Home / کالم / گزارش

گزارش

📖 *علمائے کرام کی خدمت میں ایک گزارش*
✍ *سید خالد جامعی مدظلہ*
ــــــــــ ـــــــــــ ــــــــــ
ماہنامہ معارف اعظم گڑھ بر عظیم پاک و ہند بلکہ عالم اسلام کا اہم دینی وتحقیقی رسالہ ہے، اس کی ادارت عالم اسلام کے مایہ ناز فرد علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کے حصے میں آئی، ماہنامہ معارف نے مختلف مباحث پر اہم مضامین شائع کئے لیکن مغربی فکر و فلسفہ اور تہذیب و تاریخ پر اس کے توجہ برائے نام رہی، ندوہ العلماء کے تاسیسی اجتماع میں مولانا شاہ سلیمان پھلواری رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ میں کہا تھا *اس زمانے میں فلسفے نے ایک دوسری کروٹ لی، اب یورپین فلسفہ اور علم تمام دنیا میں دائر و سائر ہے اور طرح طرح کے علوم و فنون نئے پیدا ہوئے، اس کے بعد اب قرآنی الفاظ پر اعتراض ہونے لگے، ہماری جماعت کسی اعتراض کے جواب سے عاجز نہیں، ضرور اس کا جواب دیتی ہے اور ہمارے معتقدین اصول موضوعہ کی طرح اس کو تسلیم بھی کر لیتے ہیں لیکن مخالفین اس پر قہقہے لگاتے ہیں کیونکہ ہم بیکن اور نیوٹن کی اصطلاحات سے واقف نہیں ہیں* ندوۃ العلماء کے قیام کا مقصد علمائے کرام کو انگریزی زبان، فلسفہ جدیدہ، علوم جدیدہ سے واقف کرانا اور فقہ اسلامی کی تدوین نو تھا لیکن افسوس کہ ندوہ العلماء ان مقاصد کی تکمیل سے قاصر رہا اور فلسفہ و علوم جدیدہ کے میدان میں تصانیف کا معاملہ بھی نظر انداز رہا، ہمارے سامنے ۱۹۱۶ سے لے کر ۱۹۶۵ تک ماہنامہ معارف کے پچاس سال کا اشاریہ ہے، اس اشاریے میں فلسفہ و کلام کے عنوان سے ماہنامہ معارف کے مضامین کی فہرست ہے، یہ فہرست پانچ صفحات پر مشتمل ہے *پچاس سال کے عرصے میں مغربی فکر و فلسفے پر ماہنامہ معارف نے کوئی ایسا مضمون شائع نہیں کیا جسے نہایت اعلی درجے کا علمی، تحقیقی اور تنقیدی مضمون کہا جا سکے، حد یہ کہ مغربی فلسفے یا فلاسفہ مغرب پر بھی کوئی جامع تعارفی مضمون تک شائع نہیں کیا گیا* پچاس سال میں صرف ۴۸ مضامیں لکھے گئے، بیشتر مضامین مسلمان حکماء، اسلامی فلسفہ یا کتابوں پر تبصرے کی صورت میں لکھے گئے، ماہنامہ معارف جیسے عظیم علمی جریدے میں مغربی فکر و فلسفے سے اس قدر بے اعتنائی برتی گئی ہے تو دیگر اسلامی جرائد و رسائل (برہان، ترجمان القران، الہلال، البلاغ، اسلامک اسٹڈیز، اسلامک کلچر وغیرہ) کس شمار میں آتے ہیں *عالم اسلام کے زوال کا ایک اہم سبب علمائے کرام اور جدید مفکرین کی مغربی فکر و فلسفے سے عدم آگہی ہے، ماضی میں مدارس اور علمائے کرام نے یونانی فلسفے کا مقابلہ اس لئے کیا کہ وہ اس سے واقف تھے* یونانی فلسفہ سترہویں صدی میں بیکن، ڈیکارٹ، نیوٹن اور کانٹ کے ذریعے ایک نئے قالب میں طلوع ہوا اور یونانی فلسفے کے تمام صالح عناصر مثلا Virtue وغیرہ سب اس سے خارج کر دئیے گئے، *مغربی فکر و فلسفہ جاہلیت جدیدہ ہے، اس پر عالم اسلام میں کوئی کام نہیں ہوا، دار المصنفین اعظم گڑھ بھی مغربی فکر و فلسفے کے سلسلے میں کوئی رہنماء کتاب شائع کرنے سے قاصر ہے، جامعہ ملیہ، علی گڑھ یونیورسٹی سب کا حال کم و بیش یہی ہے، اس کے برعکس ان تمام علمی اداروں کے مفکرین مغربی فکر و فلسفے کو پڑھے بغیر اس سے اس قدر متاثر ہیں کہ مغربی افکار کے صہباء کو اسلام کی مئے لالہ فام میں تحلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں* پاکستان میں خلیفہ عبد الحکیم، ڈاکٹر فضل الرحمن، جعفر شاہ پھلواری جیسے جدیدیت پسند علماء اور ادارہ ثقافت اسلامیہ، مجلس ترقی ادب، اردو سائنس بورڈ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام اباد، مقتدرہ قومی زبان وغیرہ بھی مغربی فکر و فلسفے پر کوئی قابل ذکر تنقیدی کتاب پیش کرنے سے قاصر رہے *ادارہ ثقافت اسلامیہ اور اب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام اباد تو جدیدیت اور مغربیت کو پاکستانی علماء کےلئے قابل قبول بنانے کے کام میں مصروف ہیں* المیہ یہ ہے کہ *پورے عالم اسلام میں مغربی فکر و فلسفے کو سمجھنے، اس کا تنقیدی جائزہ لینے اور اس سے بچنے کی کوئی ادارہ، کوئی رسالہ، کوئی جریدہ، کوئی تنظیم موجود نہیں ہے، یہ المناک صورت حال ہے* تمام دینی تحریکوں، دینی جماعتوں، مدارس عربیہ، علمی و تحقیقی انجمنوں، اسلامی مفکرین اور دینی جرائد و رسائل کے مدیران سے ہماری خصوصی استدعاء ہے کہ وہ *مغربی فکر و فلسفے کے گہرے مطالعے، تجزیے، جائزے اور تنقید پر خصوصی توجہ دیں، اس کے بغیر مغرب کی یلغار کا مقابلہ کرنا ممکن نہ ہوگا اور اخر کار عالم اسلام مصر کی طرح جدیدیت اور مغربیت کے سیلاب میں غرق ہوجائے گا، یہ وقت انتظار کا نہیں فوری کام کی ضرورت ہے*
ـــــــــــــــــــ
*مقالات جامعی فورم* سے مستفید ہونے کےلئے درج ذیل لنک پر کلک کیجئے!
https://chat.whatsapp.com/Dxr4XY4Cco5AxVULPVYr0T

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے