Home / اسلام / قُرآن کے مُنکر اور قُرآن کے مُجرم !! 🌹

قُرآن کے مُنکر اور قُرآن کے مُجرم !! 🌹

🌹#العلمAlilm 🌹 علمُ الکتاب !🌹
((((( النسا ٕ ، اٰیت 44 تا 50 ))))) 🌹
قُرآن کے مُنکر اور قُرآن کے مُجرم !! 🌹
ازقلم
🌷🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 الم تر الی الذین اوتوانصیبا من الکتاب
یشترون الضلٰلة و یریدون ان تضل السبیل 44 واللہ اعلم
باعداٸکم وکفٰی باللہ ولیا و کفٰی باللہ نصیرا 45 من الذین ھادوا
یحرفون الکلم عن مواضعہ و یقولون سمعنا و عصینا واسمع غیر مسمع
وراعنا لیابالسنتھم وطعنا فی الدین و لو انھم قالواسمعنا واطعنا وانظرنالکان
خیرالھم واقوم ولٰکن لعنھم اللہ بکفرھم فلا یٶمنون الا قلیلا 46 یٰایھاالذین اوتواالکتاب
اٰمنوابمانزلنا مصدقالمامعکم من قبل ان نطمس وجوھا فنردھاعلٰی ادبارھا او نلعنھم کما لعنااصحٰب
السبت و کان امراللہ مفعولا 47 ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذٰلک لمن یشا ٕ و من یشرک باللہ فقد
افترٰی اثما اثما عظیما 48 الم تر الی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشا ٕ ولا یظلمون فتیلا 49 انظر کیف یفترون
علی اللہ الکذب وکفٰی بہ اثما مبینا 50
کیا تُم اُن لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ جن کو زمین پر ھم نے اپنی کتاب کا پاسبان بنایا لیکن انہوں نے پاسبانی کے اِس منصب پر مامور ھو کر اِس کتابِ حق کو اپنی تجارت کا ذریعہ بنا یا اور اِس کتابِ حق کے اَحکام پر ایمان و یقین رکھنے والوں کو ایمان و یقین کی نعمت سے دُور کر دیا ، اے قُرآن کے مبلغ ! اللہ جو تیرا دوست اور مددگار ھے وہ تیرے اِن دشمنوں کو بخوبی جانتا ھے ، اور اے اَربابِ بصیرت ! کیا تُم اُن لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ جن کو ھم نے ھدایت کے منصب پر مامور کیا تو وہ ھماری اٰیات کے آگے والے کلمات کو پیچھے اور پیچھے والے کلمات کو آگے کر کے اِس کتاب کی معنوی تحریف کے مرتکب ھو رھے ہیں ، اور اے اہلِ گوش و سماعت ! اگر تُم اُن کو غور سے دیکھو گے اورغور سے اُن کی باتیں سنو گے تو یہ لوگ اپنے عملِ حال اور زبانِ حال سے تُم کو یہی کہتے ھوۓ دکھاٸ اور سناٸ دیں گے کہ ھم نے اللہ کے احکام سُن لیۓ ہیں اور سُن کر فراموش کردیۓ ہیں ، اگر قُرآن کے یہ دُشمن اللہ اَحکام کو سنا و اَن سنا کرنے اور اپنی زبانوں سے اِن کو موڑ اور مروڑ کرحرفِ طعن و ملامت بنانے کے بجاۓ اِن اَحکام کی پیروی کرتے ھوۓ اللہ کی نگاہِ کرم کی آرزُو کرتے تو یہ اِن کے حق میں یقینا بہتر ھوتا لیکن انہوں نے تو اِس کلام خیر سے مکمل اعراض کر لیا ھے اور اللہ تعالٰی نے بھی اِن کے اِس اعراض کے باعث ان کو اپنی رحمت و مہربانی سے دُور کر دیا ھے ، اِن میں اَب بہت کم کم ہی وہ لوگ ھوں گے جو اللہ کے اِن اَحکامِ ایمان و اطمینان کو قبول کریں گے اور اے جھوٹ بھری کتابوں کے جھوٹے پلندے ہاتھوں میں اُٹھا نے ، سنانے اور اِن کو پھیلانے والے گم راہ لوگو ! اگر تُم اب بھی ھمارے کلامِ حق پر ایمان لے آٶ تو ھم تُمہارے دُھتکارے ، پِھٹکارے اور پِچھلپاٸیوں کی طرح آگے سے پیچھے کی طرف مُڑے ھوۓ بد صورت چہروں کو دوبارہ خوب صورت بنا کر پُشت سے موڑ کر سامنے لے آٸیں گے ، اگر تُم ایسا نہیں کروگے تو ھم تم کو بھی وہی سزا دیں گے جو اِس سے پہلے ” اَصحابِ سبت “ کو دے چکے ہیں ، یاد رکھو کہ اللہ تعالٰی اپنی ذات و صفات اور اپنے نام و کلام کے ساتھ شرک کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گا ، اِس ایک مشرکانہ معصیت کے سوا ، وہ جس کی معصیت کو اور جس جس معصیت کو چاھے گا ، معاف کر دے گا ، کیونکہ جو شخص اللہ کے نام اور کلام کے ساتھ کسی کے نام اور کلام کو شریک کرتا ھے وہ سب سے بڑا معصیت کار ھوتا ھے ، کیا تُم قُرآن کے اِن دُشمنوں کو دیکھتے نہیں کہ یہ نفس پرستی اور خود ستاٸشی کے شیطانی مرض میں مُبتلا ہیں ، حالانکہ انسانی نفس کا وہی تزکیہ معتبر ھے جو غیر اللہ کے کلام کی اتباع سے نہیں ھوتا بلکہ اللہ ہی کے کلام و اَحکام کی اتباع سے ھوتا ھے اور کیا تُم اَب بھی اِن منکرینِ قُرآن کی اِن کُھلی کُھلی عادات و علامات دیکھنے کے بعد یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ اپنی روایات و حکایات کو اللہ کے رسول سے منسوب کر کے اللہ اور رسول دونوں پر بُہتان باندھ رھے ہیں !
🌹 علماۓ علماۓمجوس کے مجوسی حیلے ! 🌹
علماۓ مجوس کے کامیاب مجوسی حیلوں میں سے ایک کامیاب مجوسی حیلہ یہ ھے کہ وہ انتہاٸ مہارت اور انتہاٸ چابک دستی کے ساتھ اپنے طویلے کی بلا بندر کے سر ڈال کر اپنا سر بچا لیتے ہیں ، اٰیاتِ بالا جو درحقیقت علماۓ مجوس کے قُرآن دُشمن مجوسی کردار کے بارے میں قُرآن کی ایک پیش گوٸ کے طور پر قُرآن میں موجود ہیں ، علماۓ مجوس اِن اٰیات کو بڑی کامیابی کے ساتھ علماۓ یہُود کی کارستانی قرار دے کر اپنے آپ کو مسلمانوں کے قہر و غضب سے بچاۓ ھوۓ ہیں ، اِس موقعے پر کسی طویل دلیل اور کسی طویل تمثیل سے قطع نظر کرتے ھوۓ علماۓ مجوس کے اِس کرتب کے بارے میں اتنا عرض کر دینا ہی کافی ھو گا کہ اٰیاتِ بالا میں کم و بیش 21 صیغے فعل مضارع کے ہیں اور عربی قواعد کی رُو سے فعل مضارع فاعل کے اُس فعل کو ظاہر کرتا ھے جو زمانہِ حال میں واقع ھوتا ھے یا زمانہِ مستقبل میں واقع ھونا ھوتا ھے ، فعل مضارع کے ذریعے کسی فعل کے فاعل کا جو فعل اپنے سیاق و سباق کے حوالے سے زمانہِ حال میں واقع ھونے ھونے والا فعل قرار پاتا ھے تو اُس کی حیثیت ایک نقلِ واقعہ سے زیادہ کُچھ نہیں ھوتی لیکن جب وہی فعل مضارع اپنے سیاق اور سباق یا تاریخی آثار و شواھد کی حوالے سے زمانہِ مستقبل سے متعلق ھو جاتا ھے تو اُس میں کہی گٸ بات ایک پیش گوٸ بن جاتی ھے اور جب کبھی بھی ماضی میں کہی گٸ کوٸ بات مستقبل میں ظاہر ھو جاۓ تو وہ بات اُس کہی اور سنی جانے والی ہر بات سے زیادہ
قوی اور زیادہ مستند قرار پاتی ھے ، علماۓ مجوس جو فعل مضارع کی رعایت سے اِن اٰیات میں آنے والے سارے افعالِ مضارع کا ترجمہ فعل حال سے کرتے ہیں اور اپنے اِس ترجمہِ حال سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ اٰیت علماۓ یہُود کی تحریفات کے بارے میں ہیں لیکن اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ سیدنا محمد علیہ السلام کے عھد میں زمین کے طول و عرض میں کہیں پر بھی علماۓ یھُود کی تورات میں تحریف کرنے والی کوٸ جماعت موجود نہیں تھی ، کیونکہ علماۓ یہُود تورات میں تحریف کا یہ کام 1520 قبل مسیح کر چکے تھے ، اِس لیۓ علماۓ مجوس کا یہ ترجمہِ حال کسی طور پر بھی حسبِ حال نہیں ھے اور فعل مضارع کے اِس قاعدے اور تاریخ کے اِس حوالے کی رُو سے فعل مضارع کے اِن تمام صیغوں کا ترجمہ زمانہ مستقبل کے حوالے سے ہی ممکن ھے اور مستقبل کے حوالے سے اِن تحریفی اعمال کا مصداق یہی علماۓ مجو س ہیں جو قُرآن کے مقابلے میں وہ کتابیں پڑھتے اور پڑھاتے ہیں جن کے ذریعے وہ قُرآن کی معنوی تحریف کر تے ر ھے ہیں اور کر رھے ہیں ، اِس لیۓ اٰیاتِ بالا کا ھم نے جو مفہوم بیان کیا ھے اُس میں عربی کے اسی معروف قاعدے کے مطابق وہی مفہوم پیش کیا ھے جو مٶثر بہ مستقبل ھے اور اِس مٶثر بہ مستقبل مفہوم کے حوالے سے اُس مفہوم کا مصداق علماۓ مجوس ، محدثین مجوس اور فقہاۓ مجوس کے سوا کوٸ بھی نہیں ھے !
🌹 اٰیات بالا اور اُن کے اَحکام و نتاٸج ! 🌹
اٰیاتِ بالا میں سے سب سے پہلی اٰیت میں اللہ تعالٰی نے اُن علماۓ اُمت کی نشان دہ کی ھے جن کو اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب کے ایک علمی حصے کا وارث بنایا لیکن انہوں نے اِس کے اَحکام کو توڑ موڑ کر اِن پر اپنی تجارت کی بنیاد رکھی ، اٰیاتِ بالا میں سے دوسری اٰیت میں اللہ تعالٰی نے اِس جماعت کو سیدنا محمد علیہ السلام کا دُشمن قرار دے کر آپ کو اِس بات کی تسلی دی ھے کہ اللہ تعالٰی آپ کی ذات کو ، آپ کی بات کو اور آپ کی جاں نثار جماعت کو اِن منکرینِ قُرآن کے فتنہ و شر سے بچاۓ گا کیونکہ اللہ تعالٰی ہی آپ کا والی و ناصر اور غم گسار و مدد گار ھے ، اٰیاتِ بالا میں سے تیسری اٰیت میں اللہ تعالٰی نے اِس بات کی نشاندہی کی ھے کہ اللہ تعالٰی نے اِس کتابِ حق کے ذریعے اِس دینی جماعت کے لیۓ ھدایت کا اہتمام کیا لیکن اِس بد نصیب و بے توفیق جماعت نے حق اور ھدایتِ حق کو پسِ پشت ڈال دیا اور اللہ تعالٰی نے بھی سزا کے طور پر اِس جماعت کو دُھتکار اور پِھٹکار کر حق اور رحمتِ حق سے دُور کر دیا ھے اور اَب یہ جماعت زمین پر چوبِ مسجد کی طرح ھے ، جو نہ سوختنی ھے اور نہ فروختی ، چوتھی اٰیت میں اللہ تعالٰی نے اِس جماعت کو دُھتکارنے اور پِھٹکارنے کے باوجود بھی اِس پر اتمامِ حُجت قاٸم کرنے کے لیۓ اِس کو آوازدی ھے اور اِس کو یہ اِطلاع دی ھے کہ اِس جماعت نے نہ تو شیطان کی طرح اللہ تعالٰی سے کوٸ مُہلت لی ھوٸ ھے اور نہ ہی اللہ تعالٰی نے اِس کو کوٸ مُہلت دی ھوٸ ھے ، اِس لیۓ یہ جب بھی چاھے ، واپس آجاۓ ، اگر یہ جماعت واپس نہ آٸ اور اِس نے اللہ کے دین کے نام پر اللہ کے دین کو بدنام و رُسوا کرنے کی روش ترک نہ کی تو عجب نہیں کہ اللہ تعالٰی اِن کی اِس روش کی بنا پر اِس کے چہرے کو عام انسانوں کی طرح سامنے رکھنے کے بجاۓ پُشت کی طرف پھیر کر نشانِ عبرت بنا دے ، پانچویں اٰیت میں اللہ تعالٰی نے اِس کو نتیجہِ کلام کے طور پر یہ بتایا ھے کہ جس طرح اللہ تعالٰی اپنی ذات کے ساتھ کسی کو شریکِ ذات کے طور پر شریک کرنا برداشت نہیں کرتا ، اسی طرح اللہ تعالٰی اپنے کلام قُرآن کے ساتھ بھی کسی دوسرے کلام کو بھی شریکِ کلام کے طور پر برداشت نہیں کرتا ، اِس لیٸے اِس کے جس فرد نے قُرآن کی طرف واپس آنا ھے اُس نے جہالت کے اِن دفتروں کو پیچھے چھوڑ کر واپس آنا ھے اور پھر چھٹی اور ساتویں اٰیت میں یہ بتایا ھے کہ اِس جماعت کی خاص نشانی یہ ھے کہ اِس کے افراد شیطان کی طرح ایک شیطانی خود ستاٸشی کے مریض ھوتے ہیں اور قُرآن کے خلاف اور قُرآن کے مقابلے میں جو کتابیں لے کر آتے ہیں ، انسان کو اپنی اُن گم راہ کُن کتابوں کا مقلد بناتے ہیں ، حلانکہ اِن کے کسی فرد نے کبھی بھی قُرآن کی اور صاحبِ قُرآن کی کبھی تقلید کی تلقین نہیں کی ھے اور اِن کی یہی وہ کُھلی ھوٸ گمراہی ھے جس کو دیکھ کر اہلِ اسلام یہ جان سکتے ہیں کہ یہ وہی مجرم لوگ ہیں جو ہمیشہ ہی خدا و رسول کی طرف گھڑ گھڑ کر اپنے جھوٹ اور بُہتان منسوب کرتے ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے