Home / کالم / کرونا ایک مہلک واٸرس

کرونا ایک مہلک واٸرس

تحریر:
حافظ عمیرحنفی

اس میں کوٸی دو راۓ نہیں ہے کہ کرونا ایک مہلک وبا ہے یقیناً اس وبا نے ایک بڑا خلا پیدا کردیا ہے اور ساری انسانیت ایک کرب میں مبتلا ہے اور اس سے زیادہ خوف زدہ بھی ہے ہر ٹی وی چینل اخبار سوشل میڈیا غرض تمام ذراٸع ابلاغ پر یہی ایک موضوع بحث ہے
تمام سیاسی جماعتیں خواہ حکومتی اتحادی جماعت ہو یا اپوزیشن کی اتحادی سبھی اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر اس کے خلاف جنگ میں متحد ہیں ہمیں اس وقت اس بحث میں نہیں جانا کہ یہ کرونا کی عالمی وبا ایک بیالوجیکل وار فیٸر(حیاتاتی جنگ) ہے یا نہیں! دیکھا جاۓ تو اس عالمی وبا کرونا واٸرس جس کا پہلا کیس 31 دسمبر 2019 کو چین میں رپورٹ ہوا 7 جنوری 2020 کو عالمی ادارہ صحت نے اس بیماری کو عالمی وبا قرار دیتے ہوۓ اس کو ”کرونا واٸرس“ کا نام دیا 11 جنوری 2020 کو چین میں پہلی موت واقع ہوٸی اور آج 31مارچ 2020 تک مطلب صرف دو ماہ 31 دونوں میں پوری دنیا میں پھیل چکا اب تک کی ٹی وی رپوٹ کے مطابق تقریباً 192 ممالک تک یہ وبا پھیل چکی ہے اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 37 ہزار 551جبکہ متأثرین کی تعداد 7 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کرگٸی ہے ایک ارب انسان گھروں میں قید ہیں معیشت تباہ ہوچکی معاشرت برباد کاروبار اور معمولات زندگی غرض سب کچھ ٹھپ ہے ۔

اس سے قبل اگر تاریخ کے دریچوں میں جھانکا جاۓ تو 1897میں تاریخ ہند کا تیسرا بڑا طاعون پھیلا تھا جس نے ایک کروڑ انسانوں کی جان لے لی بحری جہازوں کے ذریعے تجارت کی وجہ یہ وبا چین سے ہندوستان پہنچا اس وبا نے ایک کروڑ سے لیکر ڈیڑھ کروڑ انسانوں کی 1897 سے 1920 تک جان لے لی اس کے لیے ایک ویکسين تیار کی گٸی جس نے اس وبا کا خاتمہ کیا اب ہمیں کیا کرنا ہے بات وہیں سے شروع کرتے ہیں اور ہم اس بات سے قطع نظر کہ کس نے پھیلایا ہے اور کہاں سے شروع ہوا ہے! ہمیں چین سے سبق سیکھنا ہوگا کہ انہوں نے اس بات پر توجہ کیے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھی اور آج چند ہی عرصہ میں بہت بڑے نقصان سے اپنے آپ کو محفوظ کرلیا آج ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ایران سے آنے والے وہ زاٸرین جو ہمارے ملک میں پھیل گۓ ہیں ان سے پھر ہزاروں لوگوں میں یہ وبا منتقل ہوگٸی کہ یہ تفتان کا باڈر کھولنا یا ان کو ملک میں داخل ہونے دینا درست تھا ؟

اس کو بھی پس پشت ڈالتے ہیں یہ بعد کا معاملہ ہے اب حل کیا ہوگا ہمارے پاس اس موذی واٸرس سے بچاٶ کے لیے فقط احتیاطی تدابیر پر عمل کو یقینی بنانا ہوگا لیکن کچھ لوگ موت کا خوف لیے اس طرح سے عوام کو ڈرا رہے ہیں کہ موت شاید اسی وبا کے ساتھ معلق ہے نہیں موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کے سامنے سب حقیقتیں پس پردہ چلی جاتی ہیں موت کی ارزانی بیان کرتے ہوۓ علامہ محمد اقبالؒ نے کہا تھا” کلبہ افلاس میں اور دولت کے کاشانے میں موت جلوہ گر ہوتی ہے دشت دور میں گلشن میں اور ویرانے میں بھی موت برسراقتدار ہوتی ہے یہ قلزم خاموش میں بھی اس شان سے ہنگامہ آرا ہوتی ہے کہ موجوں کی آغوش میں سفینے ڈوب جاتے ہیں کسی کو بھی نہ مجال شکوہ ہے نہ طاقت گفتار ہے زندگی کو انسان ایک طوق سمجھنے پر مجبور ہوگیا ہے جو گلے میں اٹک رہا ہے اور مسلسل گلے کو دبا رہا ہے آسمانی اور الہامی کتابوں میں موت کا نقشہ جو موجود ہے پہلے وہ آیات گلے تک رہتی تھیں اب وہ گلے میں اتر رہی ہیں انسان کتنا طاقت ور ہے کتنا بڑا عہدہ پر براجمان ہے اس کرونا نے سب کچھ عیاں کردیا ہے اب ہر خبر سننے کے بعد بلکہ ہر سانس کے بعد موت کا خیال آتا ہے۔

اسی کرونا نے جداٸیاں ڈال دی ہیں اب ہم بہت سارے کاموں سے احتراز کررہے ہیں یقیناً کرنا بھی چاہیے لاکھوں لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گۓ ہیں سڑکیں سنسان پڑی ہیں کالجز و دفاتر کو تالیں ہیں غرض تمام نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے یقیناً اس وبا میں سب کچھ بند کرنا ضروری بھی ہے ہمارا مدعا یہ ہے اب ہمیں اس بحث میں بھی نہیں الجھنا کہ نظام سرمایہ داری کے لیےدہشت پھیلانے کا کھیل ہے یا نہیں! بلکہ ہمیں اٹلی کے وزیراعظم کی اس تقریر سے سبق حاصل کرنا ہوگا کہ ” ہم غلطی کرچکے ہیں دیگر ممالک احتیاطی تدابیر اختیار کریں ورنہ ہمارے والا حشر ہوگا اور بے بسی کے سوا کوٸی چارہ نہ ہوگا“ اور یقیناً ایران بھی دبے الفاظ میں ہمیں یہی پیغام دے رہا ہے کہ ہم جتنا جلدی ہوسکے احتیاطی تدابیر اختیار کریں ہمیں اس وقت میں متحد ہونا پڑے گا اور چند کاموں کو اپنے اوپر لازم قرار دینا ہوگا وہ یہ ہیں کہ سب سے پہلے

اللہ عزّوجل کے حضور گڑگڑا کر توبہ کریں معافی مانگیں عبادت کی کثرت کریں جتنا ہوسکے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں علما امت نے جو وظاٸف بتاۓ ہیں ان کو معمول میں لاٸیں موت کے خوف کی بجاۓ اللہ عزّوجل کی ذات کا خوف اپنے اندر پیدا کریں اپنی ذمہ داریوں کا خود احساس پیدا کریں جہاں تک ممکن ہو لوگوں میں عوامی آگاہی مہم کے ذریعے سے ترغیب دیں دوسرا کام جو ہمارے کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اپنے آپ کو کرونا کے جراثیم سے محفوظ کریں اس کے لیے ماسک ودیگر آلات کا استعمال کریں دوسروں کو بھی محفوظ کریں مطلب کھانسی چھینک کے وقت احتیاط سے کام لیں اپنا سانس دوسرے شخص پر مت ڈالیں ہاتھ ملانا اور بلا ضرورت معانقہ سے بھی گریز کریں وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں اپنا زیادہ وقت الگ تھلگ گزاریں (اس میں قرآن پاک کی تلاوت اور مطالعہ کی بھی عادت بنا لیں) غیرضروری طور پر باہر مت جاٸیں چونکہ پنجاب سندھ بلوچستان آزاد کشمیر میں مکمل جبکہ کے پی کے میں جزوی طور پر لاک ڈاٶن ہے اس لیے باہر جانے سے پرہیز کریں رش والی جگہ پر اکٹھے نہ ہوں سب سے آخری اور اہم چیز جس کی جانب سب کی توجہ مرکوز کروانا مقصد بھی ہے وہ یہ کہ چونکہ کروبار بند بازار مارکیٹیں سبھی بند ہیں اس لیے اپنے ارد گرد نظر دوڑاٸیں جہاں آپ کو غریب دیہاڑی دار یا کوٸی بھی ضرورت مند نظر آتا ہے تو اس کی تصاویر بناۓ بغیر ضرور مدد کریں اب وہ وقت ہے کہ مخیر حضرات اپنے مال کو صحیح مصارف پر استعمال کریں ویسے روزانہ کی بنیاد پر مال کا بے دریغ استعمال کرنے والے یا عوامی خدمت کا نعرہ لگانے اور اسی نعرہ پر ووٹ لینے والےحضرات سے گزارش ہے کہ اب اس موقع پر اپنی خدمات پیش کریں۔ اب قوم کو آپ کی ضرورت ہے قوم آپ کی منتظر ہے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے