Home / اسلام / قُرآن کا قانونِ وراثت ! 🌷 (حصہ 4 ) 🌷

قُرآن کا قانونِ وراثت ! 🌷 (حصہ 4 ) 🌷

🌷 #العلمAlilm 🌷
علمُ الکتاب ! 🌷
((( النساء ، اٰیت 11 ))) 🌷
قُرآن کا قانونِ وراثت ! 🌷 (حصہ 4 ) 🌷
ازقلم 🌼🌼🌼اخترکاشمیری
🌷 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌷🌷🌷
🌷 برائے مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیئر کریں !! 🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
🌷اٰیت و مفہومِ اٰیت ! 🌷
🌷 یو صیکم اللہ فی اولادکم للذکر
مثل حظ الانثیین فان کن نساء فوق الثنتین فلھن ثلثا
ماترک و ان کانت واحدة فلھاالنصف ولابویہ لکل واحد منھماالسدس مماترک
ان کان لہ ولد فان لم یکن لہ ولد وورثہ ابوٰہ فلامہ الثلث فان کان لہ اخوة فلامہ السدس من بعد
وصیة یوصٰی بھا او دین اٰبائکم و ابنائکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا فریضة من اللہ ان اللہ کان علیما حکیما 11
اولاد میں میراث تقسیم کرنے کے بارے میں اللہ تعالٰی تمہاری یہ رہنمائ کرتا ھے کہ تمہارے تقسیم ھونے والے مالِ میراث میں تمہارے بیٹے کا بھی اِتنا ہی حصہ ھے جتنا تُم پہلے ہی اپنی ایک ایک بیٹی کو فردا فردا دے چکے ھو ، اگر حقِ وراثت لے لینے والی اِن دو بیٹیوں کے بعد تمہاری مزید بیٹیاں بھی موجود ہیں تو اِس تقسیم کے بعد ان کے لیئے بچے ھوئے مالِ وراثت میں سے تیسرا حصہ ھے اور اگر صرف ایک بیٹی ھے تو مابقیہ مالِ میراث کا نصف حصہ اس کا ھوگا اور ورثہ چھوڑنے والے کے والدین میں سے ہر ایک کے حصے میں ترکے کا چٙھٹا حصہ آئے گا بشرطیکہ ترکہ چھوڑنے والے کی اولاد بھی موجود ھو ، اگر اُس کی اولاد موجود نہ ھو اور والدین ہی اُس کے وارث ھوں تو ترکہ ترک کرنے والے کی ماں کو ترکے کا تیسرا حصہ ملے گا ، البتہ اگر اُس کے بھائ موجود ھوں تو پھر ماں چھٹے حصے کی وارث ھو گی ، یہ سارے حصے مورث کی وصیت کی تکمیل اور اُس کے قرض کی ادائگی کے بعد تقسیم ھوں گے ، تُم نہیں جانتے کہ تمہارے نسبی باپ یا نسلی بیٹوں میں سے کس کا رشتہ اور کون سا رشتہ قلبی طور پر تُم سے کتنا زیادہ قریب ھے یا تم کو کتنا زیادہ نفع پہنچا سکتا ھے ، اس لیئے تمارے مالِ وراثت کو اللہ تعالٰی نے خود ہی انصاف کے ساتھ درجہ بہ درجہ تقسیم کردیا ھے اور ہر تحقیق سے اِس اٙمر کی بھی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ تعالٰی پہلے ہی سے اپنے ہر ایک کام علم رکھتا ھے اور اپنے ہر ایک کام کی حکمت و مصلحت کو بھی جانتا ھے !
🌷 انسانی نسلوں اور زمینی فصلوں میں عورت کا کردار ! 🌷
سُورةالنساء کا موضوعِ سُخن عورت ھے اور موضعِ سُخن کے حوالے سے اِس سورت کا نام بھی عورت ھے ، سُورةالنساء کی پہلی آیت کے پہلے حرفِ سُخن کے مطابق عورت زمین پر مرد سے پہلے پیدا ھوئ ھے اور عورت نے زمین پر مرد سے پہلے زندگی کی پہلی سانس لی ھے ، عورت اللہ کی تخلیقِ اٙوّل ھونے کے اسی اِعزاز و اِعجاز کی بنا پر اٙزل سے اٙب تک باپ کی بیٹی ، شوہر کی بیوی ، بیٹے کی ماں ، بھائ کی بہن اور انسانی معاشرے کے ہر فرد کو جنم دینے والی ہستی کے طور پر جانی جاتی ھے ، سر زمینِ مصر و عراق ، سر زمینِ سندھ و فو نیقیا اور سر زمینِ یونان و انا طولیہ وغیرہ سے عورت کی جو قدیم مورتیاں دریافت ھوئ ہیں ، اُن مورتیوں سے ماہرینِ ارضیات نے یہ نتیجہ اخذ کیا ھے کہ زمین سے پہلے پہل اجناسِ خوردنی کا پہلا دانہ عورت نے پایا اور عورت نے اُگایا ھے اور اسی کے دستِ نازک سے زمین پر فنِ زراعت کا آغاز ھوا ھے اور اسی بنا پر ماہرینِ عمرانیات نے عورت کو مادرِ زمین کا لقب دیا ھے کیونکہ عورت انسانی نسلوں ہی کی ماں نہیں ھے بلکہ انسانی نسلوں کو زندگی دینے والی فصلوں کی بھی ماں ھے ، انسان کی زبان اور قُرآن کے بیان سے ھمارے زمان و مکان تک ھارے فہم کو ھماری تفہیم کے مطابق جو معلومات میسر آئ ہیں اُن میسر معلومات مطابق ھم کسی تردد کے بغیر اِس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ عورت زمین پر پیدا ھونے میں اول ھے ، زمین پر خوراک پانے میں اول ھے ، زمین پر خوراک اُگانے میں اول ھے ، زمین پر و سائلِ حیات پُہچانے میں اول ھے اور زمین پر اہلِ زمین سے اپنا حقِ وراثتِ پانے میں بھی اول ھے اور اِس لیئے قُرآنِ کریم نے بھی وراثت کی تقسیم میں عورت کو مرد سے پہلے رکھا ھے لیکن عورت کے وراثت میں پہلے ھونے سے پہلے ھم آیتِ میراث کے اُس پہلے حُکم کا جائزہ لیں گے جس میں اللہ نے انسان کو انسان کے بارے میں ایک وصیت اور نصیحت کی ھے !
🌷 قُرآن کا قانونِ وصیت برائے اٙولاد ! 🌷
آیتِ میراث کی ترتیبِ کلام میں اللہ کا سب سے پہلا حُکم ” یو صیکم اللہ فی اولادکم ” ھے جس میں پہلا لفظ یُوصی اور دوسرا لفظ اٙولاد ھے ، وصیت وہ حقیقت ھے جو قبل اٙز وقت کی جاتی ھے اور بعد اٙز وقت کے لیئے کی جاتی ھے اور وصیت جن دو طرح کے لوگوں کے لیئے کی جاتی ھے اُن میں پہلے لوگ تو وہ ھوتے ہیں جن کے وارث بننے میں مرنے والوں کی زندگی رکاوٹ بنی ھوئ ھوتی ھے اور دوسرے لوگ وہ ھوتے ہیں جن کے حقِ وارثت کے سامنے اُن کی اپنی ہی کم عمری ایک پہاڑ بن کر کھڑی ھوجاتی ھے ، اِن دو جماعتوں کی مشکل کو آسان بنانے کے لیئے اللہ تعالٰی نے انسان کو جو وصیت کی ھے وہ بھی انسان کی موت سے پہلے کی ھے اور انسان کی موت کے بعد کے لیئے ھے تاکہ جس انسان کو یہ وصیت کی جا رہی ھے وہ مرنے سے پہلے اپنی بالغ و باشعور زرینہ و نرینہ اولاد کو اپنی وراثت کا وارث بنائے اور اپنی نابالغ زرینہ و نرینہ اولاد کے لیئے اللہ کی اِس وصیت کے مطابق کوئ تحریری وصیت کر کے دُنیا سے اپنی احتساب گاہ میں جائے ، اللہ نے اپنی اِس وصیت میں انسان کو اپنے خطاب کا مخاطب بنا کر یہ حکم دیا ھے کہ تم مرنے سے پہلے اپنی شعور و بلوغ کو پہنچنے والی اولاد کو اپنا وارث بنانے کا اور اپنی کم عمر اولاد کو بالغ و با شعور ھونے کے بعد اپنے ترکہِ وارثت کا وارث بنانے کے لیئے کسی قانونی دستاویز کا انتظام کر لیا کرو تاکہ تمہاری اچانک موت واقع ھو جائے تو تمہاری بالغ اور نابالغ اولاد تمہاری موت کے غیر معمولی سانحے کے علاوہ کسی دوسرے غیر معمولی حادثے سے دو چار نہ ھو جائے ، آیت ھذا کے آغاز میں یُوصی کے بعد آنے والا دوسرا جانا پہچانا لفظ اولاد ھے ، اٙولاد مصدر ولد کی جمع ھے جو مصدر ” اللدہ ” سے صادر ھوا ھے ، اِس واحد و جمع میں تثنیہ ، تذکیر و تانیث ، ایک زمانے ، ایک عمر ، اور ایک وقت میں پیدا ھونے والے جُڑواں اور غیر جُڑواں افرادِ مرد و زن بھی شامل ھوتے ہیں اور وہ افراد بھی شامل ھوتے ہیں جن پر مرد و زن کا اطلاق نہیں ھوتا لیکن یہ سارے لوگ وارث کے وراثت میں شاملِ وراثت ھوتے ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے