Home / اسلام / اِنسانی حیات کی خِشتِ اٙول ! 🌷 (حصہ 7

اِنسانی حیات کی خِشتِ اٙول ! 🌷 (حصہ 7

🌷#العلمAlilm 🌷 علم الکتاب !
🌷 ((( النساء ، آیت 1 )))
🌷 اِنسانی حیات کی خِشتِ اٙول ! 🌷 (حصہ 7 ) 🌷 🌷ازقلم
🌷اخترکاشمیری
🌷 علم الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اٙفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌷🌷🌷
🌷 برائے مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیئر کریں !! 🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
🌷آیت و مفہومِ آیت ! 🌷
🌷یٰایھاالناس
اتقوا ربکم الذی خلقکم
من نفس واحدة و خلق منھا زوجھا
وبث منھما رجالا و کثیرا ونساء واتقوا اللہ
الذی تسائلون بہ والارحام ان اللہ کان علیکم رقیبا 1
اے محبت کے ساتھ پیدا کیئے گئے اور محبت کے لیئے پیدا کیئے گئے لوگو ! اپنے پیدا کرنے اور پروان چڑھانے والے اس مالک و مربی کے ساتھ ہرگز کبھی سرکشی نہ کرنا جس نے تمھاری پہلی تخلیق کے لیئے پہلے ایک نفسِ واحدہ Single female sell پیدا کیا ، پھر اس Single female sell سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر اس زنانہ و مردانہ جوڑے کے ( D . N . A ) Ribonucleic Acid سے بہت سارے مرد وزن پیدا کر کے زمین پر پھیلادیئے ، اس لیئے تم اپنے اس مہربان اللہ سے ہرگز ہرگز بغاوت نہ کرنا جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے اپنے لیئے ارحام کے رشتے طلب کرتے ھو اور ہر تحقیق سے اس اٙمر کی بھی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیئے تمھارے اعمالِ کار پر نگاہ دار ھے !
🌷 قُرآن کی تین تٙخلیقی اِصطلاحات ! 🌷
سورةُ النساء کی پہلی آیت کے خاتمہِ کلام کا خلاصہِ کلام یہ ھے کہ اس سورت کی پہلی آیت میں انسانی تخلیق کے پہلے مرحلے کے پہلے حوالے سے عورت کا مرد سے پہلے وجود پانے کا اور مرد کا عورت کے بعد وجود میں آنے کا ” نفسِ واحدة ” کے عُنوان سے جو مضمون یہاں بیان ھوا ھے سورة الاعراف کی آیت 189 اور سورة الزمر کی آیت 6 میں بھی وہی مضمون بیان ھوا ھے اور اِس فرق کے ساتھ بیان ھوا ھے کہ سورة النساء کی پہلی آیت میں آنے والے “نفسِ واحدة” کے مضمون میں وارد ھونے والے لفظِ ” خٙلق ” کو زیادہ نمایاں کیا گیا ھے تو سورہِ اعراف و سورہِ زُمر کی دوسری دو آیات میں دو بار آنے والے لفظِ “جعل” کو زیادہ اُجاگر کیا گیا ھے ، قُرآنِ کریم نے اپنے اٙوراق میں کم و بیش 237 بار وارد ھونے والی اِصطلاحِ خلق کو اللہ تعالٰی کی تخلیق کے اُس پہلے فارمولے کے لیئے استعمال کیا ھے جس کو اللہ نے کسی خام مال یا کسی سابقہ چیز کے نمونے کے بغیر بنایا ھے جیسا کہ مُحولہ بالا تین آیات کے مطابق اللہ تعالٰی نے عورت کو بنایا ھے اور قُرآنِ کریم نے اپنے اٙوراق میں کم و بیش 427 بار استعمال ھونے والی اصطلاحِ “جعل” کو اللہ کے اُس دوسرے تخلیقی فارمولے کے لیئے استعمال کیا ھے جس کو اللہ تعالٰی نے کسی پہلی تخلیق کے بعد دوسری تخلیق کے طور پر یا کسی پہلے وجود کے بعد دوسر وجود کے طور پر پیدا کیا ھے جیسا کہ متذکرہ بالا تین آیات کے مطابق اللہ نے عورت کی پہلی تخلیق کے بعد مرد کو دوسری تخلیق کے طور پر اور پہلے وجود کے بعد دوسرے وجود کے طور پر پیدا کیا ھے ، اللہ تعالٰی کی اِس” تخلیقی ” و ” تجعیلی” مخلوق کے زنانہ و مردانہ اتصال سے جو نسِلِ انسانی پیدا ھو کر زمین میں پھیلی ھے اور پھیل رہی ھے ، اس کے لیئے قُرآنِ کریم نے خٙلف و خلیفہ اور خلفاء کی اصطلاحات استعمال کی ہیں ، سورة البقرہ کی آیت 30 میں آدم علیہ السلام اور سورہِ ص کی آیت 26 میں داود علیہ السلام کو اسی حوالے سے خلیفہ کہا گیا ھے ، سورہِ انعام کی آیت 165 ، سورہِ اعراف کی آیت 69 ، سورہِ یُونس کی آیت 14 و 73 ، سورہِ فاطر کی آیت 39 اور سورة النمل کی آیت 62 میں دوسرے نسلِ انسانی کے اٙفراد کو بھی اسی حوالے سے ” خلفاء ” کہا گیا ھے ، آیت ھٰذا کے اس مضمون کا ماحصل پیش کرنا چاہیں تو سورہِ نساء کی پہلی آیت اور دوسری دو سورتوں کی دوسری دو آیات کے مشترکہ مضمون سے یہ مربوط اور مضبوط بات سامنے آتی ھے کہ اللہ نے عورت کے وجود کو اپنے مُجرد ارادے کے تحت مرد کے وجود سے پہلے پیدا کیا ھے ، مرد کے وجود کو عورت کے کے وجود کے بعد پیدا کیا ھے اور عورت کے وجود سے پیدا کیا ھے ، اِن ہی پہلے پیدا ھونے والے دو افرادِ مرد و زن کے بعد نسلِ انسانی کے جتنے بھی افراد ھوئے ہیں اور ھو رھے ہیں وہ ان ہی دو افرادِ مرد و زن کی اٙولاد ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے