Home / اسلام / قُرآن کا قانون تحریماتِ محرمات ! 🌹 (حصہ 2

قُرآن کا قانون تحریماتِ محرمات ! 🌹 (حصہ 2

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب ! 🌹
((( النسا ، آیات 22 ، 23 ))) 🌹
قُرآن کا قانون تحریماتِ محرمات ! 🌹 (حصہ 2 ) 🌹ازقلم 📙📙📙 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیرآن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنےتمامدوستوں کےساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 ولا تنکحوا ما نکح آباٸکم من النسا ٕ
الا ما قد سلف انہ کان فاحشتہ و مقتا و سا ٕ سبیلا 22
حرمت علیکم امھٰتکم و بنٰتکم واخوٰتکم و عمٰتکم و خٰلٰتکم و بنٰت الاخ
وبنٰت الاخت و امھٰتکم الٰتی ارضعنکم و اخوٰتکم من الرضاعتہ و امھٰت نسا ٕ کم
و رباٸبکم الٰتی فی حجورکم من من نساٸکم الٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح
علیکم وحلاٸل ابناٸکم الذین من اصلابکم و ان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ان اللہ کان غفورارحیما 23
تُم میں سے ہر ایک فرد کے لیٸے قُرآن کا پہلا مُجمل قانون تحریماتِ محرمات یہ ھے کہ تُم اپنے باپ کی بیوی یا بیوہ سے کبھی بھی نکاح نہیں کر سکتے ، اِس سے پہلے جس نے جو کرلیا ھے وہ کر لیا ھے لیکن اِس آسمانی قانون کے نازل و نافذ ھو نے کے بعد تُم اپنے باپ کی بیوی یا بیوہ سے نکاح کا گمان تک بھی دل میں نہیں لاسکتے ، کیونکہ باپ کی بیوی یا بیوہ سے نکاح کا خواب انسان کے گندے خوابوں میں سے سب سے گندہ خواب ، انسان کے گندے خیالوں میں سے سب سے گندہ خیال اورانسان کے گندے اعمال میں سے سب سے گندہ عمل ھے ، اور تُم میں سے ہر فرد کے لیٸے قُرآن کے اِس پہلے مُجمل حکم کے بعد دوسرا مُفصل حکم یہ ھے کہ تُمہاری ماٸیں اور تُمہاری بیٹیاں بھی تُمہارے لیٸے حرام ہیں ، تُمہاری بہنیں اور تُمہارے باپ کی بہنیں بھی تُمہارے لیٸے حرام ہیں ، تُمہاری ماٸیں اور تُمہاری ماٶں کی بہنیں بھی تُمہارے لیٸے حرام ہیں ، تُمہارے بھاٸیوں کی بیٹیاں اور تُمہاری بہنوں کی بیٹیاں بھی تُمہارے لیٸے حرام ہیں ، اسی طرح وہ عورتیں بھی تُمہارے لیٸے حرام ہیں جن کا تُم نے اپنے دُودھ پینے کے زمانے میں دُودھ پیا ھے ، اُن کی وہ لڑکیاں بھی تُمہارے لیٸے حرام ہیں جن کے دُودھ پینے کے زمانے میں تُم نے اُن کے ساتھ یا انہوں نے تُمہارے ساتھ دُودھ پیا ھے ، اسی طرح تُمہاری بیویوں کی ماٸیں بھی تُمہارے لیٸے حرام ہیں اور اسی طرح تُمہاری کسی موجودہ بیوی کے کسی پہلے شوہر سے پیدا ھونے والی ہر وہ بیٹی بھی تُمہارے لیٸے حرام ھے جو تُمہارے گھر میں زیرِ پرورش ھے لیکن اِس قانون کا اطلاق تُمہاری اُن بیویوں کی اُن بیٹیوں پر ھو گا جن بیویوں کے ساتھ تُم نے شوہر کے طور پر اپنا وقت گزارا ھے اور جن بیویوں کے ساتھ تُم نے شوہر کے طور پر کوٸ وقت نہیں گزارا ھے اُن کی بیٹیاں تُمہارے لیٸے حرام نہیں ہیں ، اور اسی طرح تُمہارے لیۓ یہ کام بھی حرام ھے کہ تُم اپنے صُلبی بیٹوں کی بیویوں کو اپنے نکاح میں لاٶ اور تُمہارے لیٸے یہ بھی حرام ھے کہ تُم ایک وقت میں دو بہنوں کو اپنے نکاح میں رکھو ، تاہَم اِس سے پہلے جو ھو چکا وہ ھو چکا اور ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ تعالٰی ہمیشہ ہی سے اپنے بندوں کے لیٸے رحم پرور و پردہ پوش رہا ھے !
🌹 انسانی تاریخ میں تزویجِ محرمات کا اِعتراف و انحراف !🌹
قُرآنِ کریم نے آیاتِ بالا میں ماں ، بہن ، بیٹی کے علاوہ انسان کے جن دوسرے نَسلی ، نَسبی اور صُلبی و خونی رشتوں کی جس اَبدی حُرمت کا اعلان کیا ھے اِنسانی فطرت میں یہ اَبدی حُرمت زمان و مکان کے یومِ اَزل سے ایک اَزلی حُرمت کے طور پر موجود رہی ھے لیکن انسان اپنے اِس تاریخی اور اِرتقاٸ سفرِ حیات کے دوران جس طرح فطرت کے دیگر بہت سے قوانین کا کبھی کبھی بر ملا اعتراف کرتا رہا ھے اور کبھی کبھی بر ملا انحراف بھی کرتا رہا ھے اسی طرح اِنسان نے فطرت کے اس قانونِ تزویج کا بھی کبھی کبھی اور کہیں کہیں بر ملا اعتراف کیا ھے اور کبھی کبھی اور کہیں بر ملا انحراف بھی کیا ھے !
🌹 رشتوں کی حلت و حرمت کے غیر متوازن ضابطے ! 🌹
چناچہ ھم دیکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں بعض اقوام حرمت کے اِن رشتوں کے بارے میں اتنی سخت تھیں کہ کوٸ انسان اپنی ماں اور بہن کے ساتھ مل کر بیٹھنے کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتا تھا ، کوڑیوں کے جزیرے Lepers Island میں یہ روایت تھی کہ بیٹا ایک خاص عمر میں باپ کا گھر اِس لیٸے چھوڑ کر کسی دُور دراز علاقے میں چلا جاتا تھا تاکہ ماں اور بہن کے ساتھ اُس کو بیٹھنے کا کوٸ موقع نہ مل سکے جس میں اُس کو اپنی ماں اور بہن کے ساتھ تخلیٸے کا کوٸ ایسا موقع مل جاٸے جس میں جنسی اختلاط کا کوٸ خطرہ موجود ھو ، یورپ و امریکا اور انگلینڈ وغیرہ میں بچے اور بچیاں جو اٹھارہ سال کے ھوتے ہی گھر سے فرار ھو کر کسی دورے علاقے میں چلے جاتے ہیں اُس کی یہ وجہ نہیں ھوتی کہ اُن کو اپنے ماں باپ کے ساتھ یا اُن کے ماں باپ کو اُن بچوں اور بچیوں کے ساتھ کوٸ محبت نہیں ھوتی جیساکہ اہلِ مشرق سمجھتے ہیں بلکہ اِن اقوام کے اِس عمل کے پیچھے بھی یہی تاریخی نفسیات کار فرما ھوتی ھے جس کا ھم نے ذکر کیا ھے ، اِن اقوام کی یہی وہ نفسیاتی گرہ ھے جس کے تحت اولاد والدین سے بچھڑ جاتی ھے اور والدین اولاد سے بچھڑ جاتے ہیں ، اِس معاملے میں یہ قومیں اتنی متشدد واقع ھوٸ ہیں کہ بہن بھاٸ اور اولاد والدین کا کہیں سرِ راھے بھی آمنا سامنا ھو جاٸے تو وہ اجنبیوں کی طرح ایک دوسرے سے ایک رسمی سی خیر خیریت پوچھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں ، کہیں کہیں تو اِن اقوام میں یہ معاشرتی تکلف اتنا کڑا ھوتا ھے کہ اگر زمین پر بہن اور بھاٸ ایک دوسرے کے نقوشِ قدم بھی دیکھ لیں تو وہ اُس راستے کو چھوڑ کر کسی دوسرے راستے پر چل پڑتے ہیں ، قدیم زمانے میں اِن اقوام میں وقت کے ساتھ ساتھ یہ نفسیاتی احتیاط اتنی بڑھ چکی تھی کہ ماں اور بیٹے کے درمیان بھی ایک ایسی خوفناک اجنبیت پیدا ھوگٸ تھی کہ ماں ، ماں کے طور پر بیٹے کے سامنے محبت کے ساتھ کھانا بھی نہیں رکھ سکتی تھی بلکہ اُس کے سامنے وہ کھانا بھی اِس طرح پھینک دیتی تھی جس طرح لوگ کُتے کے آگے راتب ڈالتے ہیں !
🌹 قُرآن کے متوازن عالمی قوانین ! 🌹
لیکن زندگی اور زندگی کے رشتے زیادہ دیر تک اتنے بے رحم ھو کر بھی نہیں رہ سکتے تھے کہ اِن رشتوں کی پہچان ہی ختم کر دی جاتی اِس لیۓ اِن اقوام میں ” دستِ خود دھانِ خود “ کا خاموش قانون جاری ھو گیا ، ہر شخص اپنا کھانا خود بناتا ھے اور خود ہی اُٹھا کر اپنی اپنی ٹیبل تک لے جاتا ھے اور کوٸ شخص کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا بلکہ فورک اور چمچ سے اُٹھاتا اور کھاتا ھے ، ان کے کارو باری اداروں نے بھی اِن کے اِس اجتماعی معاشرتی و نفسیاتی اصول کے مطابق کھانے کی چیزیں بھی ایسی تیار کری لی ہیں جو کاغز کے برتنوں میں آتی ہیں اور کاغز کے برتنوں میں ہی کھا لی جاتی ہیں تاَھم رشتوں کے رشتوں کے ساتھ اِس شدید انحراف کے مقابلے میں دوسری طرف دوسری اقوام میں ایک دوسری انتہا یہ رہی ھے اور شاید کہیں کہیں اَب بھی موجود ھے کہ وہاں ماں ، بہن اور بیٹی کے ساتھ بلاتکلف جنسی رشتے بھی قاٸم کرنا کوٸ قانونی یا اخلاقی جرم نہیں سمجھا جاتا ، انسانی نفسیات کا یہی وہ خوفناک و خطرنا پس منظر ھے جس میں قُرآن نے رشتوں کی حلت و حرمت کے وہ متوازن عالمی قوانین دیۓ ہیں جن کا آیاتِ بالا میں ذکر کیا گیا ھے اور آج کی مہذب دُنیا میں اِن رشتوں کی وہی اَزلی و اَبدی حلتیں اور حرمیتیں قاٸم ھو چکی ہیں جن کو قُرآنِ کریم نے ایک عالمی قانون کے طور پر عالَم کے سامنے پیش کیا ھے ، علماٸے نفسیات کے نزدیک جس وقت بچہ جسم میں داخل ھونے والی خوراک سے ایک لطیف سا لُطف لینا اور جسم سے خارج ھونے والے فُضلے سے ایک محسوس سا تلطف لینا شروع کرتا ھے اُس کے جسم کی زمین پر جنس کی فصل اُگنے کا موسم شروع ھو جاتا ھے ، قُرآنِ کریم نے اِس اَمر کی براہِ راست کوٸ تاٸید یا تردید تو نہیں کی لیکن قُرآنِ کریم نے دو برس کی عمر میں بچے کے لبوں کو ماں کی چھاتیوں سے دُور کرنے کے لیٸے بچے کا دُودھ چُھڑانے کا جو حکم دیا ھے اُس میں بچے اور ماں کے وجود کو ایک دوسرے کے وجود سے الگ کرنے کا حکم بہر طور موجود ھے اور بچے کی ماں کے وجود سے اور ماں کی بچے کے وجود سے دو برس کی عمر سے شروع ھونے والی یہ دُوری لَمحہِ موت تک قاٸم رہتی ھے اور قُرآنِ کریم کا یہی وہ محتاط ، متوازن اور جنسی نظامِ اصلاح ھے جو مُستقل طور پر ماں بیٹوں اور بہن بھاٸیوں کے قُرب و بُعد کے فطری راستے متعین کر دیتا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے