Home / اسلام / قُرآن اور مردِ مومن و مردِ کافر کی جان !

قُرآن اور مردِ مومن و مردِ کافر کی جان !

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب ! 🌹
النسا ٕ ، اٰیات 92 ، 93 🌹
قُرآن اور مردِ مومن و مردِ کافر کی جان !! 🌹 ازقلم 🌺🌺🌺اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 وماکان لمٶمن
ان یقتل مٶمنا الا خطا
و من قتل مٶمنا خطا فتحریر
رقبة مٶمنة ودیة مسلمة الٰی اھلہ الا
ان یصدقوا فان کان من قوم عدولکم و ھو
مٶمن فتحریر رقبة مٶمنة و ان کان من قوم
بینکم و بینھم میثاق فدیة مسلمة الٰی اھلہ و تحریر
رقبة مٶمنة فلم من لم یجد فصیام شھرین متتابعین توبة
من اللہ و کان اللہ علیما حکیما 92 ومن یقتل مٶمنا متعمدا فجزاٶہ
جھنم خالدا فیھا و غضب اللہ علیہ و لعنہ و اعدلہ عذابا عظیما 93
کسی مُطمٸن انسان کا کسی خطا کے بغیر کسی مُطمٸن انسان کی جان لینا ایک دینی اور قانونی جُرم ھے ، اِس لیۓ جو مُطمٸن انسان کسی مُطمٸن انسان کی جان لے گا تو اُس کو قتل کے جُرم میں سزا پانے والے ایک انسان کی گردن کو آزاد کرنا ھو گا اور مقرر کیا گیا زَرِ اِزالہ بھی بَھرنا ھو گا ، اِلّا یہ کہ مقتول کے وارث اپنے مطالبے سے دستبردار ھو کر اُس کی جاں بخشی کردیں ، اگر غلطی سے مارا گیا انسان تُمہاری اُس دشمن قوم یا تُمہارے اُس دُشمن ملک کا شہری ھے جس کے ساتھ تُمہارا کوٸ قانونی معاھدہ موجود نہیں ھے تو اَپنے دور کے عمومی قوانینِ جنگ کے مطابق تمہیں اُس قوم یا اُس ملک کے سزاۓ موت پانے والے کسی مُجرم کی گردن آزاد کرنی ھو گی اور اگر اُس دُشمن قوم یا ملک کے ساتھ تُمہارا قانونی معاھدہ موجود ھے تو پھر اُس قوم کے سزاۓ موت پانے والے مُجرم کی گردن آزاد کرنے کےعلاوہ طے کیا گیا زَرِ اِزالہ بھی اَدا کرنا ھو گا لیکن جس انسان نے غلطی سے کسی انسان کو مار دیا ھے اور اُس کے پاس کسی کی گردن آزاد کرنے یا مقرر کیا گیا زَرِ اِزالہ بَھرنے کی کوٸ سبیل بھی نہیں ھے تو اُس انسان کو مُسلسل دو ماہ تک سزاۓ صوم میں رہنا ھوگا مگر جس انسان نے دل کے عزم کے ساتھ کسی انسان کو جان سے محروم کیا ھے تو اُس نے خود ہی خُدا کے غیض و غضب کو دعوت دے دی ھے اور اُس نے اِس خُداٸ غیض و غضب کو دعوت دینے کے بعد اپنی آنے والی زندگی میں ایک داٸمی عذاب میں رہنا ھے اور ہمیشہ ہی ذھن و ضمیر اور جسم و جان کی ایک مسلسل اذیت سہتے ھوۓ رہنا ھے !
🌹 پہلی اٰیت کی پہلی غلط ترجمانی ! 🌹
قُرآنِ کریم کی پہلی اٰیت کے پہلے حصے میں” وماکان لمٶمن ان یقتل مٶمنا الا خطا “ کے الفاظ کے ساتھ اللہ کا جو پہلا حکم وارد ھوا ھے ، اِس عربی حکم کا یہ عجمی ترجمہ کیا گیا ھے کہ ” کسی مومن کا یہ کام نہیں ھے کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے ،الّا یہ کہ اُس سے چوک ھو جاۓ “ اِس ترجمے یا ترجمانی سے صرف اور صرف یہی ایک بات سمجھ آتی ھے کہ ایک مومن انسان پر تو اللہ تعالٰی نے مومن انسان کو قتل کرنے کی پابندی عاٸد کردی ھے لیکن ایک مومن انسان پر کسی کافر انسان کو قتل کرنے کی کوٸ پابندی عاٸد نہیں کی ، بلکہ اُس مومن کو کسی بھی کافر کو قتل کرنے کی ایک کُھلی آزادی دے دی ھے ، اِس ترجمے یا ترجمانی میں یہ اُلجھاٶ اِس لیۓ پیدا ھوا ھے کہ لفظِ مومن کا ترجمہ نہیں کیا گیا بلکہ عربی کے مومن کے نیچے ترجمانی کرتے ھوۓ فقہاۓ کرام کا وہی خیالی اور اِصطلاحی مومن لکھ دیا گیا ھے جس کا معنٰی کلمہ گو ھے اور اِس سے قدرتی طور پر یہی نتیجہ نکلتا ھے کہ کسی کلمہ گو انسان کو قتل کرنا تو بالکل غلط ھے مگر غیر کلمہ گو انسان کو قتل کرنا بلکل بھی غلط نہیں ھے !
🌹 ایمان کا معنٰی قلبِ پُر اطمینان اور مومن کا معنٰی فردِ مُطمٸن ھے ! 🌹
حقیقت یہ ھے کہ عربی کی اصطلاحِ ” ایمان “ کا معنٰی قلبی اطمینان ھے اور عربی کی اصطلاحِ ” مومن “ کا معنٰی ایک فردِ مطمٸن ھوتا ھے اور اٰیت کا منشا بھی اللہ کے اِس حکیمانہ حکم کو اُجاگر کرنا ھے کہ کوٸ بھی صاحبِ ھوش و حواس انسان کسی انسان کو اُس وقت تک قتل کر ہی نہیں سکتا جب تک کہ اُس کے ھوش و حواس سلامت ھوتے ہیں ، انسان جب بھی کسی کو قتل کرتا ھے اور کسی بھی وجہ سے قتل کرتا ھے تو پہلے اُس پر ایک شیطانی اور نفسانی اشتعال وارد ھوتا ھے جس سے اُس کے ھوش و حواس معطل ھوتے ہیں اور جب اُس کے ھوش و حواس معطل ھوتے ہیں تو وہ جُرمِ قتل کا اِرتکاب کر گزرتا ھے ، اسی لیۓ ھم نے بھی اِس اٰیت کا مفہوم واضح کر نے کے لیۓ اسی لفظِ مطمٸن کو استعمال کیا ھے تاھَم بیانیہِ الفاظ یا پیرایہِ اظہار کُچھ بھی ھو ، قتل بہر حال ایک جُرم ھے اور ہر جُرم کی بہر صورت ایک سزا ھے جو قُرآن نے اِن اٰیات میں بیان کردی ھے !
🌹 اِھلِ جہالت کے جاہلانہ مفروضے اور جاہلانہ فیصلے ! 🌹
قُرآن کے اِس ترجمے اور ترجمانی کرنے والے مجوسیوں نے اٰیاتِ بالا کے ساتھ دوسری جہالت یہ کی ھے کہ اِن سب نے سب سے پہلے تو یہ مفروضہ قاٸم کر لیا ھے کہ دُنیا میں جہاں کہیں پر بھی پہلے سے کوٸ جنگ جاری ھے وہ ہمیشہ جاری ر ھے گی اور دُنیا میں جہاں کہیں پر بھی بعد میں کوٸ جنگ شروع ھو گی وہ بھی ہمیشہ جاری ر ھے گی اور عالَم میں جب جب یا جہاں جہاں بھی کوٸ جنگ ھوگی اُس جنگ میں مسلمان ہی ہمیشہ فاتحِ عالَم ھوں گے اور ہر مجاھد مسلمان چونکہ فاتحِ عالم ھو گا ، اِس لیۓ اُس کے پاس بڑے بڑے محلات ھوں گے اور اُن بڑے بڑے اِسلامی محلات میں لونڈیوں اور غلاموں کے جَمگھٹے لگے ھوۓ ھوں گے اور اگر کوٸ مسلمان کسی انسان کو قتل کر دے گا تو فورا ہی ایک غلام آزاد کرنے یا خوں بہا اَدا کر نے کے بعد موچھوں کو تاٶ دیتا ھوا گھر آجاۓ گا ، اِن ترجمہ کاروں نے اپنے اسی جاہلانہ خیال کے تحت اٰیاتِ بالا میں غلام آزاد کرنے والی اپنی ذاتی جہالت کو قُرآن کے ایک داٸمی حکم کے طور پر پیش کیا ھے !
🌹 قُرآن کی اٰیاتِ جنگ اور قُرآن کے اَحکامِ جنگ ! 🌹
ہر انسان جانتا ھے کہ ہر کلام کا ایک سیاق و سباق ھوتا ھے اور انسان جان لے کہ قُرآن کی اِن اٰیات کا بھی ایک روشن سیاق و سباق ھے اور اِن اٰیات کی سابقہ اٰیات میں حربی مافقین اور غیر بی منافقین کا ذکر گزرا ھے تو اِن اٰیات میں بھی اُن ہی حربی معامالات کے بارے میں ھدایت کا ایک سلسلہ جاری ھے اور اِس سلسلہِ کلام میں یہ بتایا جا ر ہا ھے کہ انسان ، کا فر ھو یا مُسلم ھو ، مُلحد ھو یا مشرک ھو ، خدا کا دوست ھو یا خدا کا دُشمن ھو اُس کا پہلا تعارف یہ ھے کہ وہ انسان ھے ، کوٸ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے کسی انسان کا دُشمنِ جان نہیں ھے بلکہ ہر انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ہر ایک انسان کا محافظِ جان ھے ، انسان خدا کے جہان کی وہ مخلوق ھے کہ جس کی جان کا کوٸ بدل نہیں ھے اور جس کی جان کی کوٸ قیمت بھی نہیں ھے ، اِس لیۓ جنگ کے دوران اگر تُم کسی غیر مسلح اور اپنی جان سے مطمٸن ھو کر اپنی جگہ پر بیٹھے ھوۓ انسان کو ہلاک کرو گے توراٸج الوقت جنگی قانون کے مطابق تُم کو اُس جان کی قیمت چکانی پڑے گی اورجنگ کے دوران جن افراد کو کسی جنگ جُو نے غلطی سے ماردیا ھے ، اُس کے جنگی جرمانے کی تفصیلات ھمارے مقصدی ترجمے میں موجود ہیں ، ریاست میں ھونے والے عمومی قتل اور اُن کی عمومی سزاٶں کے اَحکام بھی اِن ہی اٰیات میں موجود ہیں ، عام طور پر معاشرے میں جو قتل ھوتے ہیں وہ پرانی دُشمنیوں کا شاخسانہ ھوتے ہیں جن کے سدِ باب کا ایک سادہ طریقہ یہ ھے کہ ایک پُرانے بوڑھے اور سزاۓ موت کا انتظار کرنے والے قاتل کے وارث ، اُس کی گردن چُھڑا کر اپنے نۓ اورجوان قاتل کی گردن بچا سکتے ہیں اور مزید جانوں کو بھی قتل ھونے سے محفوظ کر سکتے ہیں اور جہاں تک خوں بہا کا تعلق ھے تو یہ قاتل و مقتول اور ریاست کے انتظامی اور قانونی ادارے کا معاملہ ھے اِس معاملے کو یہ تینوں مل کر نمٹا سکتے ہیں لیکن اگر ریاست دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتی ھے کہ فلاں شخص ایک عادی مجرم ھے تو وہ وراث کا خوں بہا کا اختیار معطل کر کے مقتول کی جان کے بدلے میں اُس کو سزاۓ موت دے سکتی ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے