Home / کالم / مقالات جامعی فورم*

مقالات جامعی فورم*

📖 *مسجدوں کو ویران کرنا سب سے بڑا جرم ہے، وہ علماء جو مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکنے کا حکم دے رہے ہیں وہ کورونا پر کچھ پڑھ لیں*
✒ *سید خالد جامعی مدظلہ*
ــــــــــ ــــــــــ ــــــــــ
*علماء یہ بتائیں کہ لوگوں کو نماز سے روکنے کا حکم امت کی تاریخ میں کب دیا گیا؟ کس نے دیا؟ کس بنیاد پر دیا؟ آج علماء سائنس کو حجت قطعی مان کر دینی علمیت کے منہاج کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟* برطانیہ میں ڈاکٹروں کو فراہم کئے گئے سرجیکل ماسک کورونس وائرس کے خلاف کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتے، برٹش نیشنل ہیلتھ سروسز (BNHS) کےلئے فرنٹ لائن پر کام کرتے طبی عملے کو مریضوں سے رابطے کے بعد کورونا وائرس کی بیماری نے متاثر کیا ہے، عملے کو مہیا کردہ نا کافی ذاتی تحفظ کے آلات (PPE) پر سیفٹی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں (جنگ کراچی ۲ اپریل ۲۰۲۰) کورونا وائرس ملیریا کی گولیاں کھانے سے ختم ہو جاتا ہے، پنجاب کے ہسپتالوں میں تجربہ نہایت کامیاب رہا (جنگ کراچی ۲ اپریل ۲۰۲۰) کورونا وائرس انہی لوگوں پر اثر کرتا ہے جو کمزور، پہلے سے بیمار، مہلک بیماریوں میں مبتلاء ہیں، بوڑھے غیر صحت مند لوگ اس کا نشانہ ہیں (جنگ کراچی ۲ اپریل ۲۰۲۰) ماہرین صحت کے مطابق کورونا سے اسی فیصد لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں، صرف چھ فیصد کی بیماری شدت اختیار کر سکتی ہے، انہیں آئی سی یو میں داخلہ دیا جاتا ہے، کچھ کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے (جنگ کراچی ۲ اپریل ۲۰۲۰) *بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کورونا وائرس کے خوف، خدشے، اندیشے کی بنیاد پر لوگوں کو مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روک دیا جائے؟ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے طاعون کے موقع پر مساجد بند کرنے کا حکم نہیں دیا، اللہ کے گھروں میں باجماعت نماز ہوتی رہی، کیا علماء کےلئے سائنسی منہاج حجت ہے یا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ کا طریقہ حجت ہے؟* یہ ہے بنیادی سوال *کیا اسلامی علمیت میں فتوی کسی امکان، توقع خطرے کی بنیاد پر دیا جاتا ہے یا کسی حقیقی صورت حال پر؟ حاضر و موجود پر فتوی دیا جاتا ہے کیونکہ فتوی مستقبلیاتی Futuristic ہوتا ہے یا کسی مسئلے کے وجود میں آنے پر دیا جاتا ہے؟ حیرت ہے کہ ٹیکنو سائنس، میڈیکل سائنس، سرمایہ دارانہ صنعتی نظام کے پیدا کردہ وائرس کے رد عمل میں سائنسی منہاج علمی پر کوئی تنقید، اعتراض نہیں ہو رہا ہے بلکہ اسلامی علمیت اور منہاج کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور سائنس کے منہاج کو العلم اور الحق کا درجہ عالم اسلام میں دے دیا گیا ہے، یہ موقع تھا کہ علماء سائنسی منہاج کے توہمات پر ایمان لانے سے انکار کر دیتے مگر وہ مساجد بند کرکے اسلامی علمیت سے دستبردار ہو رہے ہیں* ہسپتال میں کام کرنے والا ڈاکٹر *صرف سرمایہ تنخواہ حاصل کرنے کےلئے اپنی جان خطرے میں ڈال کر علاج کر رہا ہے وہ بھاگنا چاہتا ہے مگر بھاگ نہیں سکتا کہ ریاست اسے قید کرے گی یا ملازمت سے بر طرف کر دے گی وہ اپنی دنیا کےلئے اپنی جان قربان کرنے پر تیار ہے اور علماء اخرت کےلئے اپنی جان قربان کرنے پر تیار نہیں اور عوام کو مسجد آنے سے روک رہے ہیں، یہ شرم کا مقام ہے اور اسلامی علمیت پر (جو مطلق اور یقینی ہے) سائنسی علمیت (جو نہ علم کی تعریف پر پورا اترتی ہے، غیر مطلق اور غیر یقینی علمیت ہے) کی برتری کا پیغام ہے* ایسی سائنس جس کے توہمات کے بارے میں Against Method کا مصنف لکھتا ہے کہ سائنا اور افریقہ کے کالے جادو میں کوئی فرق نہیں، *خدا کے خوف کے بجائے امت کورونا کے خوف میں مبتلاء ہے، علماء نے اپنی غلطی سے سائنسی علمیت کو اسلامی منہاج پر فائق کر دیا، جو علماء کہہ رہے ہیں کہ ریاست جو کہہ رہی ہے وہ حکم مانو! اصلا وہ سائس پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں کیونکہ جدید ریاست سائنس اور سرمایہ کی تنظیم کا نام ہے اور ریاست سائنسی منہاج علم کو قبول کر رہی ہے، اسلامی علمیت کو مسترد کر رہی ہے لہذا علماء ریاستی, سائنسی منہاج کو ہی قبول کر رہے ہیں* ــــ
*ــــــــــــــــــــ*
╭•┄┅═<<<❁✿✿✿❁>>>═┅┄•╮​
*مقالات جامعی فورم*
╰•┄┅═<<<❁✿✿✿❁>>>═┅┄•╯
سے مستفید ہونے کےلئے درج ذیل لنک پر کلک کیجئے!

https://chat.whatsapp.com/Dxr4XY4Cco5AxVULPVYr0T

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے