Home / کالم / ایک دیا امید کا__*

ایک دیا امید کا__*

* * *از قلم
طیبہ مرزا

بجھے دیے دیکھ کر اسے یہ وہم ہو گیا ہے کہ میں نے اس کا انتظار کرنا چھوڑ دیا ہے مگر کوئی تو اسے بتائے کہ جیسے دنیا امید پے قائم ہے ویسے ہی میری محبت امید کے دیے پے قائم ہے. کوئی تو اس بے خبر کو کہے کہ میرا دل ایک لمحہ بھی اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتا میری زندگی کی کوئی شام بھی ایسی نہیں گزری جب میں نے اس کا انتظار نہ کیا ہو.. مجھے پتہ چلا بارش میں دعائیں قبول ہوتی ہیں میں نے بارش میں اسے مانگنا شروع کر دیا. پھر پتہ چلا سفر میں دعا قبول ہوتی ہے تو سفر میں اسے پانے کی دعا کی. میں نے ہر اس لمحے میں اسے مانگا ہے جس کا میں نے سنا تھا کہ اس لمحے دعا قبول ہوتی ہے , پھر بھی تم نہیں ملے لیکن میں نے تمہیں مانگنا نہیں چھوڑا ایک نماز میں اگر تمہیں بھولنے کی دعا کر بھی لوں تو اگلی چار نمازوں میں پھر تمہیں شدت سے مانگتی ہو پتہ ہے کیوں_______؟

کیونکہ ایک امید کا دیا اب بھی روشن ہے جو مجھے ہارنے نہیں دیتا ایک امید کی کرن ہے جو میرا حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیتی. ایک تسلی ہے کہ جو دعائیں دنیا میں قبول نہیں ہوتیں وہ آخرت کے لیے ذخیرہ کر لی جاتی ہیں دعا رائیگاں نہیں جاتی سو امید ہے کہ مل جاؤ گے ابھی نہیں تو پھر کبھی اس جہاں میں نہیں تو اس جہاں میں سہی ___!!
😭😭😭

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے