Home / بین الاقوامی / یورپ میں طاعون*

یورپ میں طاعون*

📖 *انتخاب ؤ ترتیب
✒ *سید خالد جامعی مدظلہ*
ـــــــــ ـــــــــ ــــــــــ

یورپ کے تنگ و تاریک گھروں میں روشنی سے محروم طرز تعمیر و طرز زندگی اور صفائی سے غفلت کالی خونی موت Black Death کا سبب بنی، جس میں تاریخ دانوں کے مطابق سولہ کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے، لیکن اسی بیمار یورپ میں کروڑوں لوگ زندہ بھی بچ گئے، بیماری انہیں موت کے منہ میں لے جانے کا سبب نہ بن سکی، *مرے گا وہی جس کی زندگی کا وقت پورا ہو گیا اور جن کی زندگی باقی ہے وہ کیسے ہی کھٹن حالات اور خطرناک بیماریوں میں گھرا ہو، اللہ تعالی اسے موت کے منہ سے نکال کر آب حیات تک لے جائیں گے، لہذا یہ سمجھنا کہ اگر طاعون کا علاج اس دور میں دریافت ہو جاتا تا تو سولہ کروڑ لوگ بچ جاتے، تقدیر الہی پر عدم ایمان سے عبارت ہے، اگر طاعون کی دوا موجود ہوتی تب بھی وہ سولہ کروڑ لوگ ضرور مرتے جن کی موت لکھ دی گئی تھی، کوئی دوا لکھی موت ٹال نہیں سکتی، ہر مرض کا علاج ممکن ہے سوائے بڑھاپے اور موت کے ان دو امراض کا علاج ممکن نہیں اور یہ اللہ تعالی کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی* طاعون کی بیماری تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا کے تمام خطوں میں وقتا فوقتا پھیلتی رہی ہے لیکن جس طرح طاعون نے یورپ میں تباہی مچا دی ایسی دنیا کے کسی خطے میں نہیں آئی، اس کی ایک بڑی وجہ *یورپی طرز زندگی اور صفائی کی خراب صورت حال تھی تو دوسری اہم ترین وجہ یورپ میں کلیساء کے پوپ کے حکم پر بلیوں کا قتل عام تھا، پوپ اور پادریوں کا خیال تھا کہ بلیاں جادوگروں کا ہدف ہیں اور ان کے ذریعے جادو کا اثر عام کیا جاتا ہے لہذا بلیوں کے خلاف مذہبی نفرت نے بلیوں کے قتل عام کو ممکن بنا دیا لہذا طاعونی چوہوں کو بلیوں کی مزاحمت نہیں ملی، اگر بلیاں کثرت سے ہوتیں یورپ پر طاعون کا اس قدر خوفناک حملہ نہ ہوتا* اس کے علاوہ مختلف مورخین نے طاعون کی دیگر وجوہات بھی بیان کی ہے، مغرب کا یہ خیال کہ *اس نے موت کو شکست دے دی، طاعون، چیچک کا علاج دریافت کر لیا اور لوگوں کی زندگی بچا لی اور ان کی عمریں بڑھا دیں، یہ محض ان کی خام خیالی ہے، عمر کم یا زیادہ ہونے کا فیصلہ آسمانوں پر ہوتا ہے، جس مغرب کو سولہ کروڑ لوگوں کے مرنے کا صدمہ تھا، اسی مغرب کو اب اس بات کا غم شدت سے کھائے جا رہا ہے کہ گذشتہ سو برس میں دنیا کی آبادی جس تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اس کے باعث وسائل کم پڑ جائیں گے لہذا یہی مغرب جدید اسلحہ اور جنگوں، کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے انسانیت پر مسلسل ہلاکت مسلط کر رہا ہے، آبادی کم کرنے کی خطرناک دوائیں ایجاد کر کے رحم مادر میں قتل عام کا ارتکاب کر رہا ہے، اسقاط حمل کے ذریعے اربوں انسانوں کو قتل کر رہا ہے اور سی ٹی سکین کے ذریعے انسانوں کو دنیا میں آنے سے پہلے دوسری دنیا میں پہنچا رہا ہے* اس کا خیال ہے کہ مغرب کی ایجاد کردہ دواؤں کے باعث بیماریاں ختم ہوگئیں لہذا لوگ اب کم مر رہے ہیں زیادہ جی رہے ہیں، لہذا جس طرح پہلے انسانوں کو مرنے سے بچانا اس کا فرض تھا اب انسانوں کو مار کر کم کرنا بھی اسی کا فرض ہے یعنی خدائی کا خناس ابھی تک مغرب کے ذہن سے خارج نہیں ہوا یہی خدا آبادی کی روک تھام کی فکر میں مصروف عمل ہے، جس کے باعث چین اور ہندوستان میں لڑکیوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے، چین میں ایک بچے کےفلسفے کے باعث لڑکی کی پیدائش کو سی ٹی اسکین کے ذریعے روک دیا جاتا ہے، ہندوستان میں بچیوں کی قبل از ولادت ہلاکت کی صورت حال اس حد تک پریشان کن ہے کہ اب وہاں رحم کی شناخت کے لئے سی ٹی سکین کے استعمال پر ہی پابندی عائد کر دی گئی ہے، کالی موت یا بلیک ڈیتھ یا Great pestilence کا اصل مرکز و محور یورپ کیوں رہا اور اس نے کس طرح یورپ کو برباد کیا، اس کی تفصیل ویکیپیڈیا سے پڑھئے! مغرب میں یہ سیاہ موت بلیک ڈیتھ جدید سائنسی انقلاب کا عنوان بن گئی، کالی موت نے زندگی کی نئے سرے سے نئی تفہیم پیدا کی جس کا بنیادی وصف تحفظ حیات (self preservation of life) قرار پایا، *زندگی سب سے اہم ترین واقعہ ہوگئی اور موت قابل نفرت شے قرار پائی* قرآن نے اہل کتاب پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا فتمنوا الموت ان کنتم صادقین اہل کتاب ہزار برس جینے کی آرزو کرتے تھے اور خود کو خدا کا مقرب خاص بھی سمجھتے تھے، قرآن نے طنزاً کہا کہ طویل عمر کی خواہش میں یہودی، مشرکین سے بھی بد ترین ہیں، کالی موت نے اہل مغرب میں زندگی سے بے پناہ محبت کا جذبہ راسخ کیا، جدیدیت کا خاص وصف مالک الملک کی خالقیت کا انکار اور الوہیت انسانی کا اعلان ہے، انسان خود خدا ہے کیونکہ نطشے کے مطابق خدا (نعوذ باللہ) مر گیا ہے لہذا اس کی خالی جگہ انسان نے پر کر دی ہے، اس فلسفے کا نقطہ عروج جسم انسانی کو خدا کے تصرف سے نکال کر انسان کی ملکیت (Body is Property) قرار دینا ہے یعنی خدا کو خدا کے سپرد کر دینا
ــــــــ

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    I am sure this article has touched all the internet
    viewers, its really really nice article on building up new web site.
    I’ve been browsing online more than 4 hours today, yet
    I never found any interesting article like yours. It is pretty worth enough for
    me. In my opinion, if all web owners and bloggers made good content as you did, the net will be a lot
    more useful than ever before. I could not resist commenting.
    Very well written! http://cspan.org

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے