Home / اسلام / قُرآن کا قانونِ وراثت ! 🌷 (حصہ 7 ) 🌷

قُرآن کا قانونِ وراثت ! 🌷 (حصہ 7 ) 🌷

🌷 #العلمAlilm 🌷
علمُ الکتاب ! 🌷
((( النساء ، اٰیت 12 ))) 🌷
قُرآن کا قانونِ وراثت ! 🌷 (حصہ 7 ) 🌷
ازقلم 📕 اخترکاشمیری
🌷 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌷🌷🌷
🌷 برائے مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیئر کریں !! 🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
🌷 اٰیت و مفہومِ آیت ! 🌷
🌷 ولکم نصف ماترک ازواجکم
ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع
مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ولھن الربع مما ترکتم
ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون
بھا اودین و ان کان رجل یورث کلٰلة او امراة ولہ اخ او اخت فلکل واحد منھماالسدس فان کانوا
اکثر من ذٰلک فھم شرکاء فی الثلث من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضار وصیة من اللہ واللہ واسع علیم 12
شوہر اور بیوی کی وراثت تقسیم کرنے کا قانون یہ ھے کہ تمہاری بیویوں کے متروکہ مالِ وراثت میں سے نصف مال تمہارے حصہ میں آئے گا بشرطیکہ پہلے شوہر سے اُن کی اولاد موجود نہ ھو لیکن اگر اُن کی اولاد موجود ھو تو تمہاری بیویوں کے متروکہ مال میں سے وصیت کی تکمیل اور قرض کی ادائگی کے بعد تُم چوتھے حصے کے حق دار ھو ، اسی طرح تمہارے متروکہ مالِ وراثت میں تمہاری بیویاں چوتھے حصے کی حق دار ہیں بشرطیکہ تمہاری اولاد موجود نہ ھو اور اگر تمہاری اولاد ھو تو تمہاری وصیت کی تکمیل اور تمہارے قرض کی ادائگی کے بعد تمہارے متروکہ مالِ وراثت میں سے آٹھویں حصے پر تمہاری بیویوں کاحق ھو گا اور بے اولاد مرنے والے کے متروکہ مال کی تقسیم اِس طرح ھوگی کہ اگر مرنے والا مرد یا مرنے والی عورت ایک کلالہ ھے جس کی کی کوئ اولاد تو نہیں ھے لیکن اُس کا ایک بھائ اور ایک بہن موجود ھے تو اُس کلالہ مرد یا عورت کا مالِ وراثت میں اُس کے بھائ اور بہن میں سے ہر ایک چھٹے حصے کا حق دار ھو گا لیکن اُس مرد یا عورت کے بہن اور بھائ ایک سے زیادہ ہیں تو وہ سارے کے سارے کلالہ کے متروکہ مال میں سے ایک تہائ مال کے مالک ھوں گے اور یہ تقسیم کلالہ مرد یا کلالہ عورت کے قرض کی ادائگی اور اُس کی وصیت کی تکمیل کے بعد ھوگی بشرطیکہ اس وصیت سے کسی کی حق تلفی نہ ھو تی ھو اور یاد رکھو کہ وراثت کے یہ حصے اللہ نے مقرر کیئے ہیں جو علم و حکمت کا مالک ھے !
🌷 وارث میراث اور تقسیمِ میراث ! 🌷
والدین سے وراثت لینے اور اٙولاد کو وراثت دینے کے سلسلہِ کلام کی پہلی آیت سورةُالنساء کی آیت سات ھے جس میں اُن دو مرد و زن کی Money Trail پیش کی گئ ھے جنہوں نے اپنے والدین سے مالِ وراثت لیا تھا ، پھر آیت گیارہ میں آیت سات کے اُن ہی دو مثالی مرد و زن میں سے مرد کو یہ حکم دیا ھے کہ جس طرح تیرے والد نے ھمارے اٙحکام کے مطابق اپنا مالِ میراث تجھے منتقل کیا ھے اسی طرح تُو نے بھی ھمارے اٙحکام کے مطابق اپنا مالِ میراث اپنی اٙولاد کو منتقل کرنا ھے اور اٙب آیت بارہ میں آیت سات کے اُن ہی دو مثالی مرد و زن میں سے عورت کو بھی یہی حکم دیا ھے کہ جس طرح تیرے باپ نے ھمارے اٙحکام کے مطابق تجھے اپنے مالِ میراث کا وارث بنایا تھا اور پھر تیرے شو ہر نے بھی ھمارے اٙحکام کے مطابق اپنی اولاد کو اپنی میراث کا وارث بنایا ھے اسی طرح تُو بھی ماضی میں اپنے باپ سے ملنے والے مالِ میراث کو مستقبل کے اُن وارثوں کو منتقل کرنا ھے جن کو ہمیشہ ہر خاندان اپنا مالِ میراث منتقل کرتا رہا ھے کیونکہ میراث ایک امانت ھے جو اسی طرح پر ایک نسل سے دوسری کو نسل در نسل منتقل ھوتی رہتی ھے ، والدین کا سب سے زیادہ قلبی اور قریبی رشتہ اٙولاد کے ساتھ ھوتا ھے ، اولادہ نہ ھو تو سب سے زیادہ قلبی اور قریبی رشتہ ایک دوسرے کے ساتھ ھوتا ھے اور اللہ تعالٰی نے انسان کے اس فطری تعلق کے عین مطابق پہلے والدین کے لیئے اٙولاد کو میراث منتقل کرنے کا اصول بیان کیا ھے اور اِس کے بعد شوہر و بیوی کے ایک دوسرے کو اپنی اپنی میراث کا وارث بنانے کا قاعدہ بتایا ھے تاکہ جو مورث جب بھی کسی وارث کو میراث نتقل کرے تو وہ قُرآن کے اِن اٙحکام کے مطابق منتقل کرے جو اللہ نے اپنی اِن آیات میں بیان کیئے ہیں !
🌷 تقسیمِ میراث کے قانونی ادارے ! 🌷
میراث کے محولہ بالا اٙحکام کے حوالے سے سب سے پہلے ھم اِس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائیں گے کہ عھدِ نبوی سے قبل شخصی جاگیروں اور انفرادی جائدادوں کا دائرہ بہت وسیع تھا لیکن نزولِ قُرآن کی تکمیل اور اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد میراِث اور تقسیمِ میراث کا دائرہ سونے چاندی ، گھوڑے اونٹ ، بھیڑ بکری اور درھم و دینار تک محدود ھو چکا تھا اور اسی وجہ سے اِس تقسیم میں مورث کے عزیز و اقارب اور معاشرے کے یتیم و مسکین لوگوں کو بھی کچھ نہ کچھ دینے کا حکم دیا گیا ھے جو اِن چیزوں کی اِس آسان تقسیم کے حساس موقعے پر اِن مستحق لوگو کو فوری فائدہ پہنچانے کے لیئے فوری طور پر دیا جا سکتا ھے ، جہاں تک زمین کا تعلق ھے تو وہ اِن اٙحکام سے پہلے ہی ایک اجتماعی قومی وراثت کے طور پر حکومت کے قبضے میں آچکی تھی اور حکومت ہی اپنی کسی صوابدید کے مطابق کسی شخص کو کوئ قطعہِ زمین عارضی طور پر دینے اور واپس لینے کا اختیار رکھتی تھی ، یہی وجہ ھے کہ قُرآن کے اٙحکامِ بالا میں تقسیمِ زمین کا کوئ حوالہ موجود نہیں ھے اور یہی وجہ ھے وصالِ نبوی کے بعد سیدہ فاطمہ باغِ فدک کے قبضہ و ملکیت کا معاملہ دربارِ خلافت میں لے کر گئ تھیں کیونکہ شخصی اجارہ داری عھدِ نبوت میں ختم ھوچکی تھی اور موجود جاگیر داری کو بتدریج حکومت کے دائرہ اختیار میں لایا جا رھا تھا اور غالبا رسول اللہ کا وہ مبینہ باغ بھی اسی قانون کے تحت اسلامی حکومت کی تحویل میں دیا گیا تھا جس کا سیدہ فاطمہ نے مطالبہ کیا تھا ، باغِ فدک اور اِس کی تاریخ سے ھمارا کچھ لینا دینا نہیں ھے لیکن سیدہ فاطمہ کا مطالبہ ھمارے اِس دعوے کی ایک تاریخی دلیل ھے کہ عھد نبوی اور عھدِ خلافتِ راشدہ میں زمین اللہ کی امانت کے طور پر اسلامی حکومت کی تحویل میں آچکی تھی اور کوئ مُسلم مرد یا عورت اگر کسی خاص حصہِ زمین پر کسی خاص حوالے سے کوئ خاص دعوٰی رکھتا تھا تو اُس کا اسلامی حکومت سے رجوع کرنا لازم ھوتا تھا اور اسی خاص حوالے سے سیدہ فاطمہ نے بھی دربارِ خلافت سے رجوع کیا تھا !
🌷 ھمارا دعوٰی اور قُرآنی دلیل ! 🌷
گزشتہ سلسلہِ کلام میں ھم نے وراثت میں عورت کے حقِ وراثت میں مرد سے پہلے حصہ پانےاور مرد کے برابر حصہ پانے کا جو دعوٰی کیا ھے اُس دعوے کی بنیاد آیت گیارہ میں وارد ھونے والا تین لفظی مرکب ” مثل حظ الانثیین ” ھے جس سے ھم نے یہ مفہوم اخذ کیا ھے کہ تقسیم کے مال میں تمہارے بیٹے کا بھی اتنا ہی حصہ ھے جتنا تُم اس سے پہلے اپنی دو بیٹیوں کو دے چکے ھو اور اِس مفہوم کی کلید جو حرف ” مثل ” ھے اُس کی ھم پہلے ہی توضیح اور تشریح کر چکے ہیں ، دلیلِ مزید کے طور پر اس اٙمر کی دوسری دلیل یہ ھے کہ موجودہ آیت میں علمائے مجوس کے ترجمے کے مطابق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا ھے کہ ” جو مرد یا عورت کلالہ ھو یعنی اُس کا باپ بیٹا نہ ھو ، اس کا ایک بھائ یا ایک بہن ھو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چٙھٹا حصہ ھے ” جو کہ دونوں کے لیئے برابر برابر ھے ، یعنی وہی چھٹا حصہ بھائ کا ھے جو بہن کا ھے اور وہی چھٹہ حصہ بہن کا ھے جو بھائ کا ھے ، اگر بہن کا حصہ بھائ سے نصف ھوتا تو کلالہ کی بہن کا حصہ کلالہ کے بھائ کے برابر ہرگز نہ ھوتا اور کلالہ کے بھائ کا حصہ بھی کلالہ کی بہن کے برابر نہ ھوتا !

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے