی طرح برستی ھے ، اِن کی بشری لغزشوں سے چشم پوشی کی جاتی ھے اور اِن پر رحمت و مہربانی کی برسات ھوتی رہتی ھے جس سے اِن کی رُوح کی کھیتی لہلہاتی ھے اور اللہ کی یہ داٸمی رحمت و مہربانی اِن کے لیۓ داٸمی کردی جاتی ھے ، اللہ تو اپنے فرماں بردار بندوں کے لیۓ ہمیشہ سے ایسا ہی مہربان ھے اور ہمیشہ کے لیۓ ایسا ہی مہربان ھے !
🌹 جُھدِ حیات و جھادِ حیات کا مقصد و مفہوم ! 🌹
ھمارے جسم میں چُھپی ھوٸ جو ایک نادیدہ جان ھے اور ھماری نادیدہ جان سے باہر چَھلکتا ھوا جو ایک دیدہ جسم ھے ، ھمارے اِس جسم اور ھماری اِس جان کے تعلق اور اِس تعلق سے متعلق اَشیا ٕ کے مجموعے کا محافظ وہ انسان ھے جس کے پاس ھمارا یہ جسم اور ھماری یہ جان اپنی قُدرتی پیداٸش سے لے کر اپنی طبعی موت تک ، اللہ کی ایک اَمانت ھے ، جسم و جان رکھنے والے اِس انسان کی جان پر لازم کیاگیا ھے وہ جسم کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرے اور جسم پر لازم کیا گیا ھے کہ وہ جان کی ضروریاتِ حیات کی تکمیل کے لیۓ تاحیات اُس کے اَحکام کی تعمیل کرے اور انسان کو اِس اَمر کا پابند کیا گیاھے کہ وہ اپنی جان اور اپنے جسم کو اللہ کے اَحکام کے مطابق چلاۓ تاکہ جان جسم سے وہی مطالبہ کرے جس کی اللہ نے اُس کو اجازت دی ھے اور جسم بھی جان کا وہی مطالبہ مانے جس سے اللہ نےاُس کو منع نہیں کیا ھے ،انسان پر لازم ھے کہ وہ جسم کو ہمہ وقت اِس بات کے لیۓ تیار رکھے کہ اُس میں جب تک حرکت و عمل کی موجودہ طاقت موجود ر ھے ،تَب تک وہ اپنے خول میں چُھپی ھوٸ جان کو زندہ و سلامت رکھنے کے لیۓ آب و دانے کا بند و بست کرتا رھے اور اگر جسم کے خول میں چُھپی ھوٸ جان کو نقصان پُہنچانے کے لیۓ اِس پر کوٸ بیرونی دشمن حملہ آور ھو جاۓ تو وہ اِس کا دفاع بھی کرے ، چا ھے اِس کوشش میں جسم کا جان سے اور جان کا جسم سے تعلق قاٸم ر ھے یا منقطع ھو جاۓ ، جان کی اِس خُداٸ اَمانت کو زندہ رکھنے کی غرض سے اِس کے لیۓ روزی کمانا اور جان کی اِس اَمانت کو آخری دم تک بُھوک اور دُشمن سے بچانے کی اسی کوشش کا نام جُھدِ حیات اور جہادِ حیات ھے ، جُھدِ حیات اور جھادِ حیات کہ یہ کوشش و سعی انفرادی سطح پر اَفراد بھی کرتے رہتے ہیں اور اجتماعی سطح پر جماعتیں بھی کرتی رہتی ہیں ، اگر انسان کے ہاتھ سے انسانی جان بچانے یا انسانی جان لینے کی انسانی کوشش اللہ کے اَحکام کے مطابق ھوتی ھے تو اُس کا نام جھادِ فی سبیل اللہ ھے اور اگر اللہ کے اَحکام کے خلاف ھوتی ھے تو یہ انسان کی انسان کے ساتھ اُسی طرح کی ایک جنگ ھوتی ھے جس طرح کی جنگ جنگل کے درندوں کے درمیان میں جنگل میں ھوتی رہتی ھے ، اٰیاتِ بالا میں اللہ نے جُھدِ حیات اور جھادِ حیات کا یہی فلسفہ انسان کو سکھایا اور سمجھایا ھے کہ اُس کی جُھدِ حیات اور اُس کے جھادِ حیات کی حدُود و قیود کیا ہیں !
🌹 جھاد براۓ حفاظتِ جان اور جھاد براۓ حفاظت ایمان ! 🌹
اِنسان کی جو سعیِ حیات جان کی حفاظت کے لیۓ ھوتی ھے وہ بھی جھادِ حیات ھوتی ھے اور جو سعیِ حیات ایمان کی حفاظت کے لیۓ ھوتی ھے وہ بھی جھادِ حیات ہی ھوتی ھے اور جھادِ حیات کے یہ دونوں شُعبے جھادِ فی سبیل اللہ کے زُمرے میں آتے ہیں لیکن علماۓ مجوس اُس جھادِ حیات کو تو جھادِ فی سبیل اللہ کہتے ہیں جو کسی میدانِ جنگ میں جا کر کیا جاتاھے اور اُس جھادِ حیات کو جھادِ فی سبیل اللہ سے کاٹ کر الگ کر دیتے ہیں جو انسان کی پہلی سانس لینے سے پہلے ہی اِنسان کی حیات میں موجود ھوتا ھے اور آخری سانس لینے کے بعد بھی اُس کی حیات کے ہر ایک رگ و ریشے میں شامل رہتا ھے کیوں کہ انسان جب اپنی پیداٸش کے پہلے لَمحے کی پہلی آواز اپنے حلق سے نکالتا ھے تو پہلی اَن دیکھی دُنیا کے بعد اِس نٸ دُنیا میں اُس کا جھادِ حیات شروع ھو جاتا ھے اور جب وہ موت کی آخری ہِچکی لیتا ھے تو اُس کا یہ جھادِ حیات اُس کے اُس لمحہِ موت پر بھی ختم نہیں ھوتا بلکہ ارتقاۓ حیات کے اَگلے مرحلے میں بھی اُس کے ساتھ جاتا ھے کیونکہ وہ حیاتِ موجود کے جس جھادِ حیات کا خدا کو حساب دے گا وہ بھی اسی رَواں جھادِ حیات کا حساب ھو گا ، اِس لیۓ قُرآنِ کریم کی اٰیات میں جہاں پر بھی جھاد کا ذکر اٰتا ھے اِس سے یہ دونوں جھاد مراد ھوتے ہیں اور اٰیاتِ بالا میں بھی اللہ تعالٰی نے انسان کو جھادِ حیات کے اِن دونوں شعبوں سے متعارف کرایا ھے اور اِس تعارف میں سب سے پہلے انسان کو اُسی مُطلق جھادِ حیات کی اَہمیت سے آگاہ کیا ھے جو اِنسانی جان کو زندہ رکھنے کے لیۓ لازم ھوتا ھے !
🌹 قُرآنِ کریم کی اِصطلاحاتِ قاعدین و قاٸمین ! 🌹
جھادِ حیات میں جو لوگ ذھنی طور پر غیر متحرک اور جسمانی طور پر غیر فعال ھوتے ہیں ، آیاتِ بالا میں اُن کے لیۓ اللہ تعالٰی نے ” قاعدون “ کی اصطلاح استعمال کی ھے جو قاعد کی جمع ھے ، قاعد اُس شخص کو کہتے ہیں جو کسی عُذر معذوری کے بغیر ایک جگہ پر پڑا رہتا ھے اور قاعدون اُن اُجڈ اور ہَڈ حرام لوگوں کو کہا جاتا ھے جو جان کی حفاظت کے لیۓ بھی کُچھ نہیں کر پاتے ہیں اور دین و ایمان کی حفاظت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ، قُرآنِ کریم نے ” قاعدون “ کی اِس اصطلاح کے مقابلے میں اپنے متحرک و فعال بندوں کے لیۓ ” قاٸمون “ کی اصطلاح استعمال کی ھے جس کا واحد ” قاٸم “ ھے اور جس کا معنٰی کسی انسان کا اپنے پیروں پر کھڑا ھو کر متحرک و فعال ھونا ھے ، اِسی لیۓ انسانی حیات پر جب کبھی بھی کسی طویل ذھنی و فکری موت کے بعد اجتماعی حیات کا کوٸ وقت یا زمانہ آتا ھے تو قُرآن کی زبان میں اُس کو ” القیامہ “ کہا جاتا ھے ، یہ وہی القیامہ ھے جس کو اَربابِ جہالت اپنی جہالت کے باعث موت سے موسم کرتے ہیں مگر قُرآنِ کریم اُس کو انسان کی حیاتِ نَو کہتا ھے ، قُرآنِ کریم کی مجموعی بیانات کے حوالے سے جھادِ حیات کی بات کی جاۓ تو اُمتِ مُسلمہ کے جہادِ حیات کا پہلا مرحلہ دفاعِ توحید اور دفاعِ رسالت کا وہ جھادِ حیات ھے جس کا سیدنا محمد علیہ السلام اور اَصحابِ محمد علیہ السلام نے مکے کی تیرہ برس کی زندگی میں عملی مظاہرہ کر کے دُشمنانِ توحید و رسالت کو شکست دی ھے ، اُمتِ مُسلمہ کے جھادِ حیات کا دوسرا مرحلہ دفاعِ توحید ، دفاعِ رسالت ، دفاعِ قُرآن اور دفاعِ حکومتِ قُرآن کا وہ جھادِ حیات ھے جس کا سیدنا محمد علیہ السلام اور اصحابِ سیدنا محمد علیہ السلام نے مدینے کی تیرہ سالہ زندگی میں عملی مظاہرہ کر کے نٸ اسلامی ریاست کے پرانے دشمنوں کو شکست دی ھے اور عھدِ نبوت و عھدِ خلافتِ نبوت میں جس عملی جھادِ حیات کا اَصحابِ محمد نے عملی مظاہرہ کیا تھا اُس نے سینہِ زمین کو عدل کے نُور سے معمُور کر دیا تھا ، عھدِ خلافت کے بعد اَب جہاں جہاں پر بھی جو جھادِ حیات ھو گا اگر وہ قُرآن اور قُرآنی کے اَحکام کے مطابق عمل کرنے والی ریاست کے دفاع کے لیۓ ھو گا تو جھادِ فی سبل اللہ ھو گا ، اگر اِس کے برعکس کراۓ کے قاتلوں کے ذریعے کوٸ قتال ھو گا وہ فساد فی الارض ھو گا جو قُرآن کی نظر میں ایک بدترین معاشرتی جُرم ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے