Home / کالم / بیٹا مفت دے دینا وبا ہے

بیٹا مفت دے دینا وبا ہے

ذرا سوچیں!
تحریر
ریاض حسین

؟؟؟؟؟؟؟ اس فقرے نے ہزاروں سوال کھڑے کر دیے لیکن ہم آج بھی دس اور دس بیس کھاتے میں لکھو تیس… ایک لاک ڈاون کا شکار دوسری جانب ذخیرہ اندوزی اور سرکار کی دی گیی گرانٹ کو ہڑپ کرنے تدبیریں دوچ رہے ہیں. آنگن اور گھر کی چھتوں ہر اذانیں دی جاری ہی ہیں.. شناختی کارڈ کی کاپی تیس میں کی جاتی ہے.. دعا مانگ رہے ہیں نجات کیوں.. کیا ہمارا کامل ہو گیا… رب سے معافی کیسی…تو سنیے..
ساہیوال کے مشہور پاکپتن چوک کے پاس ایک آٹھ دس سال کا بچہ گھر میں سلے ہوئے کپڑے کے ماسک بیچ رہا تھا۔ میں نے یوں ہی اس سے پوچھا۔۔۔
“کتنے کا دو گے بھئی؟”
کہنے لگا۔۔۔ “آپ کے لیے تیس کا”
میں نے پوچھا۔۔۔” میرے لیے کیوں؟ میرے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں”
جواب آیا۔۔۔ “آپ بیس روپے دے دیں۔ اس سے کم نہیں۔”
میں نے نہ جانے کس ترنگ میں آ کر کہا۔۔۔
” بھئی میرے پاس تو بیس روپے بھی نہیں ہیں۔ تو کیا کروں؟”

اس نے کہا کہ آپ مفت لے جائیں۔ جب کبھی پیسے ہوں تو دے دینا۔
میں اس جواب سے بہت حیران ہوا۔ اور استفسار کیا کہ ماں تمہیں لڑے گی نہیں کہ مفت کیوں دے آئے؟
بچے کے جواب نے مجھے سر تا پاء لرزا دیا۔ کہنے لگا۔۔۔

“نہیں۔۔۔ امی نے کہا تھا کہ اگر کسی کے پاس پیسے نہ ہوں تو اسے ویسے ہی دے دینا۔ اتنی وبا پھیلی ہوئی ہے۔”
اللہ اکبر۔۔۔

قوم کی بات کرتے ہو۔۔۔
ایک ماں جس نے فاقوں سے مجبور ہو کر کپڑوں کے ماسک سی سی کر اپنے معصوم سے بچے کو چوراہے پر مزدوری کے لیے بھیجا۔ اس نے یہ سوچ کر کہ وبا کے دنوں میں کوئی ضرورت مند ایسا بھی ہو سکتا ہے جس کے پاس ماسک خریدنے کے پیسے نہ ہوں۔ تو اسے بغیر قیمت دینے کا سبق سکھا کر بھیجا۔

قوم کی بات کرتے ہو۔۔۔
اس قوم کی مائیں ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئیں کہ عبد القادر جیلانی رحہ جیسے نہ سہی ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے بچے پیدا نہ کر سکیں۔ جنہیں بس ایک ہی سبق آتا ہے اور وہ سچ کا ہے۔

قوم کی بات کرتے ہو۔۔۔
یہ قوم غربت اور بھوک سے لڑتے ہوئے بھی دوسروں کا احساس کرنا نہیں بھولتی۔

آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرف قوم، قوم ہو رہی ہے۔ ہماری قوم یہ، ہماری قوم وہ۔۔۔ہر بات میں ہر وقت قوم کو لتاڑنے والے یاد رکھیں۔ ابھی اس میں وہ دم خم ہے کہ کرونا جیسی وبا کا سامنا ایک درد دل رکھنے والے انسان کے طور پر کر سکے۔

میں اس تذکرے کو چھوڑ دیتا ہوں کہ بچے کی مدد کی یا نہیں۔ صرف اتنا کہوں گا اس پر آشوب دور میں چند بے حس لوگوں کا راگ الاپنے کی بجائے ایسی ماؤں اور ایسے بیٹوں کے کردار کو سلام پیش کرو جو ہماری قوم کا فخر ہیں کیونکہ یہ وقت منفی نہیں مثبت سوچ کو فروغ دینے کا ہے۔ اللہ کریم اس آزمایش کی گھڑی میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرماے آمین.. ذرا سوچیں ہم کہاں ہیں..

گر تو سمجھ پائے میری بات۔۔۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے