Home / کالم / مصائب کی وجوہات :::

مصائب کی وجوہات :::

::: انتخاب :
محمد حذیفہ خان سواتی

مصائب و آلام دو وجوہ سے آتے ہیں ، یا تو ان کے ذریعے نافرمان افراد اور قوموں کی ہلاکت مقصود ہوتی ہے اور یا پھر انہیں تنبیہ کرنا مطلوب ہوتا ہے تاکہ وہ نافرمانی سے باز آجائیں اور اطاعت کا راستہ اختیار کر لیں ۔ قرآن پاک میں ان دونوں اسباب کا ذکر موجود ہے ۔ دیکھئے مصائب تو انبیاء پر بھی آتے ہیں حالانکہ وہ تو گناہ سے پاک ہوتے ہیں ، ان کو مصائب کے ذریعے ابتلاء میں ڈالا جاتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند ہوں ، ان کو تہذیب حاصل ہو اور ان کے نفوس پاک ہو جائیں ۔ عام انسانوں کو بھی تکالیف آتی ہیں تو ان کے بھی مختلف اسباب ہوتے ہیں ۔ بدکار آدمیوں کو سزا دینا یا تنبیہ کرنا مقصود ہوتا ہے ، مگر نیک آدمیوں کے لئے تکالیف ان کے ثواب میں اضافہ اور بلندی درجات کے لئے آتی ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس کی مثال اس طرح بیان کرتے ہیں کہ کسی بیمار آدمی کو کڑوی دوائی پلا کر سمجھا دیا جاتا ہے کہ اس سے تمہیں تکلیف دینا مقصود نہیں بلکہ اس کا نتیجہ تمہارے حق میں اچھا ہوگا ، یا اگر کسی شخص کے جسم کا کوئی حصہ بالکل نا کارہ ہوجائے اور اس کے اثرات جسم کے دوسرے حصوں میں بھی پھیلنے کا خطرہ ہو تو ڈاکٹر اس مفلوجہ حصہء جسم کو کاٹ پھینکنے میں ہی مصلحت دیکھتے ہیں کیونکہ اس کا کٹ جانا ہی آدمی کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔
شاہ صاحبؒ کی حکمت میں یہ بات مسلم ہے کہ انسانوں کو ان کے اعمال کا بدلہ ملنا ضروری ہے ، بعض اوقات بدلے کا کچھ حصہ دنیا میں بھی مل جاتا ہے ، مگر اس کا زیادہ حصہ آخرت میں ہی ملے گا ۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اسے اس کے عمل کی جزا یا سزا ضرور ملنی چاہئے اور اس کی آپؒ نے چار وجوہات بیان کی ہیں ۔
(۱) پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت ملکیت اور بہیمیت کی کشمکش کا نام ہے جو ہمیشہ جاری رہتی ہے ۔ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ بہیمیت مغلوب ہوکر ملکیت غالب آجائے ۔ اب اگر اس کے بر خلاف ہو گا تو وہ فطرت کے خلاف ہو گا ، اور اس کیلئے انسان کو سزا ملنی چاہئے ۔
ٌٌ(۲) شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتوں کی دعائیں اور بد دعائیں بھی انسانی جزا و سزا کا سبب بنتی ہیں اور یہ دوسری وجہ ہے ۔ جب کوئی شخص نیک عمل انجام دیتا ہے تو ملاء اعلیٰ کے فرشتوں سے شعائیں نکلتی ہیں ، جو اس شخص پر بھی پڑتی ہیں اور اوپر بھی جاتی ہیں اور پھر ان کا انسان کے حق میں اچھا نتیجہ نکلتا ہے ۔ اسی طرح جب کوئی آدمی برے فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو فرشتوں سے شعائیں نکلتی ہیں ، یہ شعائیں بھی متعلقہ شخص پر پڑتی ہیں اور اوپر کی طرف بھی جاتی ہیں ، اس طرح گویا فرشتوں کی دعائیں اور بد دعائیں بھی جزا یا سزا کا سبب بنتی ہیں ۔
(۳) فرماتے ہیں کہ جزا اور سزا کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ شرائع کا تقاضا ہے کہ انسان ان کی پابندی کریں ، اب اگر وہ ان قوانین کی پابندی کرتے ہیں تو جزا ورنہ سزا کے حق دار بننا چاہئیں ۔
(۴) اور چوتھی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے دنیا میں انبیاء کو مبعوث فرما کر حلال و حرام اور جائز و ناجائز کو واضح کر دیا ہے ، اب جو شخص اچھا کام کرے گا وہ اچھے بدلے کا حقدار ہے اور جو حرام اور ناجائز کو اختیار کرے گا ، معصیت کا ارتکاب کرے گا اسے سزا ملنی چاہیے ۔ یہ چار چیزیں جزائے عمل کا سبب ہیں ۔“

مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ
تفسیر معالم العرفان فی دروس القرآن ج ۱۴ ص ۸۲۸ ، ۸۲۹)

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے